فلسفه قربانی

فلسفه قربانی

76 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از قلم حسن میر صفی

امت مسلمہ ہر سال ۱۰ ذلحج کو کو عیدُالضحی بڑی شایانشان طریقے سے مناتی ہے۔یہ وہ دن ہے جس میں ہماری توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ہے کی انسان اپنے خالق و مالک کے لیے کیا چیز قربان کر سکتا ہے۔اس دن تمام مسلمانان عالم رب العالمین کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اُس بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں جس میں آپ علیہ سلام نے حکم خداوندی کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنے کمسن اور چہتے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربان کیا۔قرآن مجید میں سورہ الصفات کی آیت نمبر ۱۰۰ سے ۱۱۱ تک اس واقع کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ دنیا ئے اسلام کو قربانی کا حقیقی مفہوم سمجھانا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ سلام کی پیغمبرانہ زندگی کا روشن باب ہے۔قربانی کا فلسفہ کیاہے؟ لفط قربانی کا معنی قربان الہی ہے یعنی اللہ کے نزدیک ہونا، اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم اس چیز کو جس سے ہم محبت کرتے ہیں اس کی راہ میں نچھاور کریں۔اور وہ تمام سماجی و انفرادی عادات جن کو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ناپسند فرمایا ہیں ان کو ترک کرنا بھی قربانی کے زمرہ میں آجاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عرب معاشرے میں لوگ دو بڑے تہوار مناتے تھے ان کے بدلے میں رسو ل اللہ نے ان کو عید الفطر اور عید الضحی کے تہوار دیے۔ اس وقت عرب کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے بڑے اختلافات رکھتے تھے اور پشتوں تک ایک دوسرے سے دشمنیاں رکھتے تھے اور بدلے لیتے تھے ان تہواروں اور ان پر کی جانے والی عبادات کے زریعئے ان میں اتفاق اور محبت پیداہوا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے ان سے بت پرستی ختم ہوئی ، رسول اللہ کی تعلیمات کی وجہ سے عرب کا بت پرست معاشرہ ایک مہذب اور مثالی قوم بن گیا۔ایک خدا کی عبادت کرنے لگے اللہ اور رسول کی احکامات کی پیروی کرنے لگے دنیا میں ایک وقت ایسا آیا کہ پوری دنیا کی واحد علمی زبان عربی تھی ، مسلمان علوم وفنون میں صف اول تھے لیکن آج جب ہم مسلم امت کی طرف دیکھتے تو دل بے قرار ہوتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام اور اسکی عبادات کے صرف ظاہری پہلو کو فوکس کیا ہے انکے جوہر یا مقاصد سے شاید ہم لاپرواہ ہیں یا بھول چکے ہیں ۔ میرے بھائیو ہم جتنی بھی عبادات ادا کر رہے ہیں ان سب کا ظاہری پہلو کے ساتھ ساتھ باطنی پہلو بھی ہے جو بہت زیادہ اہم ہوتا ہے ۔ قربانی کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ ہم قربانی کی نیت سے جانور خریدتے ہیں اور عید کے دن عید کی نماز ادا کرنے کے بعد اس کو زبح کرتے ہیں اور عید کی خوشی مناتے ہیں ۔قربانی کا باطنی پہلو پرہیزگار اور متقی بننا ہے۔ کیا پرہیزگار یا متقی بننے کے لئے اللہ تعالی کے حضور ایک جانور کی قربانی پیش کرنا ہی کافی ہے؟ یا اور بھی لوازمات ہیں جن کا خیال رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے؟ جی ہاں ۔ اللہ تعالی قرآن حکیم میں فرماتا ہے’’ خدا تک نہ تو ہرگز ان کا گوشت ہی پہنچے گا اور نہ ان کا خون مگر وہاں تک(اللہ تک)تمھاری پرہیزگاری البتہ پہنچے گی‘‘(سورہ ۲۲آیت۳۷)متقی اور پرہیزگار بننے کے لیے ہمیں اللہ کی عبادت اس معیار سے کرنا ہوگا جس طریقے سے کرنے کا خدا نے ہمیں حکم دیا ہے۔ ہمیں بت پرستی ختم کرنا ہوگا ۔ رسول ﷺ کا دنیا میں آنے کا عظیم مقصدیہ تھا کہ بت پرستی کو جڑ سے ختم کرنا اور توحید کا پرچار کرنا۔عرب کا بت پرست معاشرہ مہذب قوم بننے کی وجہ یہ تھی کہ بت پرستی کو اپنی وجود سے ختم کر کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرکے اللہ اور اسکے رسول کی خوشنودی حاصل کی تھی۔ لیکن بت پرستی کی ایک صورت ہمارے معاشرے میں آج بھی موجود ہے میرے بھائیو بت بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ظاہری بت دوسرا باطنی بت ، ظاہری بت سے مراد وہ بت جن کی ظاہری شکل وصورت ہوتی ہیں ان کو سامنے رکھ کر انکی پرستش یا پوجا کی جاتی ہے۔اور باطنی بت سے مراد وہ بت ہوتے ہیں جن کی کوئی جسمانی یا ظاہری شکل وصورت نہیں ہوتی مگر وہ انسان کے ذہین میں موجود ہوتے ہیں جسکی وجہ سے انسان کی سوچ خراب ہوتی ہے اور اسکا اثر اسکے اعمال اور کردار پر پڑتا ہے۔باطنی بت سے میرا مطلب ہے کرپشن کا بت ، رشوت لینے اور دینے کا بت،نفس کا بت، لالچ کا بت، بغض کا بت، جھوٹ کا بت، چغلی کا بت، خیانت کا بت، حسد کا بت، حرام کا بت ا ور فضول خرچی کا بت ۔۔۔ جن کی پوجا اور پرستش ہمارے معاشرے میں ہو رہی ہے تو کیسے اللہ اور رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور کیسے ہم متقی اور پرہیز گار بننے گے۔ان بتوں کو جب تک ہم اپنے ذہین سے خارج نہیں کرینگے تب تک ہم متقی اور پرہیزگار نہیں بن سکتے ۔ خدا کے حضور میں قربانی بھی وہی قبول ہوگی جب ہم ان باطنی بتوں کی پرستش سے اپنے آپ کو پاک کر کے اپنی حلال کمائی سے اپنی بساط کے مطابق قربانی پیش کریں۔ تب اللہ تعا لی کی خوشنودی حاصل ہوگی ،رسولﷺ کی حکم اور سنت ابراہیمی کی تکمیل ہوگی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ایسی قربانی کرنے کی سمجھ اور توفیق عطا فرمائے جس میں اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضاء شامل ہو۔ آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔