[سفرنامہ] چترال سے کافرستان تک

[سفرنامہ] چترال سے کافرستان تک

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانی

دارالعلوم چترال کی فرشی نشست میں اگلے دو دن کا پروگرام طے پایا۔ہم صرف ایک دن کے سفر کی نیت سے نکلے تھے مگر وہاں کے علماء نے مزید دو دن ٹھہرنے پر مجبور کیا۔ شاہی قلعہ چترال اورشاہی مسجد کی زیارت کے بعد ہم کیلاش کی طرف روانہ ہوئے۔کیلاش جس کو کافرستان بھی کہا جاتا ہے۔ بھائی نورمحمد نے قاضی صاحب کو اپنی گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھایا ، ہم نے سیکورٹی کا عذر کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ چترال ہے گلگت نہیں۔ یہاں ہم معزز مہمانوں کو پچھلی نشست میں بٹھانا معیوب سمجھتے ہیں۔ یوں چترال بازار سے ہوتے ہوئی چھاؤنی پل کراس کرکے کیلاش روانہ ہوئے۔ چترال بازار بہت چھوٹا معلوم ہوا۔ روڈ بھی بہت تنگ۔ جگہ جگہ کھڈے۔ ہمارے احباب کا مشاہدہ یہ تھا کہ گلگت کی نسبت چترال بہت پسماندہ ہے۔ یہاں کے ہوٹل مہنگے ہیں۔ بازاروں کی حالت بھی کوئی قابل ذکر نہیں۔چترال کے لوگ بہت معتدل ہیں۔ نرم خوئی میں پورے ملک میں ان کی مثال نہیں ملتی۔۔بھائی نورمحمد چترال کی خوبصورت وادیوں کا تعارف کرواتا جاتا۔بروز میں برلب روڈمسجد گنبد میں نماز ظہر ادا کی ۔ قاضی صاحب کے رفیق درس مولانا نصیرخان نقشبندی نے ہمارے احباب کا بعدِ نماز اکرام کیا اوروہاں سے اپنے گھر کی راہ لی۔وہاں مولانا انعام الحق مہتمم علوم الشرعیہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ہم پشاور روڈ سے ٹرن لیتے ہوئے ایون کی طرف مڑے۔ برور سے لواری ٹنل تک چالیس کلومیٹر کا سفر ہے۔ لواری ٹنل کا فاصلہ آٹھ کلومیٹر ہے۔اس کا ٹھیکہ کورین کی سامبو کمپنی کے پاس ہے۔ پشاور روڈ سے ایون کا منظر بے حد ہی دلچسپ لگتاتھا۔ گندم کی فصلیں پک کرتیار ہوئی تھیں اور ایون کا پورا علاقہ سبزہ اور گندمی رنگ سے رنگا ہوا تھا۔ بڑا ذرخیز علاقہ ہے ۔ہرے بھرے کھیت و کھلیان اور لمبے لمبے درخت اور ساتھ ساتھ دریائے چترال کی نیلگوں لہریں دل لبھانے کے لیے مستعد تھیں۔

ایون نسبتا ایک گنجان علاقہ ہے۔ایون میں چترال کا نیا تبلیغی مرکز بھی بن رہا ہے۔ پرانا تبلیغی مرکز مین بازار چترال میں ہے ۔ ایون سے کیلاش تک کا روڈ کچا ہے۔پرانی وضع قطع اور خوبصورت مٹی سے بنے مکانات تھے۔ ترچ میر چترال کا سب سے اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 7708 میٹر ہے۔ترچ میر کو پہلی بار ناروے کے ایک کوہ پیما نے 1964میں سر کیا تھا۔ایون کے ٹاپ سے ترچ میر کی چوٹی صاف دکھائی دیتی تھی۔جہاں سے ہم نے ترچ میر کا نظارہ کیا۔ وہی سے دو قدم پر مولانا مستجاب کی آخری آرام گاہ ہے۔ مولانا مستجاب چترال کی مشہور دینی شخصیت کا نام ہے۔ ایون ان کے گاؤں کا نام ہے جہاں مولانا مرحوم کی مسجد بھی ہے ۔ سننے میں آیا کہ مولانا نے چترال میں تصوف کے میدان بڑی محنت کی ہے اور مسلمانوں کی بنیادیں مستحکم کی ہیں۔ برلب سڑک سے گاڑی روک کر ان کے لیے فاتحہ پڑھی ۔ بھائی نورمحمد فرما رہے تھے کہ وہ یہاں کی متاثر کن شخصیت تھے۔قاضی نثاراحمد نے کہاکہ مولانا مستجاب صاحب ؒ میرے والد ماجد قاضی عبدالرزاق ؒ کے دوستوں میں سے تھے۔ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں ہیں۔اسی وجہ سے ان کے شاگر د مولانا عبدالرحیم استاد جامعہ اشرفیہ سے والد صاحب محبت فرمایا کرتے تھے۔اسی اثناء مجھے چترال کا ایک اور بڑا نام یاد آیا۔ جس کی شہادت پرپورا ملک رویا تھا اور پھرآج تک ان کے قاتلوں کا سراغ تک نہ لگ سکا۔ وہ ہیں پاکستان کی عظیم علمی شخصیت مولانا عبیداللہ چترالی رحمہ اللہ۔ قاضی صاحب ان کے گھر حاضری دینا چاہتے تھے اور ان کے صاحبزادوں سے ملنا چاہتے تھے مگر قلتِ وقت کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔فون پر انہیں سلام بھیجا۔کہاں وہ علمی شخصیات اور ان کے دبدبے اور کہاں یہ بے رعنائیاں۔ سچ یہ ہے کہ رہے نام اللہ کا، رات دن کا یوں الٹنا اور پلٹنا اور گردشِ ایام تو اسی ذات کبریا کے ہاتھ میں ہے اور گردش روزگار اسی کے تابع فرمان۔

ayoon pic 1 (4)ایون کے اختتام پر دوباش کی چیک پوسٹ آتی ہے۔چھوٹی سی پل ہے۔ ایک طرف چترال بارڈر پولیس جبکہ دوسری طرف چترال پولیس کی چیک پوسٹیں ہیں۔ غیرمقامیوں کی انٹری ہوتی ہے یا شناختی کارڈ رکھ لیے جاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ایلیٹ فورس کے جوان موجود تھے اور مقامی ساتھی بھی ،جس کی وجہ ہمیں فورا بغیر انٹری کے جانے دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چترال پولیس اور چترال بارڈ فورس کے نوجوان انتہائی ملنسارہیں۔ خندہ پیشانی سے مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے پولیس اور فورس کی طرح ترش روی سے پیش آنا ان کا شعار نہیں۔ ان کی خوش اخلاقی اور وجہہ طلقی پرقاضی صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب چیک پوسٹ سے رخصت کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہمیں چائے پلا کر رخصت کرررہے ہیں تو حق نواز صاحب نے کہا کہ نہیں حضرت بلکہ یوں لگتاہے کہ ہم نے انہیں کھانا کھلایا ہے‘‘۔ واقعی جب بیریئر اوپن کرتے تھے تو ان کی مسکراہٹ دل افروز ہوتی۔ دوباش چیک پوسٹ سے بمبوریت تک بارہ میل کا سفر ہے۔ درمیان کی اکثر آبادی اہل سنت کی ہے۔ روڈ کی حالت بہت ہی خستہ تھی ۔ کچی روڈ ہے۔ بعض مقامات تو ڈراؤنے تھے۔نالے کے پانی کا بہاؤ تیز تھا۔ جنگلی حیات کے اثرات واضح نظر آرہے تھے۔دوباش سے رمبور تک کا فاصلہ آٹھ میل ہے۔ رمبور کیلاشیوں(کافروں) کی دوسری آبادی ہے۔بمبوریت تک کا سفر بہت ہی پرلطف تھا۔حسین اور خوبصورت وادیاں اور ان کی قدرتی رنگینی اور فطرتی دلفریبی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

چترال بہت بڑا ضلع ہے۔چترال کا رقبہ چار ہزار پانچ سو مربع میل ہے۔شاید رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے۔چترال کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع چترال کی سات تحصیلیں ہیں ۔چمبر کن، دارکوت،بروغل وغیرہ چترال کے مشہور درے ہیں۔شندور، قزیدہ، چاں تار،یارخون بروغیل وغیرہ مشہور جھیلیں ہیں۔ ارکاری ، لاسپور، تورکھو وغیرہ اہم گلیشئر جبکہ لاسپور، مولکہو، بمبوریت، لٹ کہو وغیرہ چترال کے مشہور دریا ہیں اور یہ تمام دریا، دریائے چترال میں جاگرتے ہیں۔1885ء تک چترال مکمل طور پر آزاد تھا، چترال کی مختلف ریاستوں کے والیان آپس میں جنگ و جدل کرتے رہتے تھے۔ انگریز نے 1885ء کو چترال پر قبضہ کیا تھا۔28جولائی 1969ء میں ریاست چترال کا پاکستان میں ادغام ہوا جبکہ1974ء سے چترال میں مکمل پاکستانی قوانین کا اجراء ہوا۔یعنی چترال کو باقاعدہ پاکستان کا آئینی حصہ بنا کر ضلع بنا دیا گیا۔ چترال میں کئی زبانیں بولی جاتیں ہیں تاہم کھوار سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔چترال کے مشرقی جانب گلگت، سوات اور یاسین کے علاقے ، مغربی جانب بدخشاں ،چین اورروس جبکہ جنوبی کی طرف سے درہ لواری اور دیر کے علاقے واقع ہیں۔ مستوج سے ایک لنک روڈتاجکستان جالگتا ہے ۔ چترال کیلاش کے نالے سے ایک روڈ جاکر افغانستان کا صوبہ نورستان کو لگتا ہے۔یہی نورستان گرم چشمہ کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مجاہدین کے زمانے میں افغانیوں کا کثرت سے آنا جانا تھا بلکہ افغان مجاہدین کے لیے امدادی سامان بھی اسی روٹ سے ہی جاتا۔ 

ayoon pic 1 (2)چترال میں علماء و قراء کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ سیاسی طورجمعیت علمائے اسلام کا ہولڈ ہے۔ تبلیغی جماعت والے بھی طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔چترال اکثریت اہل سنت آبادی ہے جبکہ اسماعیلی برادری بھی کافی تعداد میں ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 70فیصد اہل سنت جبکہ30فیصد اسماعیلی آبادی ہے۔ دونوں کی معاشرتی زندگی بہت پرامن ہے۔ چترال کے علماء بالخصوص مولانا حفیظ الرحمان، گرم چشمہ کے مولانا جلال الدین،تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نثاراحمد اور ان کے احباب مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی امن کے لیے کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں طبقات میں ان کے کردار کو اچھی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔

تین دن کے سفر میں میرا یہ مشاہدہ رہا کہ سخاوت اور مہمان نوازی،اعتدال اور میانہ وری،آپس میں محبت اور اخوت، عفو اور درگذر،خوش اخلاقی اور حسنِ معاشرت، نرم مزاجی اور رفق میں چترال کے لوگ بہت ہی اچھے لگے۔ حدیث میں آتا ہے’’من اعطی حظہ من الرفق فقد اعطی حظہ من الخیر‘‘ جس کو لطف اور نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا ہو اس کو بھلائی سے اس کا حصہ دیا گیا۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہے کہ’’ ان اللہ رفیق یحب الرفق فی الامر کلہ‘‘ اللہ تعالیٰ لطف اور نرمی والا ہے اور تمام معاملات اور معاشرت میں لطف اور نرمی کو پسند فرماتے ہیں۔

چترال کے رسم و رواج، علاقوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں معلومات کا ایک حصہ بھائی نور محمد اور مولانا حفیظ الرحمان کی گفتگو سے اخذ کیا۔وہ دینداروں کی خدمت کرنا کارثواب سمجھتے ہیں ۔مہمانوں کی خدمت کے ساتھ چترال کی سیر کرانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ ان کے گھر میں بڑے بڑے جید علماء کرام تشریف لاچکے ہیں جن میں مولانا تقی عثمانی صاحب، قائد جمیعت مولانا فضل الرحمان صاحب ،شیخ الحدیث سبحان محمود صاحبؒ ،مولانا حسن جانؒ اور اس قبیل کے کبار علماء شامل ہیں۔مہما نوں بالخصوص علماء و فضلاء مہمانوں کی ضیافت کرنا چترالی لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کی ضیافتیں پٹھانوں جیسے لگتی تھیں۔مہمانی اور میزبانی کے بھی کچھ قواعد اور اصول ہوتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے’’الضیافۃ ثلاثۃ ایام وجائزتہ یوم ولیلہ‘‘ یعنی ضیافت تین دن تک کی ہوتی ہے اور مہمان کا خصوصی اکرام ایک رات اور دن تک کرنے کا حکم ہے۔۔ اور مہمانوں کے لیے بھی فرمان نبوی ہے کہ’’ ولا یحل لہ اں یثوی عندہ حتی یحرجہ‘‘ یعنی مہمانوں کے لیے قطعا اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ میزبان کے پاس اس حد تک ٹھہر جائے کہ وہ میزبان کو حرج اور تنگی میں ڈال دے یعنی رحمت کے بجائے زحمت بن جائے۔ چترال کے تین روزہ دورے میں بھائی نورمحمد، مولانا حفیظ الرحمان اور حاجی سرفراز اور دیگر نے مہمان نوازی کا مکمل حق ادا کیا۔ اللہ ان کو جزائے خیر دے۔بہر صورت ہم گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں چترال شہر سے بمبوریت(کافرستان) پہنچ چکے تھے۔ آئندہ کی قسطوں میں کیلاشیوں کے تینوں علاقوں کا تعارف، ان کی تہذیب، رسوم، رواج، لباس، عادات و اطور، مذہبی عقائد و عبادات اور ان سے متعلق دلچسپ معلومات اور ان سے ہونے والی طویل گفتگوئیں اورا س کے تناظر میں اخذ شدہ خیالات آپ تک بہم پہنچاؤنگا ۔ آپ سے دعا کی درخواست ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔(جاری)…

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔