مسافر گاڑی میں دھماکہ تخریب کاری کا نتیجہ نہیں ہے، بارودی مواد پھٹنے سے دھماکہ ہوا: ڈپٹی کمشنر گلگت کی پریس کانفرنس 

مسافر گاڑی میں دھماکہ تخریب کاری کا نتیجہ نہیں ہے، بارودی مواد پھٹنے سے دھماکہ ہوا: ڈپٹی کمشنر گلگت کی پریس کانفرنس 

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت: ڈپٹی کمشنر اجمل بھٹی صحافیوں کو بریفنگ دے رہا ہے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر دنیور اور ایس پی انویسٹی گیشن بھی موقعے پر موجود ہیں

گلگت: ڈپٹی کمشنر اجمل بھٹی صحافیوں کو بریفنگ دے رہا ہے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر دنیور اور ایس پی انویسٹی گیشن بھی موقعے پر موجود ہیں

گلگت (حسین نگری سے) حراموش جانے والی مسافر گاڑی میں دھماکہ تخریب کاری کے باعث نہیں بلکہ گاڑی میں موجود بارودی مواد پھٹنے کی وجہ سے رونما ہوا۔ دھماکے میں دہشتگرد اور عسکریت پسند گروہ ملوث نہیں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر گلگت اجمل بھٹی نے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے تباہ شدہ گاڑی کے سامان سے بھاری مقدار میں بلاسٹنگ کے لئے استعمال ہونے والابارودی مواد برآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے رکھے باوردی مواد میں ماچس جلانے یا انجن کی گرمائش کی وجہ سے آگ بھڑک گئی ہو گی جس کی وجہ سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ برآمد شدہ بارودی مواد علاقے کے مکین مختلف کاموں کے لئے معمول میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلر تک رسائی حاصل کرکے خریدار کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

یاد رہے کہ ۲۵ مسافروں کو لے کر حراموش جانے والی گاڑی میں عالم برج کے قریب اچانک زور دار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی تھی۔ آگ اور دھماکے کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوے حراموش سے تعلق رکھنے والے تین افراد جان بحق ، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت ۱۲ کے لگ بھگ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں اور جان بحق افراد کو فی الفور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گلگت منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں سے تینوں جان بحق افراد کی لاشوں کو انکے آبائی علاقے تک پہنچایاگیا ہے۔

دھماکے کے فورا بعد دہشتگردی اور فرقہ وارانہ حملے کی بازگشت گلگت بلتستان کے طول و عرض میں سنی گئی۔ گزشتہ دنوں نیشنل کاونٹر ٹیرریزم اتھارٹی کے ایک خط کی وجہ سے جس میں علاقے میں دہشتگردی کے منصوبے کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی، علاقے میں پہلے ہی تشویش اور خوف کی فضا قائم تھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔