آؤ عطا آباد جھیل چلیں 

آؤ عطا آباد جھیل چلیں 

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دیدار علی شاہ

ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہماری زمین آہستہ آہستہ غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ ہے گلوبل وارمنگ اورکلائمیٹ چینجنگ(Global Warming and climate changing )یہ دنیا کو آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جس کی مثال دنیا کے مختلف خطوں میں ارضیاتی تبدیلی ہے جو کہ ہم سنتے اور دیکھتے بھی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں مختلف طاقتیں پانی پر جنگ لڑیں گی۔

قارئین کرام! ماہرین ارضیات نے گلگت بلتستان کو Climate Changes کے حوالے سے Danger Zone میں رکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہاں پر کسی بھی وقت ارضیاتی تبدیلی یا زلزلہ آسکتا ہے جس کی مثال گوجال میں عطا آباد جھیل کی ہے جو کہ جنوری 2010 میں پہاڑ کے سرکنے سے وجود میں آیا تھا جس کی وجہ سے گوجال کے 25 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ گوجال کی بات کی جائے تو یہ گلگت بلتستان میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا تحصیل ہے اس کی سرزمین سے ہوتی ہوئی شاہراہ قراقرم (شاہراہ ریشم) پاکستان کو چین سے ملاتی ہے۔ یہ علاقہ گلگت شہر سے 80 کلومیٹر دور ہے یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے یہاں پر گورنمنٹ اور پرائیوٹ 3 ہائی سکول ، 29 پرائمری اور مڈل سکول اور7 کمیونٹی بیسڈ سکول ہیں۔ طبعی لحاظ سے گورنمنٹ کے 10 ڈسپنسری اور آغا خان ہیلتھ کے 4 سینٹرز قائم ہیں، بجلی کا نظام بھی کوئی تسلی بخش نہیں ہے۔

گوجال جغرافیائی لحاظ سے چار ایٹمی قوتوں کے بالکل بیچ میں واقع ہے اور کاشغر گوادر راہداری بھی یہاں سے گزارنے والی ہے جس سے اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور آج کل پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔

قارئین کرام! عطا آباد جھیل جو جنوری 2010 کو پیش آیا تھا یعنی پہاڑ کے سرکنے سے دریائے ہنزہ بند ہوا جس کی وجہ سے 21 کلومیٹر لمبا اور 330 فٹ گہرا جھیل وجود میں آگیاجس کہ وجہ سے19 کلومیٹر شاہراہ قراقرم تباہ ہوگیا۔یہ جھیل اب کم ہو کر11 کلومیٹر رہ گیا ہے اس جھیل نے گوجال کے تین گاؤں سارٹ آئین آباد، ششکٹ ناظم آباد اور گلمت گوز کو اپنے اندر جذب کر لی۔اب اگر یہاں سے گزریں تو یقین نہیں آتا کہ یہاں پر تقریباً سو سال پرانی آبادی موجود تھی یہ سب کچھ ہوا قدرتی آفت کی وجہ سے۔

تباہی دو طرح کی ہوتی ہیں پہلا قدرتی آفات یعنی Natural Disaster اور دوسرا Man Made Disaster یعنی انسان خود اپنے ہاتھوں سے تباہی کرتی ہے اور ذمہ دار ہوتی ہے۔اس بات کا سب کو علم ہے کہ سانحہ عطا آباد ایک قدرتی آفت کا نتیجہ تھا مگر اس سانحہ کے بعد ان تمام نقصانات سے بچنے کے لئے جو کوششیں اس وقت کے حکومت کو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا گیا خدا جانے غفلت تھی یا کوئی اور وجہ۔۔۔۔!

اب اگر اس بات کا جائزہ لی جائے کہ جب سانحہ عطا آباد رونما ہوا تو اس کے فوراً بعد حکومت اور لوکل کمیونٹی کوشش کرتے تو یہ بات ممکن تھا کہ تین گاؤں نہیں ڈوبتے، اتنا نقصان نہیں ہوتا ، لوگوں کو پریشانی نہیں ہوتی، لوگ نفسیاتی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتے کیونکہ ان لوگوں نے عمر بھر محنت کر کے اپنے گاؤں بسائے تھے۔19 کلومیٹر شاہراہ قراقرم بھی نہیں ڈوبتا اور پوری گوجال کے 25 ہزار آبادی کو بھی معاشی، زرعی، نفسیاتی، تعلیمی اور سفری پریشانی نہیں ہوتی جو کہ اب ہم بھگت رہے ہیں۔ اگر بروقت کاروائی کرتے تو ان تمام نقصانات سے بچا جا سکتا تھا ۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی یا ان کی غفلت کا نتیجہ تھا خدا جانے۔

سانحہ عطا آباد قدرتی آفت کی وجہ سے وجود میں آیا مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور کچھ لوگوں نے اسے Man Made Disaster میں تبدیل کر دیا۔ ایسا کرنے سے فائدہ کیسے ہوا آج تک نہیں معلوم ان کو اس بات کا احساس نہیں جو آج گوجال کے عوام کو درپیش ہیں۔ گوجال سے ہنزہ گلگت کے لئے سفر کسی عذاب سے کم نہیں ہے اور خاص کر سردیوں میں مشکلات بڑھ کر دگنی ہوتی ہیں ساتھ میں بیمار ہو تو اسے گلگت پہنچانا یہ بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ اس جھیل کی وجہ سے لوگوں کے ذرائع آمدن بالکل ختم ہوا ہے مگر اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ لوگوں نے اپنے بچوں کے سکول فیس تک نہیں دئے اور گوجال سے گلگت پہنچنے کے لئے 800 سے1000 روپے فی کس گاڑی اور کشتی کرایہ ہے یہ درد وہی جانتا ہے جس کے ساتھ یہ زیادتی ہورہی ہے۔

اس جھیل پر ٹرانسپورٹ حکومت کی طرف سے مفت ہونا چاہئے تھا جو کہ نہیں ہوا خاص کر سردیوں میں جب ہوا کشتیوں کو چلنے نہیں دیتی ا ور جھیل کا پانی کشتیوں کے اندر گرنے لگتا ہے۔ اتنی سردیوں میں سفر کے دوران ایک تندرست انسان بھی کشتی میں بیمار ہوجاتا ہے ۔ یہاں پر بہت سارے واقعات ایسے رونما ہو چکے ہیں جس سے حکومت اور انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئے ہیں بس اللہ کا کرم ہے کہ کوئی بڑا واقع پیش نہیں آیا۔

قارئین کرام اس جھیل کے کچھ دوسرے پہلو بھی ہیں اور وہ ہے آنے والے وقتوں میں اس کا صحیح استعمال اور اس سے ذرائع آمدن پیدا کرنا اورر خاص کر گوجال کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا ۔ اس کے لئے وہ لوگ جو سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ، ابھی تک اس جھیل سے کچھ فائدہ حاصل کی گئی ہے مگر وہ وقتی طور پر ہے۔

اس جھیل نے گوجال کے لوگوں پر ایک گہرا اثر ڈالا ہے یعنی 2000 ؁ء سے جس تیزی کے ساتھ گوجال میں معاشی ، تعلیمی، اور معاشرتی ترقی کی رفتار بڑھ رہی تھی اب پوری طرح سے اپنا دم توڑ چکی ہے۔لوگوں کا ذرائع آمدن اس وقت صفر ہے اگر کچھ ہے تو وہ بھی وقتی طور پر ہے لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کو برداشت کر سکیں جس کی وجہ سے پریشانی کی ایک لہر پیدا ہو گئی ہے۔

گوجال ہنزہ کے وہ عوامی نمائندے جو اپنی حالت بدل نہیں سکے وہ عوام کی کیا بدلیں گے وہ حکومتی اور ذمہ دار لوگ جنہوں نے اس علاقے کا دورہ کیا تھا اور جنہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے ، اعلانات کئے تھے ، سبز باغ دکھائے تھے مصیبت کے اس وقت میں ساتھ ہونے کے جھوٹے دعوے کئے تھے آج گوجال کے عوام کے نزدیک ان دعوے داروں کے سینوں میں پتھر کے دل ہیں یہ لوگ بے حس ہیں اور سب سے بڑے منافق ہیں اب میں یہ بات تمام قارئین پر چھوڑ دیتاہوں کہ وہ فیصلہ کریں کی عطا آباد جھیل رحمت ہے یا زحمت؟؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments