کے۔آئی یو کی رینکنگ اور گوجال کے سکولز

کے۔آئی یو کی رینکنگ اور گوجال کے سکولز

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر 

گوجال میں تعلیم کی صورت حال اس وقت نہایت ہی مایوس کن ہے۔ میٹرک کے حالیہ امتحانات میں کوئی بھی بچہ یا بچی اے گریڈ سے پاس نہیں کرسکا۔ معیاری تعلیم کے بجائے برائے نام تعلیم سے قوم کے مستقبل کو نوازا جارہا ہے. کے ۔آئی ۔یو کے حالیہ میٹرک کے نتجہ اور رینکنگ میں گوجال کا کوئی بھی سکول پہلے 60 ویں نمبر تک نہیں ہے۔ایک سکول 61 ویں نمبر پر ہے اور پھر106،123 اور 172 ویں نمبر پر  دوسرے سکول موجود ہیں۔

 اس وقت گوجال میں چار طرح کے نظام تعلیم چل رہا ہے ۔ پہلے نمبر پر گورنمنٹ کے اسکول ہیں، دوسرے نمبر پرڈی ۔ جے اوراس کے علاوہ انگلش ماڈل سکول ہیں اورچوتھے نمبر پر سی بی ایس  یعنی کمیونٹی بیسڈ سکول ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوجال کے تعلیمی نظام میں خرابی کہاں ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ان سکولوں کے سسٹم کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس وقت گوجال میں گورنمنٹ کے دو ہائی سکول اور پانچ مڈل سکول اور 7 پرائمری ہے۔

اس وقت گوجال میں گورنمنٹ کے دو ہائی اسکول، گورنمنٹ بوائز سکول گلمت اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گلمت، ہیں. یہ سکولز تجربہ کار ٹیچرز کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات سے آراستہ ہے لیکن اس کے  باوجود ان کا نتیجہ اطمنان بخش نہیں ہے۔ اس کے بارے میں ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ جو بچے گورنمنٹ سکولز میں پہلا،دوسرا یا تیسرا نمبر پہ آتا ہے ان کو پرائیوٹ سکولوں میں داخل کیا جاتا ہے اور جو بچے پرائیوٹ سکولوں میں فیل ہوتے ہیں ان کو گورنمنٹ سکولوں میں داخل کیا جاتاہے۔اور والدین بھی ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں داخل کراتے ہے۔ ان کے کچھ سکول کے ۔آئی ۔یو کے رینکنگ میں گورنمنٹ بوائز سکول 106 نمبر پر ہے۔ اور گرلز سکول 123 نمبر پر ہے۔

آغاخان ایجوکیشن سروس  بھی ڈی ۔ جے سکولز کو بہتر بنانے کے لیے کوشان ہے اس کے لیے انھوں نے جو پرانے ٹیچرز تھے ان کو فارغ کیا گیا اور ان کی جگہ نوجوان اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو لیا گیا اس کے علاوہ کچھ سکولوں کوجن کی کارکردگی ٹھیک نہیں تھی بند کیا گیا۔باقی سکولوں کی مسلسل نگرانی اور ٹیچرز کی کاکردگی کوبھی دیکھا جارہا ہے ۔ ان کے کچھ سکول کے ۔آئی ۔یو کے رینکنگ میں اچھے نمبر پر ہے۔

 سی ۔ بی ۔ ایس سکول سسٹم سے ان لوگوں کو تو فائدہ ہوا جو عرصہ دراز سے بے روزگار تھے۔ یا وقتی طور پرچھٹی گزارنے کے لیے آتے ہیں۔ لیکن ان بچوں اور بچیوں  کے ساتھ زیادتی ہے جو یہاں پڑھتے ہیں ۔ ان کو اس جدید دور میں معیاری تعلیم نہیں  مل رہا ہے اور نہ ان کے پاس وہ سہولیات ہے جو ایک ہائی سکول میں ہوتا ہے مثلا سائنس ٹیچر، سائنس لیب، کمپوٹر لیب وغیرہ۔ ان کے کچھ سکول کے ۔آئی ۔یو کے رینکنگ میں سب سے آخری نمبر پر یہ سکول ہیں.

اس کے علاوہ ایک سکول ایف۔جی۔ہائرسیکنڈری سکول مورخون ہے۔ جوایک منفرد اور انوکھا سکول، بلکہ ایک بے بنیاد کالج بھی ہے۔ کیونکہ اس کا فیڈرل گورنمنٹ یا لوکل گورنمنٹ سے  کوئی  تعلق نہیں ہے بلکہ ایک پرائیوٹ سکول ہے کالج بھی نہیں ہے ۔ اور پھر تین چار ٹیچر سے یہ کالج چل ر ہا ہے ۔ سیا سی اثر رسوخ کو استعمال کرکے دوسرے سکولوں  مثلا سوست مڈل سکول اور  گورنمنث بوائزہائی سکول گلمت سے کچھ اساتذ کو اس بے بنیادکالج میں تعنات کیا گیا ہے۔ اس میں بھی چند لوگوں کا مفاد شامل ہے۔ اس سے جہاں دوسرے سکول متاثر ہورہا ہے وہی ان بچوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے جو یہاں پڑھتے ہیں۔کے۔آئی۔یو کے رینکنگ میں یہ نمبر پر ہے۔

اس کے علاوہ وہ ٹیچر جو ہیڈ ماسٹر یا ڈی ڈی او کو پسند نہیں ہوتاہے سزا کے طور پر انکو اس کالج میں بھیجتے ہے۔

اس وقت گورنمنٹ اور ڈی ۔ جے سسٹم میں بہت حد تک بہتری آئی ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں نے نقل پہ پابندی لگایا ہے۔ اور پچھلے تین سالوں سے اس پر سختی سے عمل پیرا ہے اور اس کہ وجہ سے ہمارے سکول رینکنگ میں پیچھے ہے ۔

اس کے علاوہ سیاسی مداخلت سے بھی گورنمنٹ سکولز متاثرہورہا ہے ۔ کیونکہ سال کے بھیج میں اچانک اساتذہ کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ ٹراسفر کرتے ہے جس سے اس سکول کے بچے متاثر ہوتے ہے۔ اگر ہمیں اپنے گورنمنٹ سکولوں کو مظبوط کرنا ہے تو ہمیں سیاسی مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔

  جوانگلش میڈیم سکولز ہے ۔ شروع شروع میں ان کی ضرورت بھی تھی ۔ اور پھر ان سکولوں کو آغا خان ایجوکیشن سروس، وی ۔ ایس۔او ، ہرپ  اور پی ڈی سی این کا تعاون حاصل تھا۔ جو ان کی دیکھ بال کے ساتھ ساتھ ان سکولوں کے اساتذہ کو وقتا فوقتا ٹریننگ بھی دیتا تھا۔ لیکن اب یہ تمام پرائوٹ سکول اپنی مدد آپ کے تحت بچوں سے باری فیس لیکرچلا رہے ہے اور ان کے پاس بھی اب ٹرینڈ اور ماسٹر ہولڈر ٹیچرز کی کمی ہے۔ الاامین ماڈل سکول جو پرائیوٹ سکولوں بہت مشہور ہے ان کی پاس تمام سہولیات بھی ہے ۔ کے ۔آئی ۔یو کے رینکنگ میں ان کا نمبر61 نمبر پر ہے۔

گوجال میں تعلیم کی خراب صورت حال کے ذمہ دار صرف اساتذہ نہیں ہے بلکہ ہم سب اس کے ذمہ دار ہے کیونکہ اس تمام صورت حال سے ہم سب با خبر تھے اور ہے ان سکولوں کے سسٹم سے ہم سب باخوبی واقف ہے۔

کے آئی یو کا رنکینگ اپنی جگہ لیکن کیا ہم اپنے آنے والے نسل کو جدید اور معیاری تعلیم دے رہے ہے کیا ہم ان کو آنے والے وقت کے لیے تیار کر رہے ہے یا پھر کھوکلے بنیاد کے ساتھ ان کو آگے بھیج رہے ہے۔

معیاری تعلیم کے لیے گوجال کے کچھ لوگ لاکھوں روپیے خرچ کرکے  اپنے بچوں کو ملک کے دور دراز علا قوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہے ۔ وہ گوجال کے تعلیمی نظام سے مطمین نہيں ہے۔یہ وہ لوگ ہے جوجدید اور معیاری تعلیم چاہتے ہے۔

گوجال کی ترقی میں اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔کیونکہ سکول کے بعد یہ اساتذہ مختلف اداروں میں رضاکارانہ کام کرتے ہے ۔ اور گوجال میں جتنے بھی انگلش میڈیم سکول قائم کیے ہے یا ہوۓ ہے ۔ اس میں بھی ان اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ اس وقت گورنمنٹ سکولوں میں اردو میڈیم کا نظام تعلیم تھا۔سو اس وقت انگلش میڈیم سکول وقت کی ضرورت تھا ۔ اور یہی وجہ تھا کہ محکمہ تعلیم پہ سوچنے پر مجبور ہوگیا اور پھر گورنمنٹ میں بھی نظام تعلیم کو انگلش میڈیم کردیا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔