تریچ میر کالج آف ایجوکیشن اینڈ ووکشنل ایجوکیشن، چترال

تریچ میر کالج آف ایجوکیشن اینڈ ووکشنل ایجوکیشن، چترال

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatآج کل کا دور علم کا دور ہے قلم کا راج ہے فہم وفراست کی حکومت ہے قرآن نے کہا کیا جاننے والے اور نہ جاننے برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔آج بیداری کے اس دور میں یقیناًنہ جاننے والے اپنی موت مرجاتے ہیں،ہرطرف علم،تعلیم وتعلم اور ہنر کی بانگ ہے لوگ تعلیم یافتہ ہورہے ہیں ہنر سیکھ رہے ہیں۔اسی کی بنیاد پر روز گار مل رہا ہے۔چولہا جلتا ہے۔یقیناًتعلیم یافتہ خود سے تعلیم یافتہ قوم بنتی ہے اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند قوم ہی زندہ رہ سکتی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ چترال جیسا پاسماندہ ضلع تعلیم کی روشنی سے جگ مگا رہا ہے۔اس روشنی کو پھیلانے میں سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تریچمیر کالج آف ایجوکیشن قوم کے نوجوانوں کوایک مفید پلیٹ فارم مہیا کررہا ہے۔مذکورہ کالج نے 2011ء میں کام شروع کیا۔کالج میں پیشہ وارنہ تعلیم دی جاتی ہے اس میں B.ed،بچلرآف ایجوکیشن ،DPedڈپلومہ ان فزیکل ایجوکیشن dped،Bped،Jdpeکے کورسس کرائے جاتے ہیں۔ابھی تک کالج کے 4سیشن مکمل ہوچکے ہیں۔یہاں سے نکلے ہوئے طلباء وطالبا میں سے 5طالبات PETاور ایک طالب علمPETپوسٹ لے چکے ہیں۔وہ اپنی صلاحیت سے مطمئن جارہے ہیں۔کالج کی خصوصیات میں بڑی بات آنے جانے کی سہولت ہے۔کالج زرگرندہ چترال میں واقع ہے یہ شور شرابے سے دور محفوظ ایریا ہے بچوں کے پیدل آنے میں آسان اورساتھ دور کے بچے بچیوں کے لئے گاڑیوں کا بندوبست ہے۔معقول فیس پر بامقصد اور مفید تعلیم دی جاتی ہے۔چترال کے معروف اساتذہ اور علماء کے زیرنگراانی وقت کی نزاکت کے پیش نظر دینی اور دنیوی تعلیم اور دین کی روشنی میں اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔بچیوں کے لئے مکمل پردے کا انتظام ہے۔

اساتذہ میں مولانا خلیق لزامان خطیب شاہی مسجد،ڈاکٹر ریاض،شاہد حسین سابق لکچرار انگلشAGHSS،عمران لکچرار انگلش ڈگری کالج چترال،محمد اسماعیل پرنسپل،دوسرے مشہور ومعروف اساتذہ سے بھرپور فائدہ اُٹھایاجاسکتا ہے۔کالج میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق شروع کے دومہینوں میں انگریزی زبان دانی سیکھائی جاتی ہے تاکہ بچے روانی سے انگریزی بول سکیں۔پھر ان سے ریسرچ اور پرزنٹیشن کرائی جاتی ہے۔تاکہ بچے دور کے تقاضوں سے متعلق تعلیم وتعلم کے جدید نظریات اور اصولوں سے آگاہی حاصل کرسکیں کالج میں خصوصی طورپر فزیکل ایجوکیشن میں ڈپلومہ پروگرام ہے اس سے فارغ ہونے والے طلبا وطالبات میں گورنمنٹ سروس لے چکے ہیں اور دوسرے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھارہے ہیں۔چترال میں واحد پرائیویٹ کالج ہے جس میں DPEd،SDPEاور PETکی تربیت دی جاتی ہے کالج میں خصوصی سیمینار ،شارٹ کورسس اور جدید سہولیات سے لیس تعلیمی ماحول مہیا ہے۔ملٹی میڈیاکے زریعے پرزنٹیشن اور پھر بچوں کو متعلقہ نوٹس مہیا کی جاتی ہیں۔قابل اور ضرورت مندطلبا کے ساتھ فیس میں رعایت اور والدین سے رابطہ رہتا ہے دفتری اوقات میں روکاوٹ نہیں آتی ۔ہردل عزیز اور مستعداساتذہ بچوں کی ہمہ جہت گائڈنس اور کونسلنگ کراتے ہیں۔اس پربچوں پر مستقبل کے راستے کھل جاتے ہیں۔کلاس روم اور کلاس روم سے باہر معاشرتی اقدار اور چترالی تہذیب کی پاسداری کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔یہ بہت احسن قدم ہے جو قوم اپنی روایات کھوتی ہے اس کا نام ونشان مٹ جاتا ہے اسلامی اور چترالی تہذیب کے اندر بچوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ہفتے میں ایک سرمن کا پریڈ ہوتا ہے۔جس میں کالج کے اساتذہ کے علاوہ چترال کے معروف سکالرز کو دعوت دی جاتی ہے جوکالج کے بچوں کو خصوصی لکچروں سے مستفید کرتے ہیں۔بچوں میں مختلف مقابلے کرائے جاتے ہیں جو ہم نصابی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ہفتے میں ایک دفعہ پرنسپل اور اساتذہ کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں کالج اور طلباء کے مسائل سامنے لائے جاتے ہیں۔ان کی نشاندہی کرکے ان کے حل اور آگے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔کالج کی بنیاد محنتی نوجوانوں نے رکھی ہے اس لئے اس کی ترقی وبہتری کے لئے دن رات کام کرتے ہیں۔اس لئے ایک مثالی ادارے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔جس میں جدید تعلیم وتعلم کے علاوہ اسلامی اور چترالی تہذیب پنپ پائے اور ہماری چترالیت محفوظ رہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔