چترال، دور افتادہ وادی بروغل کے نہایت پسماندہ گاؤں چکار کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

چترال، دور افتادہ وادی بروغل کے نہایت پسماندہ گاؤں چکار کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

SONY DSC

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے نہایت دور افتادہ اور وادی بروغل کے نہایت پسماندہ گاؤں چکار کے لوگ اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ چکار بروغل کے چترال سکاؤٹس کے چھاؤنی سے تین کلومیٹر وادی یاسین کی طرف پہاڑوں کے بیچ میں آباد ہے۔

اس گاؤں تک جانے کیلئے نہ تو کوئی سڑک ہے نہ کوئی کچا راستہ۔ لوگ زیادہ تر گھوڑوں، یاک یا پھر گدھوں پر سواری کرکے اپنے منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ علاقہ سینکڑوں نفوس پر مشتمل ہیں مگر پاکستان بننے کے بعد آج تک کسی سرکاری ادارے نے یہاں کوئی ترقیاتی کام نہں کیا ہے۔

SONY DSCگاؤں کے خواتین دستکاری کرتے ہوئے اس سے اپنے اہل حانہ کیلئے رزق کمانے کی کو شش کرتی ہیں تاہم اس گاؤں کے آس پاس بھی کوئی سکول، ہسپتال، ڈسپنسری، کالج ، ٹیلیفون، موبائل وغیرہ کچھ بھی نہں ہے۔

ہمارے نمائندے سے اس دور افتادہ گاؤں کا دورہ کرکے مقامی لوگوں سے بات چیت کی۔ اس گاؤں میں صرف دو لڑکیاں پانچویں جماعت میں پڑھتی ہیں اور وہ بھی روزانہ دو گھنٹے پیدل سفر کرکے ایک غیر سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

یہاں کے زیادہ تر لوگ واخی زبان بولتی ہیں بہت کم لوگوں کو کھوار (چترالی زبان) یا اردو آتی ہے ۔ چند طالبات نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس گاؤں میں کوئی سکول، کالج یا ہسپتال نہیں ہے ۔ خواتین کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حاص کر زچگی کے دوران ان کو چارپائی پر ڈال کر کئی کلومیٹر دور پیدل سفر کرکے کچے سڑک تک پہنچ جاتی ہے اس کے بعد ہزاروں روپے ٹیکسی کو ادا کرکے ان کو یارخون لشٹ میں ڈسپنسری کو لائی جاتی ہے تو اس دوران بہت کم خوش قسمت مریض زندہ بچ جاتی ہیں ورنہ اکثر خواتین اس سڑک کی حراب حالت کی وجہ سے راستے میں اللہ کو پیاری ہوجاتی ہیں کیونکہ سڑک نہایت حراب ہے۔

SONY DSCان لوگوں نے بتایا کہ سیاستدان ووٹ کے وقت تو ہمارے علاقے میں یا خود آتے ہیں یا اپنے نمائندے کو بھیج دیتے ہیں مگر ووٹ لینے کے بعد آج تک کوئی نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اب بھی یقین نہیں آتا کہ ہم پاکستانی ہیں کیونکہ حکومت پاکستان نے نہ تو ان کیلئے کوئی سڑک بنایا نہ سکول یا کالج حتیٰ کہ اس پورے وادی میں کوئی ہسپتال بھی نہیں ہے۔

اس گاؤں میں زیادہ تر خواتین تھیں کیونکہ ان کے مرد حضرات محنت مزدوی کے عرض سے یہاں سے دوسرے اضلاع یا صوبوں کو جاکر اپنے اہل حانہ کیلئے پیسے کماتے ہیں۔

مقامی لوگوں میں سے اکثر نے آج تک کوئی گاڑی، کمپیوٹر، بجلی، ٹیلیویژن، یا کوئی جدید مشنری نہیں دیکھی ہے۔ انہوں نے عجیب انکشاف کیا کہ پچھلے سال جب پاک فوج کے انجنئرینگ سٹاف نے چھاؤنی تک سڑک بنایا اور اس وادی میں پہلی بار گاڑی آئی تو وادی بھر کے لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھتے رہے اور یہ بھی پوچھا گیا کہ یہ گاڑی کونی گھاس کھاتی ہے؟۔

یہاں کے باشندوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور ان کو بھی دیگر علاقوں کے شہریوں کی طرح بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کی جائے کیونکہ یہاں کے لوگ نہایت پر امن اور محب وطن پاکستانی ہیں تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے آج تک اپنے حق کیلئے کوئی احتجاج نہیں کیا ہے۔

SONY DSC

وادی بروغل میں درخت نایاب ہیں۔ ایندھن کے طور پر مقامی افراد گائے بیل، خوش گاو اور بھیڑ بکریوں کے گوبر کو سکھا کر استعمال کرتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔