تکنیکی پیکیج عوام کے لئے

تکنیکی پیکیج عوام کے لئے

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: نائب خان

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو بطور پیکیج قانون ساز اسمبلی دیاتو ہمیں بڑی خوشی ہوئی تھی کہ اب کے بعد مقامی حکومت عوام کاسامنا کریگی لڑاؤ اور حکومت کرو کادور ختم ہوگاجوڑو اور خدمت کرو کی پالیسی کے ذریعے عوام کی صلاحیتوں اور جذبوں کو منفی سے نکال کر تعمیروترقی کے راستے پر گامزن کریگی۔ ہم نے بھی بطور دماغ کازکوۃ ایک تکنیکی پیکیج مرتب کرکے وزیراعلیٰ مہدی شاہ کو پیش کیاتھا۔ کاش مہدی شاہ پیکیج کو قانونی حیثیت دیکر عملدرآمد کراتاتو آج گلگت بلتستان کے عوام تکنیکی پیکیج میں پیک ہوتے یعنی فرقہ واریت بھول جاتے تعمیرترقی کے کام میں مصروف ہوجاتے۔ جس طرح وفاقی حکومت کی پیکیج سے گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو پیک کیا فرقہ وذات کے سیاست سے نکل گئے سیاسی وجمہوری عمل میں مصروف ہوئے۔

مگرافسوس کہ وزیراعلیٰ نے بظاہر فلاحی نظام کے خاکے کو تسلیم کیاعملاً ہماری مخلصانہ پیشکش کو عملدرآمد کے لئے کردارادانہیں کرکے پیپلزپارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حالانکہ پیکیج عام فہم قابل عمل اور کم خرچہ بالانشین ہونے کے ساتھ حکومت اور عوام کو اربوں روپے کافائدہ پہنچانے کاضامن ہے۔ اگروزیراعلیٰ اُس وقت مرتب کردہ سولہ نکاتی تکنیکی پیکیج کو مقامی حکومت کی طرف سے بطور ترقیاتی پیکیج شاہی گراؤنڈ میں جلسہ بلاکر اعلان کرتے اور عمل درآمد کے لئے ہم سے تعاون لیتے تو آج گلگت بلتستان کے عوام کو ذیل کے فائدے باآسانی پہنچ جاتے تھے۔ ہراحاطے میں لائیوسٹاک کے ذریعے جرسی بیل اور فرانسیسی بیڑو کااہتمام کراتے نتیجے میں محکمہ کو کراس کاپیسہ ہوتا اور عوام کو دس سیر دودھ دینے والی گائے اور فرانسیسی دوسیردودھ دینے والی بیڑو پیداہوجاتے۔تمام سرکاری پارکوں کی فضا پر انگورنظرآتی سرکار کو کروڑوں کازرمبادلہ ملتاجس کے لئے سرکاری مالیوں سے کام لیناتھا ماحول اوراوزون کو بچانے کے عوض گلگت بلتستان کی حکومت کو عالمی تنظیمیں اربوں کافنڈ دے دیتے۔ محکمہ زراعت کے پاس زمین اور عملہ موجود ہیں ہرضلع میں پانچ لاکھ بیج اور قلم لگاتے جو کہ سرکار کو صرف پانچ روپے میں پودے تیارہوتے عوام کو 60 روپے میں فروخت کرنے سے اربوں کامحکمہ کو فائدہ ہوتا اور عوام کو60 روپے کاپودہ دس ہزار کا بن جاتا۔ محکمہ لائیوسٹاک کے پاس عملہ اور مشین موجود ہیں سالانہ دولاکھ انڈوں سے چوزے تیارکرکے عوام کو پچاس روپے فی چوزہ دیتے تو چالیس روپے سرکار کو بچت ہوجاتا اور عوام کو چارسو کی مرغی بن جاتا۔ محکمہ فشریز سالانہ پانچ ہزار من مچھلی کاپیداوار دے سکتی ہے جو کہ بطور کوٹہ ہرگاؤں کے لوگوں کو دوسو روپیہ فی کلوپہنچانے کی صورت میں سرکار کواربوں کافائدہ اور عوام کو سالانہ ایک دفعہ مچھلی کاگوشت نصیب ہوتا جو کہ بیماریوں کاتدارک کاباعث بن جاتا۔ حراموش بونجی اور دیامرکے بہت سے علاقے گرم ہیں تین فصلی کارواج دیکر ٹھنڈے علاقوں کے لئے تازہ سبزیاں نصیب ہوجاتے۔ مانسہرہ اور پنجاب کی سبزی گلگت بلتستان پہنچانے تک اولاًمرجھاتی ہے اور مہنگی ہوتی ہے ٹرک میں گلگت بلتستان پہنچانے تک بیرل تیل جل جاتاہے ماحول آلودہ اور اوزون کونقصان پہنچ جاتاہے۔ کم خرچہ پر گرین ہاؤس کارواج دیکر موسم سرما میں بھی تازہ مرچ اور دیگر سبزیاں اپنے صحن میں اگانے کارواج دے سکتے ہیں۔ ہراموش، چلاس، بونجی اور نوپورہ بسین میں لاکھوں انجیرکے درخت موجود ہیں پیوند کاری کراتے جو کہ سکھاکر کروڑوں کازرمبادلہ حاصل ہوتا۔ جس کے پاس صرف مکان ہے چھت میں بذریعہ کیاری نماگملہ کے ذریعے ٹماٹر خربوزہ، کھیرا، مرچ کارواج دیتے۔ بنجرزمینوں کو آبادکرانے کے لئے جدید طریقے متعارف کراکے اناج کے لحاظ سے خودکفیل ہونے کے لئے جدوجہد کرتے۔ استور اور دیگر علاقوں کی فضا، گولڈن سیب اور ناشپاتی کے لئے انتہائی موزوں ہیں وہاں بے پھل بید لگائے ہیں بید کی جگہ گولڈن سیب لگانے کارواج دے۔ بید کے پتوں میں وٹامن نہیں ہوتا سیب کے پتوں سے دودھ بھی اضافہ اورٹرکوں کے حساب سے گولڈن سیب کا زرمبادلہ ہوتا۔ ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں روزانہ دس لاکھ کے منشیات استعمال کئے جاتے ہیں نوجوان نسل کو ذہنی وجسمانی مشقت نہ ملنے کے باعث چرس اور دیگر منشیات کاسہارا لیتے ہیں عوامی جلسہ بلا کر منشیات کے منفی اثرات اور احساس زیاں اجاگر کرتے منشیات فروشوں کو متبادل کاروبار دیتے اس وقت منشیات کے عادی نوجوانوں کے والدین پریشان ہیں وزیراعلیٰ پریشانی دورکرنے کے باعث ہوتے۔ تجارتی نظام کو ہراحاطے میں ڈیلرشپ کی حکمت عملی دیکر خود ساختہ مہنگائی اور بے روزگاری پرقابوپاتے۔ ہرگھر میں دس سیر دودھ دینے والی گائے کم ازکم بارہ مرغی اور چھت اور گلی میں انگور، گملوں میں پھولوں کے بجائے جدید پھول نما سبزیاں کاشت کی رواج دینے کی صورت میں خودساختہ بے روزگاری اورمہنگائی پرقابوہونے کے ساتھ حلال ذریعے سے گزارہ ہونے کی صورت میں کرپشن کابھی تدارک ہوسکتاہے۔

عوام سے امن کی ضمانت لینے کی صورت میں قیام امن کے حوالے سے فورس پر ہونے والے اخراجات عوام کی ترقی کے لئے بچت ہونگے۔ امن کی صورت میں چار ہزار پولیس فورس، سونی کوٹ ،خومر کے عوام اور میونسپل کی افرادی قوت سے دادی جواری کے بنائے ہوئے کوہلوں کی صفائی کراتے۔ اس وقت پانی دریا برد ہوتاہے سونی کوٹ کے لوگ پانی کے لئے ترستے ہیں۔ زرعی زمین بنجر ہوتی جارہی ہے دریا سے لفٹ لگائے جاتے ہیں بجلی کے بحران کے باعث بنے ہیں۔ ایک دفعہ کوہلوں کی بل صفائی کے بعدمیونسپل کو چارٹریکٹر اور ٹنکی کے ذریعے ہسپتال اور دیگرکوہلوں کے متصل گھروں کی سیفٹی ٹنکوں سے ملوہ بسین، دنیور اور سکوار میں پہنچاکر کھاد کی صورت دیکر زمیندار فی ٹریکٹر ایک ہزارروپے فروخت کرنے کی صورت میں اناج میں اضافہ ہوسکتاہے۔ ہم بطورمسلمان حضرت محمدؐ کاکلمہ پڑھتے ہیں اسلام کااصل مساوات محمدی ہے ہم سے مساوات محمدی کابوتک نہیں آتاہے۔ سرکاری سطح پر محنت قناعت سادگی کی دعوت دینے کے لئے سرکاری ملازمن کو دفتروں تک پہنچانے کے لئے ہرمحکمہ کو ایک ویگن کی صورت میں بچت سے عوام کی خدمت ہوسکے گی۔ گلگت بلتستان کی حکومت پاکستان کے چارصوبوں اور آزادکشمیر کے لئے قابل تقلید بن جائے جو کہ بالکل آسان ہے ۔ مگرافسوس کہ وزیراعلیٰ نے ہمارے مفت اورمخلصانہ مشورے کو نظرانداز کرکے اپنی ساکھ،پارٹی اور عوام کومسلسل نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ خداخیرکرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔