ناکام جمہوریت

ناکام جمہوریت

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہر پاکستانی آج اپنے حال سے بے خبر جمہوریت کا رگ الاپتے نظر آتا ہے ۔ اور یہ صرف اسی لئے کہ اسکا دادا، ابو، بھائی یا نانا  کسی نام نہاد جمہوری پارٹی کے کارکن ہیں یا اس پارٹی میں اسکے فکری،  رنگ و نسل، ہم زبان یا علاقہ والوں کی تعداد زیادہ ہیں ۔کتنی جہالت ہے کہ آج اس ملک کے شہری سر عام قتل ہوتے ہیں ،عزتیں لوٹ جاتی ہیں غربت وافلاس سے اجتماعی خود کشیاں ہو رہے ہیں ، ہر طرف نفرت کا ایک طوفان ہے ، انسان انسان کو ذبح کر رہا ہے نیز کہ معاشرہ ظلم و جبر کا عکاسی کرتا نظر آرہا ہے، مگر پھر بھِی جمہوریت۔ اس جمہوریت کا کیا کریں جو صرف اہل اشرافیہ کے لئے سود مند ہو۔دل خون کے آنسو روتا ہے جب ابلتے ہوئے گٹر کے پانی  سے بھرے گلیوں میں یہی شہری  بیمار ذہنوں کیساتھ، دو نمر کی غذا کھا کر لاغر  یا پھولے ہوئے چوہوں کی طرح ان جعلی جمہوری حکمرانوں  کے جھنڈے اٹھائے نعرے لگاتے پھرتے ہیں۔ یہ لوگ ذہر کھا کے مر جائے گئے مگر مجال ہے کہ اپنی حق کے لئے آواز بلند کریں

 دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Qizil

مولا مدد قزل

آج  تیسری دنیا کے لوگ بشمول پاکستانی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جمہوریت کوئی آفاقی یا عالم لاہوت سے آئِ ہوئی رب ذوالجلال کا کوئی پیغآم ہے جسکی پروی ہر صورت میںکرنی ہے چاہیے جان کیوں نہ جائے، عقلی، روحانی و جسمانی بیمار اس قوم پر ان ساحروں[جعلی جمہوری حمکران ] نے سب ٹھیک ہے کا ایسا دم پھونک دی ہے کہ انکے کارکن سب ٹھیک ہے کی تسبح نکالتے نہیں تھکتے۔اور اگر کوئی اس بیمار قوم کی بیماری تشخیص کرتا بھی ہے یا انہیں نیم مدہوشی کے عالم سے نکالتا بھی ہے تویہ چند لمحات کے لئے ہوش میں آتے ہیں مگر اس کے بعد پھر یہ واپس اسی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے۔

جمہوریت جسکے معنی عوامی حکومت کے ہے یا مراد وہ طرز حکومت ہے جس میں اقتدار کے مالک عوام ہوتے ہیں  مگر اس ملک میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اقتدار کے مالک عوام ہوں یہاں تو کچھ ہی  خاندان در خاندان ، نسل در نسل اقتدار کی گدی پر براجمان ہوتے رہتے ہیں۔ آج جنہیں ہم جمہوری حکمران کہتے ہیں وہ بادشاہوں کی مانند محلات میں رہتے ہیں تا عمر اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں اور گزر بھی جاتے ہیں تو انکی اولاد یا قریبی رشتہ دار حکومت سنبھال لیتے ہیں۔ بتائیں کہ یہ کونسی جمہوریت ہے ؟

حقیقی جمہوریت میں ہر بالغ شہری [مرد، عورت اورخواجہ سرا] کو بلا رنگ و نسل ، مذہب رائے دہی کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ انتخابات میں اپنے نمائیندے آذادی سے منتخب کرتے ہیں مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائے دہی  کا حق صرف خاص لوگوں کو حاصل ہے خواجہ سرا تو اس ملک میں مخلوق کے زمرے میں بھی نہیں آتے۔ ووٹ رنگ و نسل کے بنا پر دیا اور لوگوں سے لیا جاتا ہے ۔ گلگت بلتستان کےعوام پاتستانی تو کہلاتے تو ہیں مگر آئینی حققوق سے محروم ہیں۔

جمہوری طرز حکومت میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں مگر یہاں ہر دوسرا ووٹ جعلی نکلتا ہے ۔جمہوریت مشاورت کا درس دیتا ہے مگر یہاں اقتدار سے چمٹے حکمران حقیقی امر کا روپ دھار کے بیھٹے ہیں عوام اپنی  پوری زندگی احتجاج میں  کیوں نہ گزارے مگر انکےکانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔جمہوریت میں قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں  ،چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، حاکم ہویا محکوم،قانون کی حکمرانی میں سب کو عدل وانصاف میسر آتا ہے اور کسی پر بھی ظلم نہیں ہوتا ۔لیکن اس ملک میں ایسا نہیں ہوا جس سے چاروں طرف ظلم کی فضا پھیلا نظر آتا ہے ، ایک گریب کو انصاف نلے یہ صرف ایک خواب ہے ۔

جمہوریت میں اکثریت کو حکومت کرنے کا حق ہے اسلئے یہاں بندے [ صم بكم عمي] گنے جاتےہیں تولا نہیں کرتے، اسلئے اس ملک میں جمہوریت کو ووٹ دینے مردے بھی آجاتے ہیں۔ اور انکو بھی گنا جاتا ہے جمہوریت میں اپوزیشن حکومت کی خامیوں و کمزریوں کو نمایاں کرتی ہے اپوزیشن وہ جو حکومت کا گریبان پکڑے جب وہ اعوام کی ترجمان ھونے سے منحرف ھو رھی ھو جب وہ اعوامی فیصلے نہ کر رھی ھو جب وہ نا انصافی یا کوتاھی یا کوئ غلط فیصلے کر رھی ھو مگر یہاں مک مکا والی جمہوری حکومتیں یا اپوزیشن پارٹیاں زاتی فائدہ کرتی ھیں اور قومی نقصان کرتی ھیں یہاں تم بھی کھاو اور ہمیں بھی کھلاو کا اصول کار فرما ہے

جمہوریت جہاں [ صم بكم عمي] کی رائے دہی سے اہل اشرافیہ کی حکومت  ہو وہ جمہوریت نہیں امریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے ۔ اور ایسی قوموں کی ترقی، خوشحالی صرف اور صرف ایک بہادر، دانشمند، اور دوراندیش امر ہی کے ہاتھوں ہی ممکن ہے جو انہیں خواب غفلت سے ذبردستی جاگا کر انکی ذہنی،و جسمانی پرورش کرے اورانکی مردہ ضمیر کو جنجوڈ دے ۔ جس ملک کے عوام ناخواندہ ہوں جس ملک کے عوام ملکی حالات سے درکنار اپنے حالات سے ہی بے خبر ہوں، جس ملک کے عوام اپنے فرائض کی ادائیگی سے بیگانہ ہوں جس ملک کے سیاسی پارٹیاں اہل اشرافیہ کے ذاتی کمپونیاں کی درجہ رکھتی ہوں تو وہاں جمہوریت کی نہیں کسی اور نظام کی ضرورت ہے ۔

جمہوریت پاکستان جیسے ملک میں محض ایک خواب ہے ۔جہاں جمہوریت صرف بنا روح کے ایک لاش کی مانند ہے ، ہمیں شخصی نظام حکومت کی غلامی سے نکل کر باوقار قوم بنے کی ضررت ہے،  اب آپ نے فیصلہ کرنا ھے آُ غلام رہنا ہے کہ آزاد؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔