ضلع ہنزہ نگر ہیڈ کوارٹر کا فیصلہ آنے والی حکومت کرے گی، میر غضنفر علی خان

ضلع ہنزہ نگر ہیڈ کوارٹر کا فیصلہ آنے والی حکومت کرے گی، میر غضنفر علی خان

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
ہنزہ نگر ( بیورو رپورٹ ) علی مدد شیر اینڈ کمپنی کو کسی نے یہ اختیار نہیں دیا ہے کہ ضلع ہنزہ نگر کے ہیڈ کواٹر کے لئے مناپن موزوں قرار دے۔ ہنزہ نگر کو ضلع بنانے والے اس وقت خاموش ہیں. ضلع ہنزہ نگر سابق صدر پر ویز مشروف نے عوام ہنزہ نگر میں بے روز گاری ختم کرنے کیلئے تحفے میں دیا تھا۔ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں علی مدد شیر اور ان کے حواریوں نے نوکریوں کی خرید وفروخت کے سوا کچھ نہیں کیا ہے اقتدار کے چند ایام رہ چکے ہیں جانے کی تیاری کرلے ۔ہنزہ نگر کے ہیڈ کواٹر کا فیصلہ آئندہ انے والی حکومت اور عوام کی اکثیریت رائے کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
gakان خیالات کا اظہار سابق چیف ایگریکٹو گلگت بلتستان و رہنما پاکستان مسلم لیگ ن میرغضنفر علی خان نے ہنزہ میں میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہنزہ نگر کے اکثیرتی آبادی مرکز میں ہے 20فیصد عوام کے لئے 80فیصد عوام کو تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ حکومت گلگت بلتستان نے آگر یہ فیصلہ کیا ہے تو ان کی غلط فہمی ہے اور میں اس کی سختی سے مذمت کرتا ہوں اور اس کے خلاف ہنزہ نگر کے عوامی اکثیریت پہاڑ کی طرح کھڑے ہو جائیں گے اور بھر پور طریقے سے مخالفت کرینگے۔ کسی بھی علاقہ کا ہیڈ کواٹر پہاڑ کی چوٹی یا دریا کے کنارے پر نہیں بناتے بلکہ عوام کی سہولت کو دیکھتے ہوئے ہیڈ کواٹر کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
میر غضنفر علی خان نے مزید کہا کہ ہنزہ نگر کے ہیڈ کواٹر ایسے جگہ ہو جو شاہراہ قراقرم کے ساتھ یا عوام کی اکثریت رائے کے مطابق ہو۔ مناپن کو ہیڈ کواٹر بنانے کے بجائے گلگت ہی مناسب ہے کیونکہ اس وقت ہنزہ نگرسے گلگت زیادہ سے زیادہ ایک آدھا گھنٹا دور ہے۔
میر غضنفر علی خان نے مزید کہا کہ مناپن میں ہیڈ کواٹر کو موزوں قرار دیناعوام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ علی مدد شیر اور ان کے ساتھیوں کو چاہیے تھا کہ عوامی اکثیریت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور مختلف سیاسی پارٹیوں سے صلاح مشورے کے بعد ایک بہتر ٖفیصلہ دینا چاہیے تھا۔ضلع ہنزہ نگر کا اعلان کئے ہوئے8سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا اس وقت ہنزہ نگر کے اکثیرتی آبادی نے ڈونگ داس کو موزوں قرار دیا تھا اور بعد کے ایک پارلیمانی کمیٹی نے بھی ڈوننگ داس اور ساس ویلی کو ایک ساتھ موزوں قرار دیا تھا اور تیسری خود ساختہ پارلیمانی کمیٹی جو کہ ہنزہ نگر کے سفری مشکلات سے ان کو آگاہی ہی نہیں اپنے سیروتفریح کے لئے آئے ہوئے تھے انھوں نے اندھیرے میں ایک نام نہاد فیصلہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ انتہائی نا مناسب او ر غیر موزوں ہے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔