واٹر سپلائی سکیم میں غیر معیاری کام پر دروش کے باسیوں کا عدم اطمینان کا اظہار

واٹر سپلائی سکیم میں غیر معیاری کام پر دروش کے باسیوں کا عدم اطمینان کا اظہار

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

276چترال(نامہ نگار) چترال کے تاریحی قصبے دروش میں CIADP چترال علاقائی مربوط ترقیاتی پروگرام کے تحت دروش میں ینگ سٹار ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے واٹر سپلائی سکیم میں ناقص کام پر علاقے کے لوگوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

CIADP نارویجن حکومت کی مالی تعاون سے چترال میں محتلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ 5019204 روپے کی لاگت سے بننے والی یہ آبنوشی سکیم 400 گھرانوں کیلئے بنائی جارہی ہے جو ایک مقامی معاون تنظیم Young Star Development Organization (YSDO) کے ذریعے بنائی جاتی ہے اس مقصد کیلئے ADC یعنی علاقائی ترقیاتی کمیٹی Area Development Committee بھی تشکیل دی گئی جن کو رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ اس کام کی معیار کا جائزہ لے تاکہ اس میں ناقص میٹریل استعمال نہ ہوسکے۔

266ADC کے اراکین نے شکایت کی کہ انہوں نے بار بار اس منصوبے کا معائنہ کرکے دروش میں جو غیر سرکاری ادارہ YSDOاسے بنارہا ہے ان کے ذمہ د اران کے نوٹس میں لایا ہے اور مقامی انتظامیہ کو بھی خبردار کیا گیا ہے مگر YSDO کا ٹھیکدار ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

علاقائی ترقیاتی کمیٹی کے اراکین نے مقامی صحافیوں کو اس پائپ لائن کی کھدائی کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں پائپ لائن لانے کیلئے کم از کم تین فٹ تک کھدائی ہونا چاہئے تھا مگر انہوں نے پیسے بچانے کیلئے صرف آٹھ سے سولہ انچ تک کھدائی کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور سیلاب یا بارش کی صورت میں اس ناقص پائپ لائن کو سیلاب بہا کر لے جائے گا۔ دوسری طرف یہاں برف باری کی صورت میں پائپ لائن پھٹ بھی جاتا ہے اور پانی جم کر بلاک ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس ڈی او نے شہری علاقے میں اتنا ناقص کام کیا ہے تو پہاڑی علاقے میں تو اس سے بھی ناقص کام ہوگا۔ 

مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ جہاں سے پانی لایا جارہا ہے وہ بھی متنازعہ ہے اور وہاں کے لوگ پانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ مگر پیسے بٹورنے کی لالچ میں اس ایل ایس او نے اس کا فنڈ لیکر کام شروع کروایا۔ انہوں نے کہا کہ دروش بازار ، دادخندوری، خورانڈوک اور لنگا کے دیہات کے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور تھے اور اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو یہ لوگ ایک بار پھر اس گندہ پانی پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بازار کیلئے علیحدہ ٹینکی ہوں گی اور اڑھیان کیلئے علیحدہ پانی کی ٹینکی تعمیر کی جارہی ہے مگر اس ٹینکی کو صرف ایک انچ کا پلاسٹک کا پائپ لایا گیا ہے اور اس کی کھدائی بھی صرف چھ سے آٹھ انچ تک ہے۔انہوں نے CIADPسے مطالبہ کیا کہ اس کام کی تحقیقات کی جائے اور اس منصوبے کی مطلوبہ کھدائی کرکے اس میں اعلےٰ معیار کی پائپ استعمال کی جائے تاکہ سیلاب اور بارش کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک بار پھر تباہ نہ ہوجائے۔

285اس سلسلے میں جب مقامی غیر سرکاری ادارے (YSDO)سے رابطہ کرکے ان کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کے ترجمان نے بتایا کہ اس میں مقامی لوگوں کا دس فی صد حصہ ڈالنا پڑتا ہے اس حساب سے 510930 روپے مقامی لوگ خرچ کریں گے جبکہ تین فی صد فنڈ مقامی لوگ جمع کریں گے جو اس منصوبے کی مرمت پر خرچ ہوں گے تاہم انہوں نے ابھی تک جمع نہیں کیا اور ADC اراکین کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کام کی شروع سے مانیٹرنگ کرتے ہوئے اس کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے مگر انہوں نے نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اپنا غلطی بھی تسلیم کیا کہ ان کے زیر نگرانی ہونے والے اس پائپ لائن کیلئے کم از کم تین فٹ تک گہرا کھدائی کرنا چاہئے تھا جو نہ ہوسکا

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پائپ لائن کیلئے تین فٹ تک کھدائی ہونا چاہئے تھا اگر نہیں ہوا تو وہ ٹھیکدار سے مطلوبہ کھدائی پورا کریں گے۔ 

تاہم YSDO کے چیئرمین اسفندیار خان نے مقامی صحافی کو فون نہایت سخت الفاظ میں دھمکی دی کہ ان کی اس ناقص کارکردگی کو بے نقاب نہ کیا جائے ورنہ وہ اس کے حلاف سخت ترین قدم اٹھاے گا۔

اس سلسلے میں CIADP سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کے متعلقہ انجنئیر فخر اعظم نے کہا کہ وہ معیار پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتے اور اس کام کا باقاعدہ انکوائری کرکے اس کو مطلوبہ معیار کے مطابق تکمیل تک پہنچائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔