گورنر نے عارضی ملازمین کی مستقلی کے بل 2014 ء پر دستخط کر دئیے

گورنر نے عارضی ملازمین کی مستقلی کے بل 2014 ء پر دستخط کر دئیے

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

unnamed

گلگت۔(پ۔ر) گورنر گلگت بلتستان پیر سید کرم علی شاہ نے قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد عارضی ملازمین کی مستقلی کے بل 2014 ء پر دستخط کر کے اسے ایکٹ کا درجہ عطا کیا جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ۔اس موقع پر گورنر صاحب نے توقع کا اظہار کیا کہ انتظامیہ اس ایکٹ کو شفاف ،عاقلانہ اور عادلانہ انداز میں اس کے حقیقی روح کے مطابق نافذ کر ے گی اور اس ایکٹ سے مستفید ہونے والے تمام عارضی ملازمین کو خیر سگالی کا پیغام بھی بھیجا ہے ۔

گورنر  نے کہا کہ اگرچہ سرکاری آفیسران پر تنقید یا نکتہ چینی کرنا ان کے منصب کا شایان شان نہیں لیکن فرض شناس آفیسروں کو چھوٹا موٹا یا ادنیٰ ملازم کہہ کر ان کی توہین کرنا اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے کیونکہ سرکاری آفیسران ریاستی اُمور چلانے میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا وہ دیانتدار سرکاری اہلکاروں کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

گورنر  نے سر کاری آفیسران پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ وہ مصنوعی احترام میں گردن جُھکا کر مخبر بننے کی بجائے و ہ سر اُ ٹھا کر زیرک آفیسر بننے کو ترجیح دیں اور کسی خاص شخصیت یا پریشر گروپ کا نمک خوار ہونے کی بجائے ریاست کے وفادار رہیں ، سرکاری اداروں کو مالِ غنیمت سمجھنے کی بجائے انہیں قومی اثاثہ سمجھیں اور رشوت ستانی اور کرپشن کی بجائے محنت کی عظمت پر یقین رکھیں ۔

unnamed (1)گورنر صاحب نے مزید کہا  کہ گزشتہ چند دنوں میں انہیں بہت سے تجربات سیکھنے اور مختلف اذہان پڑھنے کا موقع بھی ملا کہ کس طرح “سازش” جیسے بظاہر آسان لفظ کا استعمال کرکے اپنے ذاتی و فروعی مقاصد کے حصول کے لیئے ریاستی اداروں اور سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنایا جاتا ہے اور ایسے منفی رجحانات کو دیکھ کر انہیں اندازہ ہوا کہ ہم ذہنی پستی کی عمیق گہرائیوں کو چھو رہے ہیں اور ایک عجیب رسم چلی ہے کہ اگر کسی دفتری کام کی انجام دہی میں ذرا سی دیر ہو جائے تو ہر طرف سے تعصب کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں اور اگر ترس کھا کر کسی کام کو جلدی سے نمٹایا جائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں کو ڈرا دھمکا کے کام نکال دیا جسے انہوں نے ذہنی پستی ،تنگ نظری اور منافقت جیسے اخلاقی بیماریوں سے تشبیہ دی ۔

گورنر صاحب نے علاقے کے قانون ساز اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف اہم قومی اُمور پر قانون سازی کے عمل میں شفافیت اور وسیع قومی مفاد کو محلوظ نظر رکھنا بہت ضروری ہے ، ذاتی پسند اور گروہی و علاقائی ترجیحات پر مبنی قانون سازی سے خطے میں انتشار و اضطراب پھیلنے کا خدشہ ہو جاتا ہے اور مختلف طبقات کا جمہوری عمل پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور یوں جمہوریت بعض عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن کر بدترین استحصال کا موجب بن سکتا ہے اس لیئے قانون سازی کے عمل کو احتیاط سے پرکھنے کی ضرورت ہے ۔

گورنر صاحب نے خطے میں تیزی سے پروان چڑھنے والے میڈیا کے اداروں پر زور دیا کہ وہ حقائق کے منافی خبریں ،تجزیے اور تبصرے شائع کرنے سے اجتناب کریں تاکہ صحافتی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے اور صحافی شخصیات اور پریشر گروپس کی ترجمانی ہر گز نہ کریں بلکہ پیشہ وارانہ اخلاقیات اور تحقیقی اسلوب کے ذریعے حقائق کی تہہ تک پہنچ جائیں جس سے صحافیوں کے احترام و قدر و منزلت میں مزید اضافہ ہو گا ورنہ بے لگام صحافت سے علاقے میں خانہ جنگی کا ما حول پیدا ہو گا جس سے ملک دشمن عناصر با آسانی فائدہ لے سکتے ہیں لہٰذا میڈیا کی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔