شمالی امریکہ میں اسلامی تہذیب کے لیےمختص پہلا عجائب گھر عوام الناس کے لیے کھول دیا گیا

شمالی امریکہ میں اسلامی تہذیب کے لیےمختص پہلا عجائب گھر عوام الناس کے لیے کھول دیا گیا

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
ٹورنٹو کینیڈا میں واقع چھ اعشاریہ آٹھ ہیکٹر کے رقبے پہ پھیلا یہ عمارت جدید طرز تعمیر کا شاہکار ہے اور اسے مکمل طور پر اسلامی فنون اور ورثے کی ترویج اور تشریح کے لیے وقف کر دیا گیا ہے.

ٹورنٹو کینیڈا میں واقع چھ اعشاریہ آٹھ ہیکٹر کے رقبے پہ پھیلا یہ عمارت جدید طرز تعمیر کا شاہکار ہے اور اسے مکمل طور پر اسلامی فنون اور ورثے کی ترویج اور تشریح کے لیے وقف کر دیا گیا ہے. اسکی تعمیر پر 

گلگت(پ ر) ٹورنٹو میں قائم کئے گئے آغا خان عجائب گھر(میوزیم) کے دروازے عوام الناس کے لئے کھول دئیے گئے ہیں۔ پرنس کریم آغا خان سے موسوم اس عجائب گھر(میوزیم) کے قیام کا مقصد عالمی ورثے میں مسلم تہذیب کی جانب سے فن، دانش اور سائنس کے شعبوں میں پیش کئے گئے شاہکاروں سے عوام کو روشناس کرانا ہے۔
افتتاح کے اس موقع پر عوام کے لئے دو نمائشوں کا اہتمام کیا گیا تھاجن میں سے ایک نمائش کا عنوان ’’فنکار کی تلاش: آغا خان میوزیم کلیکشن سے مصوروں کی دستخط شدہ تصاویر اور خاکے‘‘ جب کہ دوسری نمائش کا عنوان’’گلزار تخیل: پاکستان میں عصر حاضر کا فن‘‘ تھا۔ پہلی نمائش میں عجائب گھر(میوزیم)کے مستقل ذخیرے میں موجودفن پاروں میں سے ایرانی اور انڈین شاہکاروں سمیت دستخط شدہ منتخب تصاویر اورخاکے رکھے گئے تھے جب کہ دوسری نمائش میں، یعنی ’’گلزار تخیل: پاکستان میں عصر حاضر کا فن‘‘ ، میں پاکستان میں رہائش پذیرچھ فنکاروں بنی عابدی، نورجہاں اخلاق، ڈیوڈ چامرز ایلسورتھ، عائشہ خالد، عاطف خان اور عمران قریشی کے فن پارے رکھے گئے تھے۔
فنکارانہ اسلوب اور مواد کی وسعت کے مظہر عجائب گھر(میوزیم) کا یہ مستقل ذخیرہ شاہکار فن پاروں سمیت ۰۰۰،۱ سے زائد اشیاء پرمشتمل ہے۔ پورٹریٹس، ٹیکسٹائل، منی ایچرز، ٹائلز،مینو اسکرپٹس، سرامکس، کتابوں، طب کے موضوع پر تحریریں اور آلات موسیقی انسانی تاریخ اور جزیرہ نما آئبیریا سے چین تک پھیلے ہوئے جغرافیائی خطے کی دس صدیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اسلامی تہذیبوں کے آئینہ دار تھے۔
عجائب گھر(میوزیم) کا باقاعدہ افتتاح عوام الناس کے لئے کھولے جانے سے چھ  روز قبل یعنی ۱۲ ستمبر، ۲۰۱۴ کو ہوا۔ اس موقع پرحاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پرنس امین آغا خان نے خاص طور پر کہا کہ ’’ہم آغا خان عجائب گھر (میوزیم) سے جس غیر معمولی کردار کی توقع رکھتے ہیں وہ غیر مسلموں کے لئے تاریخ اور مسلم دنیا کی ۔ جو دنیا کی آ بادی کا تقریبا پانچواں حصہ ہے ۔ فنکارانہ روایات کے مابین ایک مؤثررابطہ کا قیام ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جسے خود مسلمان بھی بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔‘‘
اس موقع پرحاضرین سے خطاب کرتے ہوئے عجائب گھر(میوزیم) کے ڈائریکٹر ہنری کم نے کہا کہ’’عجائب گھر(میوزیم) مسلم تہذیبوں کی گزشتہ دس صدیوں کے دوران کامیابیوں اوران علاقوں سے تعلق رکھنے والے عصر حاضرکے فنکاروں کی تخلیقات ، دونوں کو نمائش کے لئے پیش کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’‘ہمیں یقین ہے کہ دونوں مل کر ایسی دنیاؤں کے لئے ایک دریچہ پیش کرتے ہیں جنہیں ابھی تک ٹھیک طرح سے دریافت نہیں کیاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ نمائش مسلم دنیا کی تمام تہذیبوں کو ان کی تمام ترتنوع کے ساتھ بہترطور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔‘‘ اپنی ابتداء سے ہی جغرافیائی، لسانی، اور تمدن کاقابل ذکرتنوع ان مسلم تہذیبوں کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔ ٹورنٹو ۔ اور زیادہ عمومی طور پر کینیڈا ۔ تنوع کو قبول کرنے کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ لہذا یہ شہر ایک ایسے ادارے کے لئے مثالی گھر کی حیثیت رکھتا ہے جو دنیا بھر کے تمام تمدن کے مابین باہمی مفاہمت، احترام اور برداشت کو فروغ کے لئے کوشاں ہے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔