جس کو باندھنا ہے اسکو کھلا چھوڑدیا۔۔۔۔۔۔

جس کو باندھنا ہے اسکو کھلا چھوڑدیا۔۔۔۔۔۔

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
تحریر: ابن مرشد ڈاکٹر
ایک زرعی کنسلٹنٹ غیر ملک سے بلتستان آیا. بلتستان میں دواران سفر شگر میں پہنچ کے اس نے سوال کیا کہ یہ جو درختوں کے ساتھ کپڑا باندھ کر رکھا ہوا ہے اسکا فلسفہ کیا ہے؟ میں نے اسکو بتا یا کہ یہ ہما رے بزرگوں کا پودوں کو مویشیوں سے بچانے کے لئے اختیار کیا گیا قدیمی نسخہ ہے۔ چونکہ یہاں فری گریزینگ (مویشیوں کی مادر پدرآذادی ) کا رواج ہے۔ پودوں کو گوبر کے لید کی لپائی کے علاوہ چھیتڑوں میں ملبوس کرنا ضروری ہے ورنہ خوراک کی کمی کے شکار بکریاں پودو ں کے چھلکے کتر کے کھا جتے ہیں۔
IbneMurshidانگریز نے پہلے حیرانی سے میری طرف ہونقوں کی طرح دیکھا ۔ میں نے سوچا شائید میں سمجھانے میں  ناکام رہا۔۔کیونکہ نا چیز انگریزی اور اشاروں کی زبان دونوں میں کلی مہا رت نہیں رکھتا۔۔۔ اس نے سر کو کھجا یا اور گویا ہوئے کہ دنیا کا واحد خطہ میں نے دیکھا جہاں جس چیز کو باندھ کے رکھنا چاہئے اسے کھلا چھوڑا ہوا ہے اور جس چیز کو کھلا چھوڑنا چا ہئے اسے باندھا ہوا ہے۔۔۔۔۔
میں اسکی اس انوکھی منطق پہ حیران رہ گیا۔۔۔۔۔ مین نے اس بات کو اس انداز سے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔مجھے اس انگریز اور اسکی بات کل بری طرح یاد آئی۔۔۔۔ہم کل دوران سفر سکردو سے اسلام آباد جاتے ہوئے تھلیچی جگلوٹ چیک پوسٹ پر پہنچے تو ہائی روف کو وہاں روک دیا ۔۔۔۔پوچھنے پر بتا یا گیا کہ آپ کو ٹائم پر نہ پہنچنے کی وجہ سے آگے گزرنے کی اجازت نہیں۔۔۔۔سیکیورٹی کے لئے گورنمٹ نے شام چار کے بعد سفر پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔۔آپ لوگ کل صبح چار بجے سے پہلے نہیں جا سکتے ہیں ۔۔وین میں سوار افراد بشمول ناچیز اپنے بچوں کوسرحد میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے لئے ایبٹ آباد لیکر جا رہے تھے۔
معاملہ حساس تھا۔۔ہم دوستون نے کن مشکل مراحل سے سفارشیں کروا کے چلاس تک کا اجازت نامہ حصل کیا یہ الگ کہانی میں لکھوں گا۔۔۔فی الحال لیٹ پہنچنے کی وجہ سکردو سے عالم برج تک روڈ کی خستہ حالی تھی۔ جسکو موجودہ صوبائی حکومت نے پچھلے پانچ سال میں کبھی درخو توجہ نہیں سمجھا تھا۔ اور اب اس روڈ پر سفر کرنے والے ہر مسافر کے منہ سے حکمرانوں کے حق میں دعائے خیر خود بخود نکلتے ہوئے ناچیز نے نے خود سنا اور بعض دعائیں ایسی ہوتی تھیں جنہیں صرف چھڑے ہی سن سکتے تھے۔۔۔
راستے میں وین ٹائر کئی دفعہ پنکچر ہواجسکی وجہ سے ہم شام چار کے بعد تھلیچی چیک پوسٹ پہنچے تھے۔۔۔ہم نے حساب لگایا تو فیملی کے ساتھ اس ویرانے میں بارہ گھنٹے گزارنے تھے۔۔۔۔یہ ہمارے لئے خود دہشت بھرا پیغام تھا۔۔۔۔ہماری فہم میں یہ بات بھی نہ آئی کہ روکنا ہی ہے تو چیک پوسٹ کو جگلوٹ شہر میں کیوں نہیں بنایا۔۔۔ویرانے میں روکنے میں کونسی بڑی حکمت پوشیدہ ہے؟۔۔ اور کیا دہشت سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ شہریوں کے سفر میں مشکلات پیدا کریں اور سفر پر ہی یکسر پابندی کیوں نہیں لگاتے ہو۔۔۔۔؟ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔۔۔ ۔۔۔۔
ہمارے وین استاد نے سکیورٹی والوں کی بہت منت سماجت کی۔۔۔۔۔مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ دہشت گردوں سے شہریوں کو تحفظ دینا ڈبل ٹریپل تنخواہ وصول کرے والے اہلکاروں کا کام ہے۔۔۔۔۔اگر یہ اپنے فرائیض ادا کرنے کی بجائے لوگوں کو شاہراہ قراقرم پر آذادی سے سفر سے روکتے ہیں تو یہ انکی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔میں سوچتا رہا۔۔۔۔
اگر وہ انگریز یہاں ہوتا تو میں اسکو بتا دیتا کہ میرے ملک میں پچھلے 67 سالوں سے یہی ہوتا آرہا ہے کہ جس کو باندھنا ہے اسکو کھلا اور جسکو کھلا چھوڑنا ہے اسے باندھا ہوا ہے۔ 
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔