آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے امتحانی نتائج کا اعلان,  گیارھویں اور بارھویں کے امتحانات میں طالبات نے سبقت برقرار رکھی

آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے امتحانی نتائج کا اعلان, گیارھویں اور بارھویں کے امتحانات میں طالبات نے سبقت برقرار رکھی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کراچی (پریس ریلیز) آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (اے کے یو۔ای بی)کے تحت ہونے والے نویں اور دسویں کے امتحانات کی طرح گیارھویں اور بارھویں (ایچ ایس ایس سی)کے امتحانات میں بھی طالبات نے نہ صرف مجموعی سبقت برقرار رکھی بلکہ تینوں پوزیشنز بھی حاصل کرلیں۔اے کے یو۔ای بی نے ایچ ایس ایس سی امتحانات کے نتائج کا اعلان 16جولائی ، 2014 بروز بدھ کیا۔

حبیب گرلز اسکول کی افشاں حسین نے 87.72 فی صد نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دوسری اور تیسری پوزیشن آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول، کراچی کی طالبات نے حاصل کیں ۔ صدوری نے 87.54 فی صد نمبروں کے ساتھ دوسری اورصدف بتول رضوی نے 86.45 فی صد نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

گیارھویں اور بارھویں کے امتحانات میں کامیابی کی مجموعی شرح 91 فی صد رہی جس میں گیارھویں جماعت کے 13.1فی صدجبکہ بارھویں جماعت کے 15.8 فی صد طلبا نے A1 گریڈ حاصل کیا ۔

akueb

اے کے یو۔ای بی کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کریمہ کارا نے اس موقعے پر کہا،’ہم اس سال بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا کو دلی مبارکباد دیتے ہیں۔ ہم تمام الحاق یافتہ اسکولوں اور ان کے اساتذہ کو بھی مبارکباد دیتے ہیں جنھوں نے طلبا کو اے کے یو۔ای بی کے امتحانات کے لیے تیار کرنے میں بے پناہ محنت کی جن میں طلبا کی رٹنے کی صلاحیت کے بجائے فکری اور منطقی صلاحیتوں کا امتحان لیا جاتا ہے‘۔ انھوں نے پاکستان اور بیرون ملک کی جامعات میں اے کے یو۔ای بی کے طلبا کے لیے مسابقت میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا،’یہی فکری اور منطقی صلاحیتیں جامعات کے داخلہ ٹیسٹ اور مستقبل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں‘۔

ایچ ایس ایس سی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ افشاں حسین سابقہ یوتھ ایکسچینچ پروگرام(وائے ای ایس) اسکالر بھی رہی ہیں۔ اس موقعے پر پرجوش انداز میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا،’میری کامیابی کا سہرا میرے والدین اور اساتذہ کے سر جاتا ہے جن کے مکمل اعتماد کے باعث میں یہ کامیابی حاصل کرپائی‘۔

وائے ای ایس پروگرام کے تحت امریکہ میں تعلیم کے حصول کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے افشاں نے کہا،’امریکی تعلیمی اداروں میں بھی ہماری فکری صلاحیتوں کو اے کے یو۔ای بی ہی کے انداز میں چیلنج کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم حاصل کرنے میں مجھے کسی دقت کا سامنا نہیں ہوا۔ تصورات کے فہم، ٹیکنالوجی کے استعمال، تحقیق اور پریزینٹیشنز کی وجہ سے ہمارے اعتماد اور منطقی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے‘۔

افشاں نے اپنی کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہا،’طلبا کو سخت محنت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔کامیابی خود ان کے قدم چومے گی یہی میری کامیابی کا راز ہے‘۔

اے کے یو۔ای بی کے ایچ ایس ایس سی امتحان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کریمہ کارا نے کہا کہ اے کے یو۔ای بی کے سابقہ طلبا کے سالانہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے طلباکی بڑی تعداد ملکی اور بین الاقوامی جامعات کے مختلف شعبوں میں داخلے حاصل کرتی ہے ۔انھوں نے پرجوش انداز میں بتایا کہ اے کے یو۔ای بی کے بہت سے طلبا جامعات سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں۔انھوں نے کہا،’ہمارے طلبا کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیاں ہمارے لیے دہری خوشی کا سبب ہیں‘ ۔

کریمہ کارا نے اے کے یو۔ای بی کے ایک سابق طالب علم شہزاد علی کے متعلق بتایا جو ایک نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔انھوں نے کہا،’ شہزاد علی کے ایک کلاس پراجیکٹ کے نتیجے میں ان کی یونیورسٹی کے توانائی پر ہونے والے اخراجات میں تقریباً 2 ملین روپے ماہانہ کی کمی واقع ہوئی۔ یہ ایک بہت اہم کامیابی ہے جو اچھی تعلیم اور متنوع سوچ کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ہم شہزاد کی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے ادارے کو فیض پہنچایا‘۔اے کے یو۔ای بی کے سالانہ امتحانات کے نتائج اے کے یو۔ای بی کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔