کمینوٹی پولیسنگ کے ذریعے گلگت بلتستان میں جرائم کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے، اشتیاق احمد یاد

کمینوٹی پولیسنگ کے ذریعے گلگت بلتستان میں جرائم کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے، اشتیاق احمد یاد

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
پروگرام کے اختتام پر پولیس افسران کا اشتیاق احمد یاد کے ساتھ گروپ فوٹو

گلگت، پروگرام کے اختتام پر پولیس افسران کا اشتیاق احمد یاد کے ساتھ گروپ فوٹو

گلگت (نامہ نگار) کمیو نٹی پلو سنگ (Community Policing) کے ذریعے گلگت بلتستان کو سماجی برائیوں اور جرائم سے پاک کرنے میں زبردست مدد مل سکتی ہے۔ بالخصوص فرقہ واریّت کے ناسور کی بیخ کنی اور مستقل امن و یکجہتی کے قیام کے لیے اس کی ضرورت و اہمیّت مسلّمہ ہے۔ اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک طرف محکمہء پولیس کے تمام افسران اور سپاہی مکمل خلوصِ دل، دیانتداری، جذبہء انسانی، خدمتِ خلق اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کو ہر قدم پر فوقیّت دیں اور اس کا عملی مظاہرہ کریں۔ اور دوسری جانب عوام اور تمام شراکت دار (stakeholders) ایسے ہی اوصاف کو سامنے رکھتے اور عملی جامہ پہناتے ہوئے پولیس کا ساتھ دیں۔ یہی کمیو نٹی پلو سنگ ہے اور اس طریقِ کار کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ماہرِ سماجیات ، لیکچرر اشتیاق احمد یادؔ نے RTC گلگت میں گلگت بلتستان کے پولیس افسران کے لیے کمیو نٹی پلو سنگ کے عنوان سے رکھی گئی ٹرینگ میں لیکچر دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر مذید کہا کہ جن ممالک میں کمیو نٹی پلو سنگ اس کی اصل روح کے ساتھ نافذالعمل ہے وہاں سماجی برائیوں اور جرائم کے خاتمے میں غیر معمولی مدد ملی ہے۔گلگت بلتستان میں عوام کا پولیس پر بھروسہ اور اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام انہیں اپنا مسیحا اور مددگار سمجھنے کے بجائے ان سے دُور بھاگنے اور اجتناب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان دو اہم طبقات اور شراکت داروں میں اعتماد اور بھروسے کا شدید فُقدان پایا جاتا ہے جسے Trust Deficit کہا جاتا ہے۔کمیو نٹی پلو سنگ ایک ایسا موثر اور قابلِ عمل ذریعہ ، مہارت اور ہتھیار ہے جس کو اس کی اصل روح کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہ Trust Deficit ختم ہو سکتا ہے اور پھر عوام پولیس کو اپنا مسیحا اور مددگار سمجھنا شروع کرے گی۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔