[سفرنامہ] گرم چشمہ 

[سفرنامہ] گرم چشمہ 

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ 

ہمارا قافلہ گرم چشمہ کے متصل گراؤنڈ میں رکا۔ یہ گراؤنڈ کھنڈرات کا منظر پیش کررہا تھا۔چترال کے علاوہ بھی کئی مقامات پر گرم چشمے موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے علاقہ گوہرآباد رائیکوٹ کے مقام پر بھی گرم چشمے موجود ہیں۔ جسے سے’’ تتا پانی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کے کے ایچ میں واقع اس تتا پانی میں بھی علاج معالجے کے لیے لوگوں کا تانتا بندھتا ہے مگر مکمل انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں سے آمد کم ہے۔رائیکوٹ گوہرآباد میں جو گرم چشمے ہیں ان کی بنیاد نانگا پربت ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ان گرموں چشموں کی اصل وجہ سلفر ہے جو سطح زمین سے تین کلومیٹر نیچے ہے جو ہمہ وقت ابلتا رہتا ہے۔اس کو ’’تتاپانی جیولوجیکل فالٹ‘‘ (Geological falt ) بھی کہا جاتا ہے۔نانگا پربت گرم چشموں کی لنک استور اور بلتستان میں بھی ہے۔ کئی امراض کے لیے شفا ہے۔گرم چشمے کا منتظم اور لوگوں کو چشمے تک رسائی دینے والے سرکاری ملازم کا کہنا ہے کہ تتاپانی گرم چشمے امراض دل، موٹاپا اور دیگر بیماریوں کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔رائیکوٹ گرم چشمے اتنے گرم ہیں کہ انڈہ اور آلو آسانی سے پکایا جاسکتا ہے۔اور ان تمام باتوں کی تصدیق برارم غلام نبی رائیکوٹی بھی کررہے ہیں۔

Haqqani in Garm chashmaایک مشہور زمانہ گرم چشمہ تاجکستان میں بھی ہے۔سیاح لوگ وہاں بھی کثرت سے جاتے ہیں۔ تاجکستان گرم چشمہ میں جو پانی آتا ہے وہ برف نما چیز سے پگل کر آتا ہے۔ یا پانی میں پایا جاتا ہے۔کوئی گندھک ہوگا۔ممکن ہے کہ اوپر برف ہو اور نیچے زیر زمین گندھک ہو۔گرم چشمہ اور گرم فوارے امریکہ میں بھی ہیں۔امریکہ کے یلو اسٹون نیشنل پارک میں دنیا کے سب سے بڑے گرم فوارے ہیں۔ گرانڈپرسیمنک چشمہ بھی ہے جو امریکہ کا سب سے بڑا گرم چشمہ ہے۔امریکہ کایہ چشمہ قوس قزاح کے رنگوں کا 250فٹ چوڑا اور 300فٹ لمبا ہے۔اس چشمے کے عین وسط میں پانی کا رنگ مکمل نیلا ہے جبکہ چاروں اطراف میں نارنگی، لال اور پیلا رنگ کا پانی ہوتا ہے۔ چشمے کے قلب میں آبی درجہ حرارت اس قدر گرم ہے کہ وہاں پر کسی آبی جانور کی زندگی ممکن نہیں۔یہ چشمہ معدنیا ت سے بھی مالا مال ہے۔

چترال گرم چشمہ چترال شہر سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔شہر چترال سے 28میل یعنی48کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ گرم چشمہ 1859میٹر یعنی6100فٹ بلندی پر واقع ہے۔ ہم جونہی گرم چشمہ گراؤنڈ میں اترے تو سامنے کئی خوبصورت مناظر دکھائی دینے لگے۔ موسم بہار عروج پر تھا اس لیے مناظر دلکش دکھائی دے رہے تھے۔مولانا حفیظ الرحمان نے مدرسہ تبلیغ الاسلام کی طرف قافلے کا رخ موڑ دیا اور ہم سیدھے مدرسے کی مسجد جا پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں طلبہ قرآن کریم اور درس نظامی کے اسباق میں مصروف ہیں۔ قاضی صاحب اور دیگر احباب نے دو رکعت نمازنفل ادا کی اور مدرسے کے مہمان خانے جا پہنچے۔ مجھے ایسے مقامات پر تجسس ہوتا ہے اس لیے مدرسے کا چکرکاٹنے لگا۔ مولانا جلال الدین اور اس کی دینی خدمات کا تذکرہ تو کافی دنوں سے سن رہا تھا مگر اب خود دیکھ بھی رہا تھا کہ اتنے دور مضافات میں اتنا بڑا ادارہ۔مدرسہ تبلیغ الاسلام میں درجہ حفظ کی سات کلاسیں ہیں جبکہ درس نظامی کے درجہ ثانیہ تک کے درجات ہیں۔ عصری تعلیم کا انتظام بھی ہے۔ مولانا جلال الدین بنیادی طور پر اسکول ماسٹر ہے مگر ان کی دینی خدمات کا حلقہ بڑا وسیع ہے اس لیے انہیں مولانا سے پکارا جاتا ہے۔انہوں نے گرم چشمہ اور چترال کے دیگر جگہوں میں اب تک 27مساجد تعمیر کروائے ہیں۔اور کئی مساجد ان کی نگرانی میں تعمیر ہورہی ہیں۔ ہزاروں لوگ ان سے متاثر ہوکر دعوت وتبلیغ کے کام سے جڑ چکے ہیں اور سینکڑوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ ہر آدمی سے ان کی تعریف سنی۔واقعی وہ ولی اللہ ہیں۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔

چترال کا جوگرم چشمہ ہے اس میں سیاح اور مختلف امراض میں مبتلا لوگوں کی ایک کثیر تعدا د آتی ہے۔ گرم پانی سے نہانے کے لیے تالاب بھی ہیں اور واش روم بھی بنائے جا چکے ہیں مگر ان میں ٹھیک ٹھاک رقم چارج کی جاتی ہے۔ انتظامات درست نہیں ہیں۔ جس جگہ سے پانی نکلتا ہے وہاں بہت ساری خواتین کو کپڑے دھوتے دیکھا۔ پائپ لائنوں کے ذریعے گرم پانی مختلف جگہوں میں لے جایا گیا ہے۔ مدرسہ تبلیغ الاسلام چونکہ گرم چشمہ کے پہلو میں ہے اس لیے پانی کی ایک بڑی مقدار مدرسے میں لایا گیا ہے۔ مدرسے میں گرم پانی سے نہانے کا بہترین انتظام ہے ۔ مہمانوں کو یہ سہولت فری میں دی جارہی ہے۔ پانچ تالاب ہیں اور کئی غسل خانے۔ گرم چشمے کا پانی بہت گرم ہے۔ اس میں دوسرا ٹھنڈا پانی نہ ملایا جائے تو نہانا ممکن نہیں۔

مدرسہ تبلیغ الاسلام میں ایک گرم کمرہ خصوصی طور پر بنایا گیا ہے۔ اس کمرے کے فرش کے نیچے چشمہ کا گرم پانی پہنچایا گیا ہے۔ آپ کمرے کے پکی فرش پر پاؤں tajisk grm cرکھیں تو ٹھیک ٹھاک گرمائش ہونے لگے گی کیونکہ فرش کے نیچے گرم پانی ہے۔ مولانا حق نواز، قاضی صاحب، مولانا منیر اور برادرم احسن عمر نے مدرسے کے گرم تالابوں میں نہا کر اس گرم کمرے میں آرام کیا۔ جہاں انہیں لحاف اور بستر دیا گیا تاکہ وہ اس میں لیٹے رہیں۔بتایا گیا کہ گرم چشمے کے پانی میں نہانے کے بعد لحاف یا کمبل اوڑھ کر کافی دیر تک لیٹے رہنا ہے۔ بصورت دیگر نہانا مفید نہیں۔ مدرسہ میں ایک اور کاریگری کی گئی ہے کہ کچھ کمروں کی دیواروں میںG,i(Galvanized Iron) پائپوں کی وائرنگ کی گئی ہے اور ان کے ذریعے گرم پانی گزارا گیا ہے۔ جس کی تپش سے سردیوں میں پورا کمرہ گرم ہوجاتا ہے۔

عین گرم چشمہ اور مدرسہ تبلیغ الاسلام سے پورا گرم چشمے کا علاقہ نظر آتا ہے۔ یہاں اکثریت اسماعیلی برادری کی ہے۔ دونوں فریقین میں لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے ہیں۔ مختلف سماجی اور معاشرتی معاملات میں بہترین کوآرڈینیشن موجود ہے۔ آپ جب بھی گرم چشمہ جائے تو عین اس جگہ جہاں سے گرم پانی نکلتا ہے میں کھڑے ہوکر نظارہ کریں تو آپ کو نیلامائل شفا ف پانی، دور تک سرسبز و شاداب فصلوں کی ہریالی،حسین رنگوں کے امتزاج والے پہاڑ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف اور ان کے اوٹ میں گھومنے والے بادل نظرآئیں گے۔ اور چونکہ گرم چشمہ تھوڑی اونچائی پر ہے۔ وہا ں سے کچی مٹی، گارے اور پکی اینٹوں کی سادہ عمارتیں بھی نظر آئیں گی اور رنگ اور رنگین مزاج انسانوں کی بنائی ہوئی رنگ آفریں،جدت پسند ،نقش و نگار اور مزین و آرائش شدہ بڑی بڑی عمارتیں بھی نظرنواز ہونگیں۔ انسان اپنی حقیقت بھول جاتا ہے ورنہ تو بڑی بڑی فلک بوس عمارتیں بنانا اور ان پر فخر کرنا مغضوب قوموں کا شعار ہے۔ قوم عادوثمود کی یہی روش رہی ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور ان کے صحابہؓ کا ہرگز یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ’’ کن فی الدنیا کانک غریب اَو عابرُسبیلِِ‘‘ یعنی دنیا میں ایسا رہو جیسے کوئی پردیسی یا راہ چلتا مسافر‘‘۔

گرم چشمے میں سیاحوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد رنگ برنگ کپڑوں میں ملبوس نظرآئی، ان کا آزادانہ گھومنا پھرنا عجیب سالگا۔مختلف مصنوعی رنگ روغنوں سے اپنی فطرتی شکلوں کا رنگ و روپ بگاڑا کیا تھا۔کملز شدہ مہندی سے بازو، سینہ، کمر، اور جسم کے دیگر اعضاء پر رنگ سازی اور نقس نگاری کا ظالمانہ شوق، ان کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گویا یہ انسانی جسم خدا کا بنایا ہوا نہیں کسی مجسمہ ساز کا بنایا ہوا مجسمہ ہے جس نے موئے قلم کو گھماتے ہوئے جیسا چاہا رنگ و روپ بنا لیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جس چیزجو فطری رنگ اور شکل بنائی ہے وہی اس کے ساتھ جچتی ہے اورسوٹ بھی کرتی ہے ۔یہ خود ساختہ رنگینیا ں اور لیپاپوتیاں اس جاں وجسم کے لیے کی جاتی ہیں جس نے بالآخر مٹی میں دفن ہونا ہے اور حشرات الارض کا خوراک بننا ہے۔

ہم عصر تک گرم چشمہ کے متصل مدرسہ تبلیغ الاسلام میں رہے۔گرم چشمہ سے واپسی کا سفر بھی خوب رہا۔رات حاجی سرفراز کے دولت کدے میں ٹھہرے۔ انہوں نے مہمانوں کے اعزاز میں بہترین چترالی روایتی کھانے تیارکروائے۔ حاجی سرفراز سوات کے رہنے والے ہیں تاہم چترال میں ان کے تین پٹرول پمپ ہیں۔ گلگت میں بھی تیل کا کاروبار کیا ہے۔انہوں نے قافلہ کے تمام ممبران کو ایک ایک اصلی دیر والی چاقو بھی بطور ہدیہ عطا کیا۔ بھائی نور محمد کی فیملی میں فوتگی ہوئی تھی باوجود اس کے وہ رات کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ حاجی صاحب کے ہاں بہت سارے احباب ملنے آئے۔ہمارے قاضی نثاراحمد صاحب کے ہم نام ایک معروف عالم دین مولاناقاضی نا نثاراحمد کے نام سے چترال میں بھی ہیں۔ وہ چترال کے جماعت تبلیغ کے امیر ہے۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ۱۹۷۲ء کے فاضل ہیں۔ان کے والد ماجد قاضی غلام احمد صاحب دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔امیرجماعت چترال مولانا قاضی نثاراحمد صاحب اپنے رفقاء عجب خان صاحب، حاجی عبدالرشید صاحب اور دیگر کولیئے ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے۔ یہ تمام ساتھی چترال جماعت تبلیغ کے شوریٰ کے ممبران ہیں۔ان کیساتھ بڑی خوشگوار ملاقات ہوئی۔ دینی و تبلیغی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔رات گئے تک تمام میزبان ہم سے رخصت ہوئے۔عجیب اتفاق ہے کہ دونوں قاضی ہم نام ہیں، دونوں کے اباجان دارالعلوم دیوبند کے تربیت یافتہ ہیں اور دونوں اپنے اپنے علاقے میں نہایت ہی مؤثرحلقہ احباب رکھتے ہیں۔

سویرے نماز فجر کے بعد گلگت روانہ ہوئے۔ قاضی صاحب کے ہم درس مولانا نصیرالدین نقشبندی نے سفری ناشتہ لانا تھا جس کا انتظار اس لیے نہیں کیا کہ راستہ لمبا تھا۔ چترال شہر سے چار گھنٹے کی مسافت پر مستوج پٹرول پمپ میں حاجی سرفراز صاحب نے ناشتے کا انتظام کیا تھا ۔ وہاں رک کر ناشتہ کیا۔ مستوج سے ایک لنک روڈ تاجکستان جالگتا ہے جبکہ دوسرا روڈ بذریعہ شندور گلگت لنک کرتا ہے۔ہم نے چترال کے سفر میں کئی قسم کے رنگ اور رنگینیاں دیکھی ۔انسانوں کی رنگینیاں، پہاڑوں کی رنگینیاں، چرند پرند کی رنگینیاں، لباس کی رنگینیاں، حیوانات کی رنگینیان، درختوں کی رنگینیاں، غرض فطرت خداوندی کی ہزارہا رنگینیاں اور نقوش باصرہ نواز ہوئیں۔پھر مختلف مسالک و مذاہب کی رنگینیاں، بالخصوص کیلاشیوں کی رنگین ثقافت، زرق برق لباس اور بہت کچھ دیکھا جو کبھی سنا نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے یہ تمام خوبصورتیاں، رنگینیاں انسان کی فائدے کے لیے بنائی ہے اور مسخر بھی کی ہے مگر ناداں انسان ان سے فوائد سمیٹنے کے بجائے ان کا اسیر ہوکر رہ گیا۔ان جھلملاتے رنگوں کو دیکھ کر دل میں سوچنے لگا کہ ایسی صورت حال میں انسان کو چاہیے کہ صرف اللہ کے رنگ میں رنگ جائے ، اس کے رنگ کے حصول کے لیے اپنی صلاحتیں،اپنی طاقت، مال وجان، دل و دماغ غرض ہر چیز کھپا دے۔ یہی میرے اللہ کا بھی فرمان ہے۔’’صبغۃ اللہ، ومن احسنُ من اللہ صبغۃ ونحن لہ عٰبدون‘‘ یعنی اللہ کا رنگ بھلا کسی اور کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہوسکتا ہے؟ اور ہم اسی کے ہی عبادت گزار ہیں‘‘۔ اللہ اللہ کرکے سفرنامہ’’ گلگت سے کیلاش تک‘‘ تمام ہوا، اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔