والدین کے خدشات

والدین کے خدشات

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت میں جب سے کمسن معاویہ مجیر کا اندوہناک واقعہ پیش آ یا ہے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے سفاکی اور درندگی کی اتنی بد ترین مثال جی بی کی تاریخ میں شاید ہی ملے کیا صرف اتنا کہنا کہ ہم اس واقعہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں کافی ہے یا ہمیں اس بارے کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔

Hidayat Ullahبظاہر یہ واقعہ دوسرے قتل کی وارداتوں کی طرح ایک واردات ہے۔ کیا یہ سوچ کر اس کو دوسرے واقعات کی طرح ذہن سے محو کر کے اپنے روز مرہ دہندوں میں کوہلو کے بیل کی طرح جتے رہنا چاہیئے۔۔ اگر ہماری سوچ یہ ہوگی تو ہم ہی اس معاشرے کے بڑے مجرم کہلائیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ پردے کے پیچھے ان عوامل کی طرف دھیان دیا جائے جن کی وجہ سے معاشرے میں اس قسم کے دلخراش اور جھنجوڑنے والے واقعات جنم لیتے ہیں۔۔۔۔ میں ان تفصیلا ت میں نہیں جانا چاہتا کہ بچہ کیسے اغوا ہوا اور کیسے قتل ہوا اور اس کی لاش کہاں سے برآمد ہوئی کیونکہ قارئین میں سے اکثر نے اس خبر کی تفصیلات مقامی اخباروں میں پڑھ لیا ہے اور جنہوں نے نہیں پڑھا ہے۔ انہوں نے سن رکھا ہے۔ ویسے بھی گلگت اتنا بڑا شہر نہیں کہ کسی کو خبر نہ ہو۔ اس درندگی کو اس لحاظ سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ اس پر ہم جتنا بھی ماتم کریں کم ہے اگر کوئی اس کے باوجود بھی یہ کہے کہ ایسے واقعات تو پورے پاکستا ن میں رونما ہوتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ وہ اسے انسانیت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہتے تو بے شک نہ دیکھیں پر ایک باپ ، ماں ، بھائی اور بہن بن کر ضرور سوچیں کہ اگر ایسا واقعہ اللہ نہ کرے ان کے پیاروں کے ساتھ پیش آتا تو ان کے جذبات کیا ہوتے۔۔ اللہ کسی کو ایسا دن نہ دکھائے۔۔ پولیس جو کارروائی کر رہی ہے وہ اپنی جگہ اور ہمیں امید ہے کہ گلگت پولیس اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھ کر تحقیقات کرے گی اور اس میں ملوٖث افراد کو بے نقاب کر کے ان کو ایسی عبرتناک سزادلوانے میں قانون کی مدد کرے گی کہ وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے تاکہ آئیندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں اور یہ بھی امید ہے کہ عوام اور اہل محلہ پولیس کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے ایک اطلاع کے مطابق اس سلسلے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ پولیس مجرم کی نشاندہی کر چکی ہے ۔۔۔جو کہ خوش آئیند بات ہے۔۔۔ پاکستان بھی عجیب ملک ہے یہاں ہر واقعے کو سیاسی بنیادوں پر سوچا جاتا ہے اور لاشوں کی سیاست کی جاتی ہے اور اس کا اثر گلگت بلتستان میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔خاص کر گلگت میں جب بھی کوئی قتل کی واردات ہو جاتی ہے اس کو مذہبی سیاست میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے اب تو اس معاملے میں بلتستان بھی پیچھے نہیں رہا گانچھے کے حالیہ مذہبی فسادات اس کے گواہ ہیں میں یہ بات اس لیئے نہیں لکھ رہا کہ اس سے مجھے کوئی خوشی یا فائدہ مل رہا ہے۔ بلکہ میں اپنی بے حسی کا رونا ر و رہا ہوں کہ نہ ہم میں انسانیت رہی اور نہ ہی مذہبی رواداری ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ گلگت کے سب باسی مل کر اس سفاکی اور درندگی پر احتجاج کرتے اور ان درندگوں کو بے نقاب کر کے قانون کے حوالے کرتے لیکن ایسی توفیق یہاں کے باسیوں کو نہیں ملی اور بے حسی اور مردگی کی انتہا دیکھےٗ کہ یہاں موبائل میسیجز اور افواہوں کا ایسا بازار گرم رکھا گیا کہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبکے رہے اور تاثر یہ دیا گیا کہ بس اب یہاں مذہبی فسادات شروع ہونے والے ہیں کیا ایسا کر کے ہم ان درندہ صفت انسانوں اور مجرموں کی پشت پناہی نہیں کر رہے ؟ مجرم کوئی بھی ہو ۔چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو وہ مجرم ہے اور سزا اس کے مقدر میں ہونی چاہئے اور جب تک ہماری یہ سوچ نہیں بدلے گی ہم معاشرے میں سدھار لانے کی جتنی بھی کوشش کریں سب بیکار ہے ۔ میں اس سفاکانہ واقعے پر اتنا غمزہ ہوں کہ دل کرتا ہے کہ جو ذہن میں آجائے اول فول لکھ دوں لیکن ہماری ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں ہمیں ان عناصر اور محرکات کی نشاندہی کرنی ہے جن سے اس قسم کے حالات اور واقعات جنم لیتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد بہت سارے سوالات ذہن میں گرد ش کرنے لگے اور کچھ خدشات بھی ابھر نے لگے ہیں اگر ان سوالات کو کیوں اور کیسے اور کب کے حوالے سے جانچنے کی کوشش کی جاےٗ تو اس کے پیچھے بہت سارے عوامل کار فرما نظر آتے ہیں جن کو کالم میں پرونا بہت مشکل ہے۔۔ ایک خدشے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ کل تک جو والدین یہاں کی روایات کے مطابق اپنے بچوں کو محلے اور گلگت کے دیگر مضافات میں بغیر کسی خوف و خطر اپنے ہم عصروں کے ساتھ کھیلنے کیلئے کبھی روکتے نہیں تھے اب سختی کے ساتھ منع کر رہے ہیں ۔۔ ایک والد نے مجھے بتا یا کہ اس کا بچہ پیدل ہی سکول آیا جایا کرتا ہے اور ابھی سے اسے یہ فکر لاحق ہوئی ہے کہ چھٹیوں کے بعد اس کو سکول لے جانا اور لے آنے کا بندوبست کس کے سپرد کر دی جائے۔ اسی سے آپ اندازہ لگالیں کہ والدین کے خدشات اور ان کے اندر عدم تحفظ کتنا بڑھ گیا ہے۔ جو ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب بھائی ، باپ ، ماں یا خاوند میں سے کچھ نہ کچھ تو ہیں اس ناطے سے جو بچہ درندگی کا شکار ہوا وہ کسی اور کا بیٹا نہیں بلکہ ہمارا اپنا بیٹا ہے اور بطور انسان ہمیں اس معاشرے کو ایسے درندگوں سے پاک کرنے اور معاشرے کی اصلاح کرنی ہے تاکہ جو خدشات والدین ظاہر کر رہے ہیں ان کے ذہنوں سے نکل جائیں۔۔مجھے قوی امید ہے کہ معاویہ مجیر کے مجرم ضرور گرفتار ہوں گے اور نہیں ایسی سزا ملے گی جو عبرت کا نمونہ بنے گی ۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments