غواڑی گودام کی600بوریاں اور خپلو بلک ڈپو کی دس ہزار بوریاں جگلوٹ سے گھانچے نہیں پہنچ سکے   

غواڑی گودام کی600بوریاں اور خپلو بلک ڈپو کی دس ہزار بوریاں جگلوٹ سے گھانچے نہیں پہنچ سکے  

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے(اقبال بلتی تجزیاتی رپورٹ) ضلع گانچھے2010کی مردم شماری کے مطابق گانچھے کی آبادی26952,افراد مشتمل ہے بجلی پانی کیلئے پریشان حال مکین ماہ محرم الحرام سے قبل آٹے کے شدید بحران سے دو چار ہونے کے درپے ہے۔ہوٹلوں کے ملکان اور کرایا دار خانہ افراد کی شکایات بڑھ رہی ہے محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق غواڑی گندم ڈپو اور بلاک ڈپو ضلعی ہیڈ کواٹرز کے سرکاری گودام میں جھاڑو پھیر دیا گیا ہے۔اوراس وقت سرکاری گودام بھاں بھاں کر رہے ہیں ضرورت منددربدر ہورہا ہے۔

باثوق ذرائع کے مطابق غواڈی گودام کی600بوریاں اور خپلو بلک ڈپو کا دس ہزار بوری تاحال موصول نہ ہوسکے یوں اس وقت پاسکو کا ضلعی کوٹہ جگلوٹ سے گانچھے نہیں پہنچ پارہا۔ اس کا سبب نیٹکو کی ٹرانسپورٹ سپلائی ضلعی حکام اس لئے قبول کرنے سے انکارہے ۔کہ جو وزن جگلوٹ ڈپو کا ہے اسے قبول کیا جائے جبکہ مقامی عملے کا کہنا ہے کہ تول کردے جس کیلئے مزکورہ ادارے کا پیمائشی کانٹا ادھورا اور کام بند پڑا ہے مزکورہ کانٹے کی مشینری کا ابھی دوردور تک پتہ نہیں۔ان میں وزن کئے بغیر عملہ نیٹکو کے ترسیل گندم کو لینے پر تیار نہیں یوں محکمہ خوراک،محکمہ نیٹکو اور ٹھکیدار کے الیکڑونکس ویٹ مشینری کی بروقت فکسنگ نہ کرنا۔اسکی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ سینروزیر محمد جعفر نے کراچی جانے سے قبل عوامی شکایت پر سیکرٹری خورک اورڈائریکٹر کو سختی سے ہدایت کرتے ہوئے اس مسلے کو حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔اور ان دونوں نے بھی ہنگامی دورہ کرتے ہوئے گندم کی بحرانی حالت کوابھی چشم دیدہ بھی کی تھی اور بلند بانگ دعوے کے باوجودگندم کے ڈپو اس وقت بھی اور اب بھی صافہ چٹ ہیں۔ماہ محرم میں تبارک کیلئے عوام الناس کو مقامی ملوں کا بلیک میں1800سے2200روپے میں فی من فروخت ہورہا ہے جبکہ اعلی کوالٹی کا پنجاب آٹا6000روپے فی من میں فروخت ہورہا ہے۔پرائس کنٹرول کمیٹی کس گوشہ تنہائی میں اور انتظامیہ آنکھیں موندے کان بند کئے خانقاہوں اور مسا جد سے جمعہ کے خطاب میں پیش کی جانے والی قرارداوں پر بھی کان نہیں دھر رہے۔محرم الحرام سے قبل بھی حالت جوں کی توں رہی تو عوامی ردعمل سامنے کھل کر آسکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔