مہدی شاہ گلگت بلتستان اور چترال کے صدیوں پرانے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے، شہزادہ افتخارالدین

مہدی شاہ گلگت بلتستان اور چترال کے صدیوں پرانے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے، شہزادہ افتخارالدین

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گاہکوچ(انٹرویو:ممتاز گوہر) چترال سے ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی مہدی شاہ نے سیاسی مفادات کے خاطر شندور میلے کا بائیکاٹ کر دونوں علاقوں کے عوام کو ایک دوسرے سے دور رکھنے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے. شندور کا مسئلہ بائیکاٹ سے نہیں بلکہ آپس میں مل بیٹھ کر بات چیت کرنے سے حل ہوگا. میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے کس طرح کے شخص کو اپنا وزیر اعلی منتخب کیا ہے. میں گلگت بلتستان اور چترال کو ایک دوسرے سے کسی صورت الگ نہیں سمجھتا.اور قومی اسمبلی کے فورم میں بھی گلگت بلتستان کے آیینی حقوق، دیامر ڈیم، بونجی ڈیم، ست پارہ ڈیم،گلگت سکردو روڈ اور دیگر اہم ایشوز پر آواز اٹھانا چاہتا ہوں. مگر میں مہدی شاہ کی اس چھوٹی ذہنیت کو داد دیتا ہوں جو ایک چھوٹے مسلے جس کا حل تیسرے فریق نے نکالناہے اسے سامنے لا کر گلگت بلتستان اور چترال کے صدیوں پرانے تعلقات خراب کرانا چاہتے ہیں.مہدی شاہ اپنی بکواسیات کو بند کرے تو بہتر کرے،اور عوام کے درمیان داراڈ نہ ڈالیں.اگر اسی طرح ہی علاقوں پر دعوے کرنا ہے تو ہم پورے ضلع غذر پر دعوی کرتے ہیں کہ یہاں مھتر چترال نے حکومت کی ہے،گوہر امان ہی ہمارا تھا،اور اسکو بھی مھتر چترال کی حمایت حاصل تھی.اور ہم چاہے تو جہاں مھتر چترال نے حکومت کی ہے ان پر چترال کے دعوے کو بھی ثابت کر سکتے ہیں. مگر ہم صدیوں پرانے تعلقات کو خراب کرنے کے بجا ئے مزید بہتر، پائیدار اور پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں.انھوں نے مزید کہا کہ اس سال شندور میلے میں میں خود گیا تھا، گلگت بلتستان کی ٹیم اور یہاں کے عوام کو ہم نے بہت مس کیا. ہم نے پھربھی ٹورنامنٹ کو کامیاب بنایا اور آیئندہ بھی اس ٹورنامنٹ کو اسی طرح ہی کامیاب بناتے رہنیگے۔ انھوں نے کہا کہ یقینا اگلے سال مہدی شاہ وزیراعلی نہیں رہینگے اور سمجھدار شخص وزیراعلی بنا تو وو ضرور میلے میں شرکت کرے گا. مہدی شاہ بالعموم گلگت بلتستان اور چترال اور بلخصوص ضلع غذر اور چترال کے عوام کو ایک دوسرے سے دور لے جانا چاہتے ہیں. عوام اب اس سازش کو سمجھ چکے ہیں.
ممبراسمبلی شہزادہ افتخارالدین نے کہاگلگت بلتستان اور چترال کا آپس میں اور پرویز مشرف کا ان دونوں علاقوں سے محبّت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.ان علاقوں میں تمام اہم منصوبےپرویز مشرف کے دور میں ہی مکمل ہوۓ.جس میں قراقرم یونیورسٹی،لواری ٹنل،غذرچترال روڈ، گولین گول پروجیکٹ، دیامر ڈیم اوردیگراہم پروجیکٹ پرویز مشرف کے دور میں ہی منظور ہوۓ. انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کے دلوں سے مشرف کے محبّت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا.
افتخار الدین، ممبر قومی اسمبلی

افتخار الدین، ممبر قومی اسمبلی

شہزادہ افتخار نے کہاگلگت بلتستان اورچترال کےعوام کو مزید ایک دوسروں کے قریب لانے کے لیے غذر اور گلگت بلتستان کا دورہ کرونگا. ہمارا کلچر ثقافت، روایات، زبانیں اور بہت سری مشترکات ہیں، انہیں زندہ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے ہمارا ایک دوسرے کے قریب آنا بہت ضروری ہے.انھوں نے کہا کہاکہ آپس میں اس طرح کے مشترکات کو فروغ دینے کے لیے کوئی ادارے کا قیام ضروری ہے.انھوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان گلگت سے کھوار زبان میں پروگرام”گمبوری”کا اجرا اور اس کے دورانیے میں اضافہ انتہائی خوش آیند اور مستحسن اقدام ہے. چترال کے عوام اس پروگرام کو بھی شوق سے سنتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ اس پروگرام کے دورانیے میں مزید اضافہ کیا جائےگا.رہنما اے پی ایم ایل نے کہا شندور کا مسلہ پرانے مردے کو اکھاڑنے کے مترادف ہیں، یہ مسلہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی مفادات کے لئے عین اس فیسٹیول کے وقت سامنے لا آرہی ہے.عوام کے ساتھ دونوں علاقوں کے عوام اب آیندہ ایسی کوئی حماقت کرے تو مل کر اسکی مخالفت کرینگے. شہزادہ افتخارالدین چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر ہیں.انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کر لی. پورے ملک میں آل پاکستان مسلم لیگ نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، مگر شہزادہ افتخارالدین پرزور عوامی مطالبے پر الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہوۓ.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔