اگر ہم چائنا کے ہمسایہ نہ ہوتے ۔۔۔۔۔

اگر ہم چائنا کے ہمسایہ نہ ہوتے ۔۔۔۔۔

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شرافت علی میر 

چائنا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر کام میں ہمشیہ اپنے مفاد کو مقدم رکھتا ہے اور جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے بہتر مفاد کے لیے کرتا ہے۔  اس وقت شاہراہ قراقرم کی تعمیر اور گوادر پورٹ پر جو بھی کام ہورہا ہے۔ اس سے بھی چائنا کا اقتصادی، معاشی اور سیاسی مفاد وابستہ ہے.  وہ اپنے بہتر مفاد میں کررہا ہے ۔تاہم، ان منصوبوں کی تعمیر کا فائدہ کسی نہ کسی طرح ہمارے ملک کو بھی ملتاہے۔

شاہراہ قراقرم وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان اور چائنا کو آپس میں ملاتا ہے یہ دفاعی لحاظ سے اگر پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے تو چائنا کے لیے معاشی لحاظ سےاہمیت رکھتاہے۔ صوبہ سینکیانگ سے بجینگ اور دوسرے ساحلی شہروں تک زمینی راستہ پاکستان کے ذریعے بحیرہ عرب تک فاصلے سے تین گنا زیادہ ہے۔ اسی لیے چائنیز حکومت کی کوشش رہی ہے کہ جلد ازجلد شاہراہ قراقرم کی تعمیر و مرمت کومکمل کیا جاۓ اس کے علاوہ پاکستان میں جتنے بھی میگا منصوبے چل رہے ہیں ان کے ٹھیکے اس وقت چائنیز کمپنی کے پاس ہے اور ان پراجیکٹ کے لیے تمام تر مشینری چائنا سے آتی ہے اور اسی شاہراہ قراقرم کے زریعے ہی آتی ہے ۔ اس لیے چائنیز بھر پور کوشش کرتے ہے کہ یہ راستہ کبھی بند نہ ہو۔

Sino-Pak-border

عطاآباد جھیل بھی ان کے راستہ میں رکاوٹ نہیں بن سکا ج۔ب  شاہراہ قراقرم کا 28 کلومیٹرحصہ پانی میں ڈوب گیا تو گوجال کا زمینی راستہ دوسرے علاقوں سے منقطع ہوگیا تھا۔اس کا اثر چائنیز کے تجارت اور پراجیکٹ پہ بھی ہوا لیکن چائنیز کا کام کبھی رکتا نہیں ہے. ان کے پاس متبادل راستہ ہوتا ہے. اگر سیلاب یا طوفان بھی آتا ہے تو وہ دوسرے آپشن پہ کام کر کے اپنے کام کو جاری رکھتے ہے. یہی چیز ہم نے عطاء آباد جھیل میں میں بھی دیکھا. جب سانحہ عطاآباد رونما ہوا تو گوجال میں شاہراہ قراقرم کی مرمت کا کام جاری تھا اور اس کے لیے سیمنٹ پشاور سے اور دوسرے سامان چائنیا سے آتا تھا اور گوادر کے راستے دوسرے ملکوں تک جاتا تھا۔ پھر جب کشتی کا سلسلہ شروع ہوا تو چائنیز نے ایک فیری (رافٹ) اس جھیل میں اتارا جس پر بیک وقت 6 ٹرک آسکتے ہیں. اور ایک ٹرک میں 600 بیگ سیمنٹ ہوتا ہے یعنی 6 ٹرک 3600 بیگ سیمنٹ کے ساتھ بیک وقت اسی رافٹ کے زریعے ان بھاری مشینری کو انھوں نے جھیل کے پار نکالا۔

ایف۔ڈبلیو۔او کے پاس بھی فیری ہے لیکن اس کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ 2013 میں ان کے فیری سے ایک ٹرک اس جھیل میں گر گیا تھا اس کے بعد ان کی سروس بند ہے۔

عطا آباد سے آیین آباد تک انھوں نے دربارہ سروے کیا سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کی اس مقام پر دوبارہ ایسا سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ اور پھر دوبارہ یہ شاہراہ بند ہوجائیگا ۔جس کے لیے چائنیز کمپنی نے فیصلہ کیا کہ اس جگہ سرنگ تعمیر کی جاۓ جس کی لمبائی 7 کلومیٹر ہے اور 2012 میں انھوں نے اس سرنگ پہ کام شروع کیا جو 2015 میں مکمل ہوجائیگا۔

اسی طرح غلکین اور حسینی کے درمیان گلشیر کے پانی سے روڈ کو  جو نقصا ن پہنچا ہے وہ بھی چائینز کمپنی وقتا فوقتا ٹھیک کرتا ہے اور اس وقت ٹھیک کرتاہے جب چائنیز کا سامان آتاہے ۔

جھیل میں ریت بھرنے کی وجہ سے رافٹ کنارے تک نہیں آسکتا ہے ۔کچھ وقت کے لیے ان کا کام روک گیا لیکن اس کے لیے بھی چائنیز نے گلمت اور ششکٹ کے درمیان ایک عارضی پل تعمیر کیا ہے جس سے گاڈیوں کی آمدورفت آیین آباد تک ممکن ہوگی۔ اس بار جب جھیل میں برف جم جائی گی۔ تو آیین آباد تک گاڈیوں کی آمد رفت ممکن ہوسکے گی۔

یہ جھیل اگر رکاوٹ ہے تو ہمارے لیے ہے. ہم پاکستانیوں کے لیے رکاوٹ ہے. اور ہم سرنگ کی تعمیر کا انتظار کررہے ہیں۔

مسگر پاور ہاوس کی مشینری اس وقت علی آباد سے کچھ دور ڈور کھن کے مقام پر  پڑا ہے اور اس کے لیے روڈ کی تعمیر کا انتظار ہورہا ہے. تب تک بارش اور دھوپ سے بہت ساری چیزیں خراب ہوجائیگی۔ اس کے علاوہ گوجال کے جتنے بھی میگا پراجیکٹ ہے وہ اس وجہ سے سست روی کا شکار ہیں۔

جھیل میں جب برف جمتا ہے تو آمدورفت مکمل بند ہوتا ہے۔ تیزآندھی چلتی ہے تو کشتی سروس بند ہوتا ہے ۔بلکہ ہیلی بھی نہیں چلتی ہے۔ یعنی ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے پاس برف اور آندھی کے لیے کوئی علاج نہیں ہے۔

اور تو اور سانحہ عطاآباد کے فور‏ا بعد گوجال سے منتخب ہونے والے ایم ایل اے جناب وزیر بیگ صاحب نے بھی بیان دیا تھا کہ ہنزہ میں بھی ایک ڈیم ہونا چائیے۔نہ صرف بیان تک رہے بلکہ پی ۔ایس ۔ایف کے کارکنوں نے جب اس جھیل کے خلاف آواز اٹھایا تو پیپلز پارٹی کے حکومت کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف پرچہ بھی درج کیا گیا ۔حالانکہ وزیر بیگ کو جتوانے میں پی ۔ایس ۔ایف گوجال یونٹ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپیکر صاحب اس جھیل کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھنے کے حق میں تھا۔

ہم علی آباد کے کالج گراونڈ میں اس کرنیل کے بیان کو بھی نہیں بھولے، جس نے غصے میں بہادری دکھاتے، گرجتے ہوۓ، مسافروں کو کہا کہ تم لوگوں کی کیا اوقات ہے تم ہیلی میں چلتے ہو۔ اسی وقت ایک مسافرنے ان کو جو جواب دیا تھا، کہ سر بہادری ہمیں نہ دکھاو بہادری دکھانا ہے تو جا کر اسپل وے پہ دکھاو، اس جواب کو بھی ہم نہیں بھولے ہیں.

اگر ہم چائنیز کے ہمسایہ نہیں ہوتے تو آج عطاآباد جھیل کے متاثرین گلگت بلتستان کے کسی صحرا یا ویران جگہ دشت یا داس میں بطور مہاجر امداد کے منتظر ہوتے اور خیموں میں زندگی گزار رہے ہوتے۔ اور اگر ہم گوجال سے نہیں نکلتے اور جتنا بھی احتجاج کرتے تو کسی نے سننا نہیں تھا۔ اور عین ممکن ہوتا کہ حکومت طاقت کا استعمال کرکے لوگوں کو گوجال سے نکال کر کسی ویران جگہ لے جا کر خیمہ بستی میں آباد کراتے۔ کیونکہ اس جھیل کو پار کرنے کے دو راستے ہیں، بذریعہ کشتی یا پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے۔ اگر ہم چائینہ کے ہمسائہ نہ ہوتے تو کسی نے اس جھیل کو خارج کرنے کی کوشش نہیں کرنا تھا، اور نہ ہی کسی نے اتنے بڑے پہاڈ کے اندر سے میلوں تک پھیلے سرنگ بنانا تھا۔ ہاں، سیر و تفریح اور قدرتی مناظر سے محظوظ ہونے کے لئے شائد اس علاقے کو سیرگاہ ضرور بنایا جاتا۔

اللہ بھلا کرے ان لوگوں کا جو اس روٹ پہ تجارت کرتے ہیں ۔اور اپنا رزق روزی اس شاہراہ کے زریعے کماتے ہے ۔ان میں ہمارے قومی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران ،ریٹائرڈ جرنیل اور بیوروکریٹ شامل ہے جو اس روٹ سے اربوں روپیے کی تجارت کرتے ہیں۔ ۔ انہی لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر مختلف فورم پہ آواز اٹھایا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کے ممبران جو کافی عرصے سے اس روٹ پہ تجارت کرتے ہیں بلکہ تجارت کے لیے مختلف بینکوں سے قرضہ بھی لیاکرتے ہیں، انہوں نے بھی وقتا فوقتا قانون ساز کونسل میں آواز بلند کی۔

لیکن اللہ سب سے زیادہ بھلا کرے چین کا، جو ہمارا ہمسایہ ہے اور جو اپنی معشیت کو مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور اس کی ایک کو شش یہ ہے  کہ صوبہ کاشغر کو براستہ شاہراہ قراقرم گوادر سے ملاۓ ۔ اور یہ شاہراہ خوشقسمتی سے  گوجال سے ہوتے ہوۓ چین تک جاتی ہے۔ اس وقت روڈ پہ تیزی سے کام ہورہا ہے ۔اسپل وے پہ بھی کام ہورہا ہے ۔ سرنگ بھی بن رہا ہے ، پل بھی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے اور ان کی وجہ سے گوجال اور گوجال کے عوام کی اہمیت ہے اور ہماری آمد و رفت بھی جاری ہے اور جاری رہے گی۔

پاک چین دوستی زندہ باد

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔