روزگار کی تلاش میں 

روزگار کی تلاش میں 

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد جان رحمت جان 

سکول وکالج کی زندگی سے گزر کر کلیم کو روزگارکی غم نے گیرلیا۔ تعلیمی سفر میں روز روز نئے اسباق پڑھنے کو ملتی تھی اب عملی زندگی میں ان کا عمل دخل بھی شروع ہوگیا۔ ایک دن خیال آیا کہ روزگار کی تلاش میں دور شہر تک جانا چاہئے۔ وہ اکثر شہروں کے بارے میں سنتے تھے کہ وہاں روزگار کے مواقع زیادہ ملتے ہیں۔سامان سفر لیکر شہر کی سفر کی نیت سے نکل پڑے۔ بس اسٹیشن پر انتظار کی وجہ سے ان کو بھوک لگ گئی۔ وہ کھانے کے لئے کسی ہوٹل کی تلاش میں نکلا۔ گھنٹوں محنت کے باوجود کوئی ہوٹل دور دور تک نظر نہیں آیا۔ وہ پریشان تھا کہ بھوکے پیاسے سفر کیسے کریں؟ وہ سوچتا رہا اچانک ان کے خیال میں اردو کے استاد یاد آگئے جس نے اُن کو نصیحت کی تھی کہ’ روزگار کے لئے کہیں جانے سے پہلے اپنے علاقے میں ہی مواقع کی تلاش کرو‘۔ کلیم نے سوچا کہ اس بس آڈے پر ہوٹل کہ ضرورت ہے۔ مجھ جیسے سینکڑوں مسافر کھانے پینے کی تلاش کرتے ہونگے۔ مجھے شہر جانے کی بجائے گھر کے قریب اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس نے اپنا ارادہ بدل لیا اور واپس گھر آگئے۔ اگلے دن اپنے چند دوستوں اور عزیزوں سے اپنے منصوبے کا ذکر کیا اور بس اڈے پر ہوٹل کی تیاری شروع کردی۔ اڈے کے ذمہ داروں سے بات کرنے کے بعد ہوٹل چلانا شروع کیا۔ اڈے میں ہوٹل کی موجودگی سے مسافر بہت خوش ہوگئے اور دن دگنی رات چوگنی ان کی کاروبار میں ترقی ہوتی گئی۔ وہ بہت خوش تھے کہ اُن کے اپنے دیس میں روزگار کا موقع مل گیا ۔ اُس نے اپنے کاروبار کو وسعت دی اور اپنے بہت سے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ اُن کی اس کاروبار کو دیکھ کر بہت سے اور نوجوانوں نے اس شعبے سے وابستگی اختیار کی ۔ یوں اڈے کے آس پاس ہوٹل بننے لگے۔ اس کاروبار میں مقابلے کی وجہ سے گاہک کو ہر قسم کے ہوٹل میسر آئے۔ ہر آدمی کو اُس کی بساد کا ہوٹل مل گیا۔

کسی زمانے میں لوگ ہم پیشہ لوگوں کے آمد سے ڈرتے تھے کہ ان کی کاروبار خراب ہوگی انہوں نے وہ تصور بھی ختم کیا۔ مقابلے کا زمانہ ہے جو اچھی خدمت دے گا لوگ اسکے ساتھ تعاون کرنگے۔ حسد یا دکھ کی بجائے ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنا چاہئے۔ بقول تلوک چند محروم ؛

’اہل ہمت کا ہے خود حامی خدا ، برکتیں ہوتی ہیں نازل کام سے
عزتیں محنت سے پا جاتے ہیں لوگ، مرتبے ہوتے ہیں حاصل کام سے‘

اس کہانی سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ عموماََ لوگ روزگار کی تلاش میں زندگی بھر پردیس میں رہتے ہیں اور اپنے علاقے کے مواقوں سے کم فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تعلیم وتربیت کے بعد نوجوانوں کو مایوس ہونے کی بجائے ہمت سے کام لینا چاہئے۔ملازمت ہی میں سب کچھ نہیں بلکہ کاروبار اور محنت سے انسان اپنے جیسے کئی انسانوں کو روزگار فراہم کرسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کاروباری لوگ اپنی محنت سے اوروں کو بھی مستفید کرتے ہیں۔ کارخانے دار ہو یا دیگر کاروبار کے مالکان یہ نہ صرف خود کماتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار کے مواقع پہنچاتے ہیں۔ ملازمت سے انسان صرف اپنی فمیلی کو سنبھال سکتاہے جبکہ مشترکہ کاروبار سے کئی خاندان مستفید ہوسکتے ہیں۔ بقول شاعر

’خورشید و ماہ انجم تاباں ہیں کام میں ، مصروف ہیں کسی نہ کسی انصرام میں ‘

آج کے زمانے میں بھی بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں در پدر ہوجاتے ہیں لیکن اپنے علاقے کی مواقعوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں۔ محنت مزدوری کو گھر کی دہلیز پر کوئی کرنے کو تیار نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں جاکر کام کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پہلے زمانے میں ٹرانسپورٹ میں کرایے کم لگتے تھے۔ پردیس میں مکان بھی مناسب ریٹ پر ملتی تھی لیکن آج کل یہ تمام چیزیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ہم اپنے علاقوں میں جب جاتے ہیں تو گلہ کرتے پھرتے ہیں اس علاقے میں یہ نہیں وہ نہیں۔ خود اُن چیزوں کا انتظام نہیں کرتے ہیں۔ یہ شہر اور قصبے بھی لوگوں نے ہی آباد کیا ہے۔ آج بڑے بڑے گاؤں میں موبائل شاب‘ الیکٹرانک شاب‘ کپڑے‘ سیٹشنری‘ بوٹ‘ فوٹوکاپیئر ‘فوٹو شاب‘ ہاٹ ویئر کی دکان‘ کیفے ٹیریا‘ نیٹ کیفے‘ کمپوٹر سنٹر یا پرنٹ ‘ جنرل سٹور‘ درزی‘ پلمبر‘ آرٹسٹ‘ پینٹر‘ مستری‘ ترکھان‘ کلینک‘ کھیلوں کے سامان اور کراکری کے سامان سمیت کیا کیا مواقع موجود ہیں لیکن ہم ان مواقعوں سے استفادہ حاصل نہیں کرتے ہیں۔ہمارا گاؤں بھی آج ان سب چیزوں کا متقاضی ہے۔ سکول کالج اور تعلیمی ضروریات کے لئے لوگ سینکڑوں دور شہر تک جاتے ہیں۔ اگر ہم چھوٹے سرمایے سے ہی ان شعبوں میں سے کسی پر کام شروع کرے تو وزگار اپنے دہلیز پر ہی مل سکتی ہے۔ آج گلگت بلتستان کے ہر ویلی میں سیاح آتے ہیں اور ان کو سیر سپاٹے کے بعد آرام اور رہائش کے لئے مناسب ہوٹلوں یا گیسٹ ہاوئسس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس موقع سے ہم فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ان سب مواقعوں سے ہم تب مستفید ہوسکتے ہیں جب ہماری اخلاق اور تربیت اچھی ہو۔ راتوں رات امیری کا خواب نہ ہو اورکاروبار انصاف اور لین دین میں خلوص ہو۔ ہمارے علاقوں میں لوکل اور انٹرنیشنل میں تمیز نہیں ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہوٹل میں صرف سیزن میں ہی لوگ آتے ہیں۔ اپنے وہاں آنا تو دور کی بات دروازے تک بھی نہیں آسکتے۔ بحرحال موقع سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ موقع پاکر ہاتھ صاف کریں بلکہ اپنے روزگار کے لئے مناسب رویے کے ساتھ محنت کرنا چاہئے۔ یہ ہمارے علم میں ہے کہ ؛

فارغ جہاں میں کوئی نہیں کام کاج سے
مجبور ہے ہر ایک جہاں کے رواج سے

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے لئے ایمانداری اور محنت سے روزگار حاصل کرنے کی توفیق دے دیں۔ امین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔