ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال استور میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہے، خواتین مسائل کا شکار

ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال استور میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہے، خواتین مسائل کا شکار

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
unnamed (4)
استور (سبخان سہیل) استور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی نہ ہونے کی واجہ سے خواتین کے لیے انتہائی مسائل ہیں۔پورے استور کی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی دو ڈاکٹر کے رحم وکرم پر ہے۔ ڈینٹل یونٹ مین جدید مشینری لگائی گئی ہے مگر ڈینٹل ڈاکٹر نہ ہونے کی واجہ سے بھی لوگوں کو گلگت جانا پڑتا ہے۔ڈپٹی کمشنر استور طارق حُسین کی میڈیا کے ہمراہ ڈی ایچ کیو ہسپتال استورمیں چھاپے کے موقعے پر گفتگو۔ ڈپٹی کمشنر طارق حُسین نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اچانک چھاپا لگایا اور تمام ملازمین کی حاضری رجسٹر چیک کیا ۔اور اس موقعے پر موجود ایم ایس جاوید آحمد نے ڈپٹی کمشنر استور اور میڈیا کو بتایا کی صوبائی حکومت کے محکمہ ہیلتھ کے ڈایریکڑ اور منسٹر کی وجہ سے استور ڈی ایچ کیو ہسپتاک کا نظام مکمل تباہ ہوا ہے۔ براے نام ڈی ایچ کیو ہسپتال میں صرف دو ہی ڈاکٹر موجود ہیں ۔ اور دیگر چھوٹے سٹاف بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نے اس ہسپتال کے حوالے سے درجنوں لیٹر لکھے ہیں مگر وہ سرد خانے کے نظر ہو رہے ہیں ۔ استور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈینٹل ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر ، اور دیگر چھوٹے ستاف کی کمی سے پورا نظام درہم برہم ہے۔ ہم انتہائی مشکل حالت میں اس نظام کو چلا رہے ہیں ہم پورے دن مریضوں کو چیک کرتے کرتے خود زہنی مریض بن جاتے ہیں ۔ ہم نے وزیر صحت اور ڈایریکٹر کو اس حولے سے بار ہا لیٹر لکھا ہے مگر کوئی شنوئی نہیں ہوتی ہے۔ڈپٹی کمشنر استور طارق حُسین نے پورے ہسپتال کا تفصلی دورہ کیا اس موقعے پر ایکسرے پلانٹ کے ایک ایسی میشن بھی نظر سے گزری جو دو سال قبل ہسپتال انتظامیہ نے ایک ٹیھکدار کے ساتھ ملکر ایکسرے کی جدید ایکسرے میشن کے نام پر ایک چاینہ میشن ہسپتال میں لائی تو گئی لیکن اس میشن کو دو سال گزرنے کے باوجود اب تک انسٹل تک نہیں کیا گیا ہے ۔ اگر اس میشن کو انسٹل کیا جاتا ہے تو ٹھیکداراور ہسپتال کا پول کھل جاتا اس لیے عوام اورمحکمہ کو بے واقوف بنانے کے لیے سرف دیکھانے کی حد تک ہسپتال میں برائے نام میشن رکھی گئی ہے ۔ ڈی سی استور کی موجودگی میں میڈیا نے ہسپتال کی سروے کی ۔ استور ہسپتال مریضوں کو اعلاج نہیں بلکہ مزید ذہنی مریض بناتا ہے ۔ پوری استور کی 150000ابادی پر اب تک لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے ۔ لیدی داکٹر کی عدم تعیناتی سے کئی خواتین موت سے پہلے موت سے گلے لگاتی ہیں اس لیے حکومت گلگت بلتستان وزیر اعلی چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہیلتھ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوے ۔ لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اقدامات کریں۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔