بروشاسکی زبان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ

بروشاسکی زبان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے متحرک قوم پرست تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ کے خود ساختہ جلاوطن چیئرمین عبدالحمید خان کی اپنی مادری زبان بروشاسکی میں لکھی جانے والی تازہ تصنیف ( یسین بروشاسکی ) ان کے ایک قریبی ساتھی اور پارٹی ورکر کے توسط سے پڑھنے کو ملی۔ کتاب کے اندر انہوں نے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں کثرت سے بولی جانے والی اس زبان کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اپنی مادری زبان کی افادیت واہمیت سے متعلق شعوروآگاہی دینے کی بھرپور کوشش کی ہیں۔

عبدالحمید خان کا تعلق یاسین کے گاؤں بھرکولتی کے بروشو قبائل یعنی غولبشیرے خاندان سے ہے جسے ہلبیتنگے بھی کہا جاتا ہے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ یاسین کے قدیم پشتنی باشندے ہیں اور صدیوں سے اس علاقے میں آباد ہیں اس لئے یہ خاندان یاسین کی مٹی کے پیداوار (بومکی )کے نام سے جانا جاتاہے۔ اس خاندان کی ایک نسل یاسین سے ہجرت کرکے نگر میں آباد ہیں جنہیں شیرالیاٹ کہا جاتا ہے ، جبکہ ایک نسل چترال میں پنین شوے، ایک پھنڈر غذر میں حکیمیے کے نام سے مشہور ہے. اسی خاندان کا ایک بزرگ1850کی دہائی میں یاسین سے ہجرت کرکے ہمسایہ ملک چین کے شہر یرقند میں آباد ہوا تھا جہاں پر اب بھی اسی خاندان کی اچھی خاصی آبادی موجود ہے۔

SAFDAR ALI SAFDARعبدالحمید خان بنیادی طور پر ایک سیاسی کارکن ہیں اورعرصہ دراز سے یورپ میں بیٹھ کر عالمی سطح پرگلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی مادری زبان اور علاقائی تہذیب وتمدن کی ترویج اور خاص طور پر اپنے ابائی علاقے یاسین کی ثقافت اور بروشاسکی زبان کے حوالے سے کام کرنے میں انتہائی پرجوش نظر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان سے متعلق ان کے قوم پرست نظریے جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے البتہ اس نظریے کی تکمیل اور دیرینہ مطالبات پر عملدرآمد کرانے کے حوالے سے ان کی حکمت عملی سے بہت ساروں کو اختلاف ہوسکتاہے۔ ان پر با اثر حلقوں کی جانب سے سنگین قسم کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں جبکہ کان کے کچے ہونے کے سبب وہ خود بھی سنی سنائی باتوں پر دوسروں پر الزام تراشیوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ مجھے ان کے نظریے اور مطالبات سے کسی حد تک اتفاق ہے مگر ان کے الطاف حسین طرز کی سیاست سے سخت اختلاف بھی ہے جس کا چند برس قبل ’’صدائے قلب‘‘ کے انہی سطور میں برملا اظہار کرنے پر گلگت میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چند اعلیٰ عہدیداروں نے نہ صرف مجھے زدوکوب کیا تھا بلکہ مجھ پر انتہائی بے بنیاد اور ہتک آمیز قسم کے الزامات عائد کرکے آئندہ کے لئے اس طرح کی تحریروں سے باز رہنے کی تنبیہ  بھی کی تھی.  اس واقعے کا محترم نوازخان ناجی صاحب چشم دید گواہ ہیں۔ میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کے ان دوستوں کی دھمکیوں سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہوا اور آج تک اپنے موقف پر قائم ودائم ہوں کہ عبدالحمید خان صاحب الطاف حسین اور طاہرالقادری کی طرح دیار غیرمیں بیٹھ کر گلگت بلتستان کی عوام کو بنیادی آئینی حقوق دلاسکتے ہیں اور نہ ہی آزاد ریاست کے قیام کا ان کا یہ خوب پورا ہوسکتا ہے ۔بہرحال یہ ایک الگ کہانی ہے اور آج کی اس تحریر کا موضوع اس سے ہٹ کر ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ یاسین کی ثقافت اور بروشاسکی زبان کی ترویج کے حوالے سے عبدالحمید خان کی ادبی کاوشوں اور ان کی اس نئی تصنیف پر ہی اظہار خیال کیا جائے۔

میں نے ( یسین بروشاسکی ) کے نام سے اس کتاب کا تفصیل سے مطالعیہ کیا۔ کتاب کا ٹائٹل دونوں اطراف سے اتہائی دلکش، خوبصورت اور اعلیٰ میعار کے عین مطابق ہے جس پر صاحب کتاب اور پبلشر برادر محترم جناب ڈی جے مٹھل صاحب نے مختلف تصاویر کے زریعے یاسین کی تاریخ،جغرافیہ،محل وقوع، ادب،ثقافت،قدیم روایات،تہذیب وتمدن اور قدرتی حسن کو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق ترتیب دیا ہے جو پڑھنے والے کو خودبخود کتاب کے اوراق کھولنے پر مجبور کردیتا ہے۔ کتاب کے اولین صفحات پر دونوں اطراف سے مصنف نے تین زبانوں یعنی بروشاسکی،اردو اور انگریزی میں یاسین کی تاریخی وجغرافیائی حیثیت ، بروشاسکی زبان کا ارتقاء، عالمی سطح پر اس زبان کی اہمیت اور بروشاسکی زبان کی مختلف بولیوں(ڈالیکٹس) کا بھی تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ جبکہ کتاب کے پبلشرو معروف صحافی ڈی جے مٹھل صاحب نے مصنف کا مختصراً خاندانی تعارف اور بروشاسکی زبان کی افادیت واہمیت کا بغور جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے عظیم دانشور، قلمکار، ادیب ، ماہر لسانیات اور محقق جناب شیرباز علی برچہ صاحب نے بھی’ پیش گفتار’کے عنوان سے بروشاسکی زبان سے متعلق انتہائی خوبصورت اور جامع انداز میں اپنے تاثرات اور تجاویز کچھ اس انداز میں قلمبند کئے ہیں :

“زبانیں قوموں کی شناخت ہوتی ہیں اگر ان کی مناسب انداز سے حفاظت نہ کی جائے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی بروشاسکی زبان کو عظمت رفتہ دلوانے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے پہلے قدم کے طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں یاسین،نگر اور ہنزہ کی نمائندگی ہو پھر سکالرز کی نشاندہی کے بعد انہیں بروشاسکی زبان کے مختلف پہلوؤں پر مقالے لکھنے کو کہا جائے تیسرے مرحلے میں ان مقالوں کی اشاعت کا بندوبست کیا جائے یہی وہ طریقے ہیں جس سے شارٹ ٹرم نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں”۔

کتاب کے مصنف عبدالحمید خان صاحب کتاب کے ابتدائیہ میں بروشاسکی زبان میں کتاب لکھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”مجھے اپنی مادری زبان بروشاسکی پر قلم اٹھانے کی ترغیب ایشیاء کے عظیم صنعتی ملک جاپان کے اسلام آباد میں مقیم سفارتکار جناب مامیاکین ساکو((Mamiya Kensaku کے بروشاسکی سیکھنے کی خواہش کے اظہار سے ملی جب انہوں نے مجھ سے بروشاسکی سیکھنے کے لئے کتاب کا تقاضا کیا کیونکہ بروشاسکی سیکھنے کے لئے کوئی کتاب میری نظر میں موجود نہیں تھی جس وجہ سے مجھے مامیا سے وعدہ نبھانے کے لئے خود ہی قلم اٹھانا پڑا جس کے لئے میں نے انگریزی حروف تہجی کا سہارا لیا تاکہمیاکین ساکو((Mamiya Kensaku کی طرح دیگر غیرملکی شائقین کے لئے بھی مفید ہوسکے”۔ حمید خان صاحب مذید لکھتے ہیں کہ “بروشاسکی کے اصل تلفظ کو اردو یا انگریزی سے پرکھنے کی کوشش بروشاسکی کے زوال کا سبب بن رہا ہے جس سے دامن بچانے کی حتی المقدور کوشش کی جائیں۔ میں یسن کے اہل قلم اور ماہرین لسانیات سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ یسن کی بروشاسکی کو اصلی حالت میں لانے کے لئے قلم اٹھائیں، میری غلطیوں اور کوتاہیوں کی تصحیح کریں اور نفسانفسی کے اس ماحول سے نکل کر قومی خدمت کا بھی بارگراں اٹھانے میں ٖفخر محسوس کریں”۔

کتاب کے اندر مصنف نے بروشاسکی لکھائی کے لئے مخصوص حروف تہجی ایجاد کیے ہیں اور الفاظ کی ادائیگی کے طریقے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے . ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مختلف چیزوں کے ناموں اور دیگر الفاظ کو سمجھنے میں مذید آسانی پیداکرنے کے لئے اردو اور انگریزی زبان میں ترجمے کا بھی سہارا لیا ہے جس سے پڑھنے والوں کو بہت حد تک مدد مل سکتی ہے۔ کتاب میں یاسین کی مختلف پہلوؤں سے متعلق تصویری جھلکیاں بھی دیکھائی گئی ہیں جس سے علاقے کی سیاحت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ کتاب کے اندر یاسین کے مشہور ومعروف شاعر( مچھی باپ، مرحوم) ونوجوان شعراء ڈاکٹر عبدالمجید ہیلبی اوربشارت شفیع کی اپنی زبان اور علاقے سے محبت پر مبنی شاعری کو بھی مناسب جگہ فراہم کی گئی ہے جبکہ چند مشہور علاقائی ضرب المثل(متلنگ) کو بھی جگہ دیکر کتاب کو مذید دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جوکہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ عبدالحمید خان صاحب کی یہ کتاب جہاں بہت ساری خوبیوں کی عکاس ہے وہی پر چند خامیاں اور کوتاہیاں بھی کتاب کے اندر موجود ہیں جن کی میں نے پہلے ہی نشاندہی کرکے صاحب کتاب اور پبلشر کوآگاہ کردیا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اگلی تصنیف میں یہ خامیاں دور ہوجائیں گی. تاہم مجموعی طور پر یہ کتاب ہر لحاظ سے قابل تعریف اور کتاب کے مصنف اور پبلشر اس اہم اور انتہائی پیچیدہ ٹاسک کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے پر خراج تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔اسی طرح کی تصانیفکے زریعے ہی بروشاسکی زبان کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

یاسین کی بروشاسکی زبان میں 2006میں یاسین ہندور سے تعلق رکھنے والے معروف قانون دان وزیرشفیع ایڈووکیٹ صاحب نے پہلی مر تبہ بروشاسکی گرائمر پر (بروشاسکی راژون) کے عنوان سے اپنی کتاب شائع کیا جسے قارئین کی جانب سے خوب پزیرائی ملنے پر دوسرے مرحلے میں عبدالحمید خان صاحب کی تصنیف منظر عام پر آگئی جو یقیناً علاقائی ترقی کی علامت ہے ۔ ماہرین لسانیات کے مطابق بروشاسکی ایک الگ تھلگ زبان ہے جس کا ابھی تک دینا بھر میں بولی جانے والی چھ ہزار سے زائد زبانوں میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی تعلق واضح نہیں ہوسکا ہے۔ یہ زبان یاسین، نگر اور ہنزہ میں مختلف بولیوں کی صورت میں کثرت سے بولی اور سمجھی جاتی ہے جبکہ بعض ماہرین کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں بھی بروشاسکی بولنے والوں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ عالمی سطح پر زبان وثقافت اور تعلیم پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کا ادارہ (یونیسکو) کی ایک رپورٹ کے مطابق بروشاسکی کو بھی گلگت بلتستان کی بعض دیگر مقامی زبانوں کی طرح اپنی بقاء کے حوالے سے سخت خطرات لاحق ہیں جس کے لئے نوجوان نسل کو آگئے بڑھ کر کام کرنے، مادری زبانوں کی افادیت واہمیت سے متعلق لوگوں کو شعور وآگاہی دینے اور مادری زبان کے روزمرہ کے استعمال میں اردو اورانگریزی کی امیزش سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ میری بروشاسکی بولنے اور سمجھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرکے اس میں دی جانے والی معلومات سے استعفادہ کریں. اسی طریقے پر عمل پیرا ہوکر آگئے بڑھنے سے ہم بہت جلد ترقی کی طرف بھی گامزن ہوسکتے ہیں کیونکہ دینا میں ترقی حاصل کرنا اگرصرف انگریزی سیکھنے سے مشروط ہوتا توچین، جاپان،جرمنی،سعودی عرب اور ایران ہم سے آگے ہرگز نہ نکل گئے ہوتے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔