چترال, پاک افغان سرحدی علاقے ارندو میں پاکستانی شہری  گولی لگنے سے شدید زحمی

چترال, پاک افغان سرحدی علاقے ارندو میں پاکستانی شہری گولی لگنے سے شدید زحمی

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

SONY DSC

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے 100 کلو میٹر دور پاک افغان سرحدی علاقے ارندو میں ایک پاکستانی شہری سرحد پار سے آنے والے گولی سے شدید زحمی ہوا۔ زحمی کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا جہاں اس کی زحم سے مسلسل خون جاری ہے ۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت تشویش ناک بتاتے ہوئے اسے پشاور ریفر کیا۔ .ارندو پولیس کے مطابق تھانہ ارندو میں ایک زحمی کو لایا گیا جن کا دعویٰ تھا کہ اسے افغان فورسز نے سرحد پار سے فائرنگ کرکے زحمی کیا

یوسف خان ولد اسلام الدین سکنہ گوڑہ گل ارندو کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ اسلام الدین، ریاض، زاہد الدین، اور گل شیر سودا سلف خریدنے کے عرض سے گوڑہ گل بازار آئے تھے کہ اچانک سرحد پار فغان فورسز نے ان پر اندھا دھن فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں یوسف خان ولد اسلام الدین شدید زحمی ہوا۔ اسے تھانہ ارندو لے گیا . تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہے ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد رپورٹ درج کریں گے۔

ان کے قریبی رشتہ دار عبد الولی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ زحمی یوسف خان کو دائیں کندھے پر گولی لگی جو اندر جاکر غائب ہوئی اور اس کے زحم سے مسلسل خون جاری ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ اسے پہلے دروش ہسپتال لے گئے جہاں کوئی فوجی افسر بھی ان سے ملا جن کو ہم نے پورے واقعے کی تفصیل بتادی۔

بعد ازاں اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سے تشویش ناک قراردیتے ہوئے پشاور ریفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نے اسے صبح دس بجے ریفر کیا تھا مگر چترال ہسپتال میں ایمبولینس کا ڈرائیور نہیں تھا جس کی وجہ سے کافی تاحیر سے سہہ پہر چار بجے اسے پشاور روانہ کیا گیا۔

پشاور سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا مریض لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں میں داحل کیا گیا ہے مگر ابھی تک صرف ڈسپنسر اور پیرا میڈیکل سٹاف آکر ان کی پٹی کرواتا ہے تاہم کوئی ڈاکٹر ابھی تک نہیں آیا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ سرحد پار افغان فورسز حکومتی سطح پر وارننگ دی جائے تاکہ وہ پاکستانی علاقے میں نہتے لوگو ں پر بلا وجہ فائرنگ نہ کرے اور یوسف خان کے ساتھ مالی امداد کرکے اس کی مفت علاج منظور کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی خرچہ بھی نہیں ہے اور ابھی تک بازار سے دوائی خریدتے ہیں مگر غربت کی وجہ سے ان کا علاج میں مشکلات کا سامنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے بھی ان کا ایک رشتہ دار افغان فورسز کی گولی لگنے سے زحمی ہوا تھا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔