کافرستان (وادی کیلاش) ایک نظر میں

کافرستان (وادی کیلاش) ایک نظر میں

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال سے تقریباً دوگھنٹے کا سفر کرکے ہم بمبوریت پہنچ گئے۔ بمبوریت کیلاشیوں کا صدرمقام ہے۔جناب ثروت مذہباً کیلاشی ہے مگر سیاسی طور پر جے یو آئی بمبوریت کا رہنماء ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کافرستان کی تینوں وادیوں بِریر، رمبور اور بمبوریت کی کل آبادی تقریبا بارہ ہزار کے قریب ہے۔لیکن اس میں کالاش قبیلہ یعنی کافروں کی آبادی صرف تین سے ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ باقی اہل سنت آبادی ہے۔ تبلیغی جماعت والوں نے انتہائی حکمت و بصیرت سے کیلاشیوں کو مسلمان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔مختلف لوگوں سے بات چیت کے دوران مجھ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ کافرستان میں سب سے خوبصورت اور اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے اہل سنت اور کیلاشی آپس میں مذہبی تفریق کےِ بنا رہتے ہیں۔ ان میں مذہبی منافرت اور جھگڑا بالکل بھی نہیں ہے۔اس میں مسلمان اور کیلاشی دونوں کا برابرکا حصہ ہے۔ ہونا بھی چاہیے کیونکہ امن ہر ایک کی ضرورت ہے۔کاش یہ ماحول گلگت اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی پیدا ہوجاتا۔

haqqani logo and pictureدوباش چیک پوسٹ سے بمبوریت تک 12میل کا فاصلہ جبکہ رمبور تک بھی دس کلومیٹر کا راستہ ہے۔ بقول بھائی نورمحمد کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی وادی بمبوریت ہے اور رمبورایک تنگ وادی ہے۔ لیکن لمبائی میں دیگر دونوں وادیوں سے زیادہ ہے ۔ وہاں گھنے جنگلات ہیں اور ایک جھیل بھی ہے۔رمبور میں ایک چشمہ بھی ہے جو امراض پیٹ، پھوڑے ، دانے ،پھنسیوں اور دیگر امراضِ جلد کے علاج کے لیے معروف ہے۔ایک کیلاشی خاتون نے ایک عجیب بات بھی بتائی کہ رمبور سے کیلاش کی ایک خاتون پائلٹ بن گئی ہے جو کیلاشیوں کی پہلی پائلٹ ہے اس کا نام لیکشن بی بی ہے۔ہم رمبور اور بِریر تو نہ جاسکے البتہ بمبوریت کا لطف دلجمعی سے اٹھاتے رہے۔

بمبوریت میں پہنچ کر دوپہر کا کھانا پیلس ہوٹل میں تناول کیا۔ بھائی نورمحمد نے قبل ازوقت انتظام کروا لیا تھا۔ کھانے سے فراغت کے بعد قافلے کے احباب تین گروپوں میں تقسیم ہوئے۔ میں ، بھائی عمر، محمدنواز، مولانا منیر، مولانا نظیم اور ایک مقامی ساتھی اشفاق گاڑی لیے خاص کیلاشیوں کی صدر مقام کے طرف چل دیے جہاں جیسٹک ٹمپل،(جسے کیلاشی لوگ جسٹہ خان کہتے ہیں) بشالینی ،کیلاش دوکانیں اور چہلم و تہواروں کی جگہیں ہیں۔ وادی بمبوریت بہت خوبصورت لگی۔ گندم کے لہلہاتے کھیت، اونچے ہرے بھرے پھلدار درخت ، اخروٹ، انجیر اور خوبانی کے ان گنت درخت ، بہتے جھرنے، گنے جنگلات، مختلف النوع ملبوسات میں مرد و زن اور ٹہلتے بچوں نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیے ہوئے تھے۔یہ بچے ہر سیاح کے لیے زینت بنے ہوئے تھے اورشاید سیاح بھی ان کی تفریح کا ذریعہ تھے۔ جانبین سے لطف اندوزی کا سلسلہ جاری و ساری تھا۔

ہمارے احباب کا ایک گروپ پیلس ہوٹل سے پیادہ چلتا ہوا بہت اوپر تک چلا گیا۔ جہاں جنگلات تھے۔ جبکہ قاضی صاحب اور مولانا حق نواز، بھائی نور محمد کی معیت میں کسی کی تعزیت پر گئے۔بھائی نورمحمد کے سسرال وہی بمبوریت میں ہیں۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی کا سارا بندوبست کیا ہوا تھا۔ ان کے ہاں کوئی فوتگی ہوئی تھی۔ قاضی صاحب نے وہاں نماز عصر کے بعد اصلاحی بیان بھی کیا۔

Haqqani with kilashi Childrenبہر صورت ہم وہاں پہنچے جہاں کیلاشیوں کی مرکزی جگہ ہے۔ انوکھی رسومات اور انتہائی منفرد ودلچسپ تہواروں کی سرزمین …وادیِ کافرستان…جس کے حسن نے ہمیں مسحور کردیا۔یہاں کے سبز پوش پہاڑ ، بل کھاتے پانی، مکئی کے لہلاتے کھیت، خوشبوبکھیرتی فضاؤں نے ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔اورزرق برق لباس میں ملبوس کیلاشی حسینائیں، روایتی ٹوپیاں پہنی نوعمر بچیاں، دوکانوں پر کھڑی بوڑھی کیلاشی خواتین، سیاحوں کے منتظر کیلاشی مردوں کا ادھر ادھر گھومنا پھرنا یقینادلکشی سے خالی نہیں تھا۔ میں اس خاص گاؤںیعنی کراکال کے پورے علاقے میں پیدل گھومتا رہا۔ میرے ساتھی کبھی میرے ساتھ ہوتے کبھی کہیں دور نکل جاتے۔ مجھے کیلاش کی سڑکوں اور گلیوں سے گزرتے ہوئے کہیں پرانی طرز کے لکڑی کے گھروں کی کھڑکیوں ، کہیں دو منزلوں ،کہیں بالکونیوں سے جھانکتی سروں پر سیپیوں اور تاج والی ٹوپیاں اور گلوں میں پیلے اور نیلے کلر کی موتیوں کی مالائیں پہنے حسین دوشیزائیں دکھائی دیتی تھیں۔کہیں دشوار گزار راستوں سے پیٹھ اورکاندھوں پر بوجھ اٹھائے گزرتے ہوئے بوڑھے مرد اور نوجوان خواتین نظر آرہی تھیں۔اور کہیں کہیں پربچپن کے معصوم کھیلوں میں مصروف شفاف گلابی رنگت والے حسین بچے بچیوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان سے مل کر مجھے ایک خوشی محسوس ہوتی تھی۔ یہ کیلاشی زبان میں بات کرتے تھے۔ میں ان کی خیریت دریافت کرتا تو وہ ہنستے مسکراتے سر ہلادیتے تھے۔ اور کہیں کہیں ’’ایش پاتا ‘‘کہتے تھے۔ میر ے ساتھ جو وہاں کا مکین اشفاق تھا ، وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی خریت پوچھتے ہیں۔ میں نے اشفاق سے پوچھا کہ ایش پاتا کا کیامطلب ہے۔تو اس نے کہا ’’تم کیسے ہو‘‘۔یوں سمجھو یہ آپ کو سلام عرض کررہے ہیں۔ مجھے ان کا اس طرح کہنا بے حد اچھا لگا۔میں نے کیلاشی بچے بچیوں کے ساتھ بہت ساری تصویری بنوائی۔ میں نے ا ن سے تصویر بنانے کو کہا تو ان بچوں نے منع کیا۔ اصرار کرنے پر انہوں نے کیلاشی زبان میں کچھ کہا۔ اشفاق نے بتایا کہ وہ پیسے مانگ رہے ہیں۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ کیلاشی بچے بھی کمرشل ہوگئے ہیں۔ جس جگہ کیلا شیوں کے تہذیبی فنگشن اور مذہبی تہواور اور چہلم منعقد ہوتے ہیں وہاں دو معصوم بچیوں کے ساتھ تصویر یں بنوارہا تھا تو کافی دور بیٹھی ایک کیلاشی خاتون نے آواز لگائی اور بچیوں سے کچھ کہا ۔ ایک بچی نے مجھے سے اردو میں کہا کہ انکل بیس روپے دیجیے۔بیس روپے ان کو پکڑا کر ان سے پوچھا کہ وہ کیا پڑتھی ہیں تو وہ دونوں بچیاں کسی انگلش میڈیم اسکول میں تیسری کی طالبات تھیں۔

Haqqani with kilash Girlsیہ حقیقت بہر صورت ہمیں ماننی ہوگی کہ کافرستان کہلانے والی وادی کیلاش انسانی تہذیب وثقافت، رسم و رواج اور تمدن کے حوالے سے ایک مکمل عجوبہ ہے۔اس وادی کو کافرستان کہاجاتا ہے۔ سنا یہ تھا کہ یہ لوگ نہ خدا کو مانتے ہیں اورنہ ہی ان لوگوں کا کوئی مذہب ہوتاہے!! یا للعجب، مگر مجھے تو ان کا مذہب بھی نظر آیا مذہبی عبادت خانہ بھی۔ اورجن جن کیلاشیوں سے میری گفتگو ہوئی ان کے مطابق وہ عبادت بھی کرتے ہیں یعنی خدا کی پوجا کرتے ہیں۔ تو پھر وہ کیسے خدا کو نہیں مانتے۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیلاش اور کیلاشیوں کے بارے میں جو سنا تھا اس سے یکسر مختلف پایا۔ ہمارے کچھ سیاح ایک غلط نیت سے وہاں جاتے ہیں مگر وہ مایوس لوٹتے ہیں۔ پھر اس مایوسی کو چھپانے کے لیے من گھڑت کہانیاں گھڑ لیتے ہیں جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا۔کیلاشی لوگ شراب ضرور پیتے ہیں مگر وہ کباب کا استعمال نہیں کرتے۔ بقول نورمحمد کے وہ سال بھر مے نوشی نہیں کرتے بلکہ اپنے تہواروں کے دوران مشروب مغرب سے غمِ زندگی بھلاتے ہیں۔اور حالتِ کیف و سرور میں آجاتے ہیں۔میں نے خود مسلمانوں کو ان کے گھروں میں شراب پیتے دیکھا، مگر اس کا لازمی مقصد یہ نہیں کہ وہ شراب کے بعد کوئی غلط کاری کا سلسلہ بھی چلاتے ہیں۔ یہ نری بہتان ہے کیلاشیوں پر۔

Haqqani with kilash Qabar ya taboot

مجھے کیلاش کے مشہور آدمی شہزادہ خان کے گھر جانے کا موقع بھی ملا۔ صدر پرویز مشرف بھی شہزادہ خان کے گھر گئے تھے۔شہزادہ خان نے مشرف کے ساتھ بنائی گئی اپنی تصاویر بھی دکھائی۔ شہزادہ خان کا گھر تین منزلہ ہے۔گھر کی تعمیر و تزئین میں لکڑیوں کا استعمال بہت خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کے گھرمیں کچھ مسلمان بیٹھے مشروب مغرب سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ شہزادہ خان نے خشک شہتوت اور اخروٹ سے تواضع کیا۔ اپنے گھر کا اندورنی تمام حصے بھی دکھائے۔ ان کی عورت کا نام غالباً رحیماں بتایا۔ انہوں نے ایک رجسٹر پیش کی۔ جس پر میں نے تاثرات بھی لکھ ڈالے اور ان سے ان کا سیل نمبر بھی لیا۔ ان کے ہاں کئی ساری پکچرز بنوائی۔جناب ثروت نے ان تمام اہم مقامات کی سیر بھی کروائی جہاں کیلاشی لوگ اپنے فنگشن کرتے ہیں۔ اپنا معبد بھی دکھایا۔ مجھے ان کا قبرستان بھی دیکھنے کا تفصیلی موقع ملا۔ بہر صورت آئندہ کی قسطوں میں کیلاشیوں کا مذہب، رہن سہن، طور اطوار، مذہبی و رسومی میلہ جات ، مختلف فیسٹول، فوتگیاں اور حائض عورتوں کی آنکھوں دیکھی روایات،بشالینی،ان کے لباس، زیوارات، پرانی روایات اور جدید طورطریقے، تعلیم و صحت اور بہت کچھ جو مجھے کیلاشی مرد وخواتین سے گفتگو کے دوران حاصل ہوا ،کاغذ کے سپرد کرونگا۔ یہ تجزیہ بھی کرونگا کہ تبلیغی جماعت والوں نے کیسے ان کو مسلمان بنایا اور پھر یہ بھی کہ حکومت پاکستان اور دیگر ملکی اور بین الاقوامی این جی اوز کیلاشی کلچر اور پرانی تہذیب کو بچانے کے لیے کتنا فنڈ خرچ کرتی ہے۔ ان کے مقاصد کیا ہیں۔ غرض میری نوٹ بک میں کیلاش اور کیلاشیوں کے حوالے سے کافی نوٹس ہیں۔ اور میرا دماغ بھی معلومات سے مزین ہے۔ آپ دعا کریں اللہ مجھے درست لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کراکال میں ایک مدرسہ روضۃ القرآن کے نام سے ہے۔جو نیوتعمیر کے لیے ڈھائی گئی ہے۔ کیلاشیوں کے قبرستان کے متصل مسجد قباء اور مدرسہ تقویۃ الایمان کی نئی نئی تعمیر ہورہی ہیں جن کے مدیر و امام قاری یوسف صاحب ہیں۔ کسی مقامی ساتھی نے بتایا کہ کچھ سال پہلے کافی سارے کیلاشی مسلمان ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے ایک مدرسہ بنایا ہے۔جہاں وہ اسلام کے ابتدائی فرائض و واجبات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مغرب کے قریب ہم سب ساتھی اکھٹے ہوئے اور واپس کراکال سے نیچے آنے لگے۔بتریک بمبوریت کی مسجد ابوھریرہ میں نماز مغرب ادا کی۔ قاضی صاحب نماز کے بعد مسجد کے برآمد میں براجمان ہوئے۔ ہمارے میزبان بھی تھے۔ وہاں ساتھیوں نے لطیفے بھی سنائے۔ دن بھر کی کارگزاریاں بھی دیں ۔ بھائی نور محمد نے رات کا انتظام اپنے سسرالیوں کے پاس کیا تھا ان کا گھر مسجد سے متصل تھا۔ رات گئے تک مختلف موضوعات پر گپ شپ ہوتی رہی۔ حق نواز صاحب اور منیر صاحب کی دلکش باتوں سے اور عمر اسد کی سنجیدہ مگر۔۔۔ سے احباب محظوظ ہوتے۔رات بہت اچھی بیتی۔ ماہ اگست میں کمبلوں سے گزارا ہوا۔یعنی کافی ٹھنڈ لگی۔(جاری)…

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔