ضلع غذر کے حساس سرحدوں سے دہشتگردوں کے داخلے کا خدشہ، سکیورٹی اقدامات میں اضافہ

ضلع غذر کے حساس سرحدوں سے دہشتگردوں کے داخلے کا خدشہ، سکیورٹی اقدامات میں اضافہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
غذر (راجہ عادل غیاث) سیکورٹی خدشات کے پیش نظر افغان بارڈر پر گلگت بلتستان سکاؤٹس کے تعیناتی کا فیصلہ، ملک بھر کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر دہشت گرد گلگت بلتستان کے حدود میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ ایمت چوکی میں جی بی سکاؤٹس کی نفری میں اضافہ کے ساتھ جدید آلات سے بھی لیس کیا جائیگا ۔ درکوت اور لنگر کی سیکورٹی پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ ، ضلع غذر میں پولیس کی نفری میں اضافے کے ساتھ جدید مواصلاتی نظام سے منسلک کی جائیگا۔ گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ حساس ضلع غذر ہے جہاں پر سیکورٹی کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے ۔ سانحہ ڈوڈوشال لمحہ فکریہ ہے ۔ ایسے واقعات کے روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں ۔ متعلقہ حکام کے علاوہ کسی کو بھی گاڑی پر ہوٹر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی جعلی نمبرپلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے ۔ حکومت کی رٹ کہیں بھی چیلنج نہیں ہونے دیں گے غذر امن کمیٹی کے فعال کردار کے معترف ہے ۔ حکومت امن کمیٹی کے ساتھ بہترین روابط برقرار رکھنے کے لئے سنجیدہ ہے صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان ڈاکٹر علی مدد شیر کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اعلی سطحی اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری محمد ایوب شاہ ، ہوم سیکرٹری ڈاکٹر عطاالرحمان ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز ندیم الحسن ، این اے سکاوٹس کے نمائندوں، ڈی سی غذر رائے منظور حسین، ایس پی فرمان علی، غذر امن کمیٹی کے اکابرین کے علاوہ آرمی انٹیلی جنس کے افیسران نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملکی صورتحال کے پیش نظر ضلع غذر کے بین الاقوامی اور بین الاضلاعی سرحدات میں خطرات بڑھ گئے ہیں ملک دشمن عناصر ان حساس باونڈریز سے گلگت بلتستان کے حدود میں داخل ہوسکتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے گلگت بلتستان کی سرزمین استعمال کرسکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان حساس سرحدوں کی حفاظت کے لئے فول پروف انتظامات کئے جائیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ واخان بارڈر پر جی بی سکاوٹس کی چوکی قائم کی جائیگی اور اس چوکی کو جدید اسلحہ اور دیگر آلات سے لیس کیا جائیگا ۔ شرپسند عناصر اور دہشت گرد وں کو غذر کے حدود میں داخلے سے روکنے کے لئے تمام تر وسائل برؤے کار لائے جائیں گے ۔ غذر امن کمیٹی نے ضلع بھر میں پولیس نفری کی کمی کو پورا کرنے ، پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور نالہ جات میں چوری ڈکیتیوں کی روک تھام کے لئے پکی چوکیاں تعمیر کی جائیں ۔ غذر کے داخلی اور خارجی راستوں میں سیکورٹی کا نظام انتہائی ناقص ہے ۔ مشکوک اور غیر مقامی افراد پر کڑی نظر رکھنے کے لئے چیک پوسٹوں کو مضبوط اور جدید آلات سے لیس کیا جائے ۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب مائل کرنے کے لئے مختلف پروگرامز کا انعقا کیا جائے ۔ ضلع غذر میں کچھ واقعات انٹیلی جنس اداروں کی غفلت کے باعث پیش آئے ہیں این اے سپیشل برانچ اور ڈسٹرکٹ سپیشل برانچ کو فعال بنایا جائے ۔
ہوم سیکرٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر عطاالرحما ن نے کہا کہ حکومت عوام کی جان ومال کے تحفظ سے غافل نہیں ہے وسائل کی کمی کے باعث مسائل جنم لیتے ہیں لیکن ہم اپنے چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کے خوہشمند ہیں ۔ مقامی افراد باالخصوص امن کمیٹی نے ضلع غذر میں پائیدار امن کے لئے بہترین کاوشیں کی ہیں جو کہ قابل ستائش ہیں ۔ چند روز کے اندر غذر انتظامیہ کو وائرلیس کے جدید آلا ت فراہم کئے جائیں گے جو کہ ڈی سی غذر ضرورت کے مطابق استعمال میں لائیں گے ۔ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لئے پولیس کی استعداد کاری میں اضافہ کرنا ہوگا ہم انکھیں بند کرکے بیٹھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ درکوت پولیس چوکی مقامی افراد کی مرضی اور منشا کے مطابق بنائی جائیگی ۔ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت کے بعد موجودہ سال کی اے ڈی پی میں حساس مقامات پر چوکیوں کے تعمیر کے لئے فنڈز رکھے جائیں گے ۔
ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز نے کہا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا فرض عوام کی جان ومال کا تحفظ کرنا ہے اور ہم اپنے فرائض کی دائیگی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے ۔ پولیس کی نفری کی کمی کے مسئلے کو پورا کیا جائیگا ضرورت پڑی تو گلگت سے اضافی پولیس طلب کی جاسکتی ہے فی الوقت غذر کے پچیس پولیس کے جوان دئے جارہے ہیں ۔ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت محمد ایوب شاہ نے کہا کہ یاسین میں مشکوک افراد کے نقل و حمل نوٹ کی گئی ہے ۔ نالہ جات میں مشکوک افردکی موجودگی نے عوام میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے یاسین کے تھانے پولیس کی نفری سے خالی ہوچکے ہیں۔ انٹیلی جنس کے اداروں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔ عوام اپنی بساط سے بڑھ کر حکومت کے ساتھ تعاون کرر ہی ہے ۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر علی مدد شیر نے کہا ہے اس میٹنگ میں جو بھی فیصلے ہوئے ہیں ان پر من و عن عمل ہوگا ہم جھوٹے دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ تمام حساس باؤنڈریز پر کڑی نگرانی کی جائیگی جہاں پولیس ناکام ہوگی ان کی بیک اپ کے لئے گلگت بلتستان سکاؤٹس کے جوان موجود ہونگے ضلع بھر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ۔ نالہ جات میں چوریاں روکنا اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہوگی ۔نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب مائل کرنے کے لئے تمام تر وسائل برؤے کار لائے جائیں گے ۔ مقامی سطح پر سمینار کا انعقاد ، مقامی کیبل کے زریعے شعوری پروگرامز کے علاوہ مساجد ، جماعت خانوں اور امام بارگاہوں کے زریعے امن کے پیغام کو پھیلایا جائیگا ۔ غذر میں پولیس کی نفری میں فوری اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے ۔ ہم غذر میں امن ہے کہہ کر بیٹھ نہیں سکتے ہیں ۔ ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے سانحہ ڈوڈشال جیسے واقعات مستقبل میں نہ ہوں ا سکے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی کو بھی ضلع غذر کے حدود میں ہوٹر لگانے اور جعلی نمبر پلیٹس لگانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ پولیس ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرے بعد ازاں صوبائی وزیر تعلیم کی قیادت میں اعلی سطحی وفد درکوت کے حساس بارڈر کو معائنہ کرنے کے لئے تحصیل یاسین کے بالائی علاقے کی جانب روانہ ہوگیا 
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔