یاسین، موڈوری لنک روڈ کے متاثرین تین سال بعد بھی زمینوں کے معاوضے سے محروم ہوگئے

یاسین، موڈوری لنک روڈ کے متاثرین تین سال بعد بھی زمینوں کے معاوضے سے محروم ہوگئے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین(نامہ نگار) تحصیل یاسین کے دورآفتادہ گاؤں سندھی میں واقع تاریخی قلعہ موڈوری لنک روڈ کے متاثرین تین سال بعد بھی سڑک کی زد میں آنے والی زمینوں کے معاوضے سے محروم ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق تین سال قبل محکمہ تعمیرات ضلع غذر کی جانب سے موڈوری لنک روڈ کی تعمیر کا ٹینڈر جاری کیا گیا جس پر گاؤں سندھی ہی کے ایک مقامی ٹھیکدار نے لنک روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ لیا اور اسی سال ہی لنک روڈ کا تعمیراتی کام مکمل کیا مگر تین سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود مذکورہ لنک روڈ کے لئے زمین دینے والے چکمجور، دالگرم اور چختائے کے مکین زمینوں کے معاوضے سے محروم ہوگئے۔ موڈوری لنک روڈ کی زد میں آنے والی زمین مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنی کاشت شدہ اور غیرکاشت شدہ زمین اس شرط پر سڑک کے لئے دی تھی کہ انہیں اس کے بدلے میں حکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جائے گا مگر تین سال بعد بھی زمینوں کے معاوضوں کا کوئی پتہ نہ چل سکا جس کی وجہ سے متاثرین میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاوضوں کے حصول کے لئے کئی بار تحصیل ٓفس یاسین اور ڈپٹی کمشنر آفس غذر کا چکرلگایا مگر اس باوجود کسی بھی طرف سے کوئی شنوائی نہ ہوسکی اور اب پتہ چلتا ہے کہ ان کے معاوضہ جات کی ادائیگی کو محکمہ تعمیرات کے کھاتے سے خارج کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر غذر کی جانب سے غذر میں متعدد سکیموں کی مد میں کروڑوں روپے کے معاوضے ادا کئے گئے لیکن موڈوری لنک روڈ کے متاثرین کو اس موقع پر بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا جوکہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر غذر رائے منظور علی اور ایکسیئن بی اینڈ آر غذر فرمان علی سے اپیل کی ہے کہ ان کی زمینوں کے معاوضہ جات نئے مارکیٹ ریٹ کے حساب سے جلد از جلد ادا کرنے کے لئے اقدامات کریں بصورت دیگر علاقہ مکین اپنے حق کے حصول کے لئے احتجاج پر مجبور ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔