آزادی کا دن یا دوہری غلامی کے سفر کا آغاز؟

آزادی کا دن یا دوہری غلامی کے سفر کا آغاز؟

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے زیرِ اہتمام کراچی میں یکم نومبر اور گلگت بلتستان کا قومی سوال کے موضوع پرایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے نوجوانوں نے شرکت کی۔ سیمینار میں گلگت بلتستان کی تاریخ پر نظر ڈالنے کے بعد یکم نومبر کی اصل حقیقت پر تفصیلی گُفتگو کی گئی۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد کے سوال و جواب کے بعد سیمینار احتتام پذیر ہُوا۔ یکم نومبر کو جہاں قوم کا کچھ حصہ لاشعوری کی وجہ سے جشنِ آذادی کا دن سمجھتا ہے وہی NSF گلگت بلتستان نے تمام تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تحقیقاتی ڈرافٹ اس دن کی اصل حقیقت پر تیار کیا جس کو پڑھ کر سُنایا گیا۔ یکم نومبر کی اصل حیثیت کیا ہے؟ ڈرافٹ ملاحظہ فرمائیے۔

علم جد وجہد انقلاب
یکم نومبر
آزادی کا دن یا دوہری غلامی کے سفر کا آغاز

دنیا کی غیرت مند ، با شعور ، با ضمیر اور ا نقلابی قوموں کا نصب العین اور دستور ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ اصلاح پسندی اور سمجھوتہ بازی پر یقین رکھنے کے بجائے انقلابی سوچ و جد وجہد کے زریعے خود کو منواتی ہے۔ انقلابی شعور رکھنے والی قوم اپنے جا مد و فر سودہ روایات پربھی کاربند نہیں رہتی جس کے باعث وہ پوری دنیا کے اقوام کے سامنے مذاق کا مو جب بنے دنیا میں انسانیت کی برا بری اور مساوات کے سب سے بڑے علمبردار اور عظیم معاشی مفکر کا رل مارکس کا قول ہے کہ لا شعور قوم دشمن کی فوج ہوتی ہے۔ وہ بصیرت کی عدم مو جودگی اور لاشعوری کی وجہ سے ہمیشہ دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھیلتی ہے۔ اور اپنے روشن مستقبل کا تعین کبھی نہیں کرتی اور زندگی بھر غلام اور محکوم رہنے پر خوشی محسوس کرتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاریخ ہمیشہ تلخ اور شیرین یا دوں پر محیط ہوتی ہے ۔لمحوں کی خطائیں قوموں کے لیے زندگی بھر کا عذاب بن جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قوموں کی چھوٹی چھوٹی کو تاہیاں او رغلط فہمیاں انہیں کئی کئی صدیوں تک غلام رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔

تاریخ سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ جو قومیں لمبے عرصے تک غلام اور محکوم رہتی ہیں۔ وہ محکومی اور غلامی سے اس قدر مایوس ہو جاتی ہیں کہ اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی محکومی اور غلامی کی بھینٹ چڑھانے سے اعتراض نہیں کرتیں۔گلگت بلتستان کی قوم کو بد نیتی سے اکیسویں صدی میں بھی انقلابی شعور سے عاری رکھتے ہوئے اور ایک روشن مستقبل سے محروم رکھتے ہوئے انہیں فر سودہ روایات کے پیچھے چلایا جا رہا ہے۔ جن روایات نے انہیں حقیقی آزادی ،قومی تشخص ،پہچان، شناخت اور حقیقی منزل سے دور کر دیا ہے ۔ کہ آج 64 برس گزرنے کے با وجود محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اور اپنی نسل کو اس معاشی و سیاسی محکومی سے نجات دلانے کے خاطر انقلاب کے لیے خود کو وقف کرنے کے بجائے اب بھی مصلحت پسندی سمجھوتہ بازی اور موقع پرستی پر عمل پیرا ہیں۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کے منتشر عوام کی کسی طرح بھی قومی آزادی کا دن نہیں ہے۔یہ وہ دن ہے جب عالمی سامراج نے غریب ،ترقی پزیر مگر و سائل سے بھر پور ممالک کی معیشت اور جغرافیہ پر شب خون مارتے ہوئے ان ممالک کے درمیان خونی لکیر کھینچنے میں کامیاب ہوا ۔دوسری عالمی جنگ کے بعد بر طانوی سامراج اپنی آخری ہچکیاں لے رہا تھا اس کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے نو آباد یا تی نظام کو تو سیع دیتے ہوئے دنیا کے اقوام کو محکوم بناکے سامراج 1945میں بر صغیر چھوڑ کر جانا چاہتا تھا جس کا فیصلہ اس نے 1940 میں ہی کیا تھا مگر سامراج جنو بی ایشیاء میں اپنے مفادات کی نگہبانی بھی کرنا چاہتا تھا ۔اس لیے اس نے نہایت ہی چالا کی اور مہارت کے ساتھ بر صغیر کو تقسیم کر دیا ۔ گلگت بلتستان چو نکہ دفاعی ، جغرافیائی ، معاشی اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے ہمیشہ سے پوری دنیا کے لیے تو جہ کا مر کز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جنگ و جدل کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ہے۔ سابق سویت یونین کی شکل میں روس کا عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آنا اور ساتھ چین میں کمیو نیزم کے اثرات واضح طور پر دکھائی دینے کے بعد سامراج کو یہ خطرہ لا حق محسوس ہوا کہ کہیں روس ،چین اور انڈیا کو اپنے ساتھ ملا کر جنو بی ایشیا ء میں کوئی ایسا بلاک نہ بنا دے جو مغربی سامراج کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دیوار ثابت ہو ۔ اس لیے سامراج نے زیر زمین سازشوں کے ماہر میجر براؤن کو ایک ٹاپ سیکریٹ مشن دے کر گلگت بھیجا ۔ واضح رہے کہ مغربی سامراج 1892 ؁ ء کے بعد مختلف طریقوں سے مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ 1947 ؁ ء میں سامراج نے اکتو بر ، نومبر کے مہینے کو چنا اور علاقے میں سیاسیجمود سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُس نے ڈوگروں کے خلاف گلگت سکاؤٹس جو بر طانوی سامراج نے اپنے نو آباد یاتی نظام کو تحفظ دینے کے لیے قائم کیا تھا اور اُسی کے ذریعے بغاوت کرانے میں کامیاب ہوا ۔کیونکہ سٹیج پہلے سے تیار تھا ۔صرف اداکاروں کو کر دار اور فلم کا سین فلمانا تھا ۔ جسے میجر براؤن نے آسانی سے فلمایا ۔

اسی طرح سامراج دہلی اور ماسکو کے درمیان لکیر کھینچ کر اپنے سازش میں کامیاب ہوا ۔جسے بعد میں مو رخین نے گریٹ گیم کا نام دیا۔ دنیا یہ جانتی ہے کہ 26 اکتوبر 1947 سے 16 نومبر 1947 تک علاقے میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں وہ 64 بر س گز رنے کے با وجود دو بارہ کبھی رونما نہیں ہو سکیں ۔ حالانکہ1947 میں گلگت بلتستان کی دنیا سے کوئی رسائی نہ تھی ۔یہاں نہ کوئی مواصلات کا نظام تھا اور نہ ہی میڈیا تک کوئی رسائی تھی۔ اس کے باوجود علاقے کی جغرافیائی اور ڈیموگرافی تبدیل کرکے نوآبادیاتی نظام کو ایک نئے شکل میں سامنے لایاگیا۔ المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آج تک اس گہرے سازش کے محرکات سمجھ میں نہیں آئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بقول گلگت بلتستان کے بعض تاریخ دانوں کے اس سطحی دلیل کے’’ یہاں کے عوام 1947میں بے سر و سامانی اور بغیر کسی ملک یا ریاست کی امداد کے ڈوگروں کو کلہاڑیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے مار بھگایا۔ اگر یہ سچ ہے تو آج کی نو جوان نسل اپنے بزرگوں کے روایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے بنیادی جمہوری انسانی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنے سے گریزاں کیوں ہیں؟مانا کہ ہم نے ڈوگروں کو بھگا یا ، کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے ۔لیکن کبھی ہم نے یہ سو چا ہے کہ ڈوگروں کے جانے کے بعد ہم نے جن کو اپنے اوپر مسلط کیا ہے۔کیا ان میں اور ڈوگروں میں مذہب کے علاوہ اور کوئی فرق بھی ہے؟؟؟کہیں ہم ڈوگروں کو بھگا کر دوہری غلامی اور محکومی کا شکار تو نہیں ہوئے ہیں؟کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس وقت من حیث القوم ہماری جو مجموعی پوزیشن ہے۔ اس کو ہم آزادی کا نام دے سکتے ہیں؟ اگر یہ آزادی ہے تو ہماری پہچان ، شناخت اور قومی تشخص کہاں ہے؟ اور وہ کلہاڑیوں اور لاٹھیوں سے حاصل کی ہوئی آزادی کہاں ہے؟ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک قوم آزادی کے حصول کے لئے کلہاڑیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جنگ کرتی ہے ۔اور دشمنوں کوبھگاتی ہے۔ پھراپنی قومی آزادی اپنے پاس رکھنے کے بجائے اسے دین اور مذہب کے نام پر کسی دوسری ریاست کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی ہے۔ مگر ناطہ جو ڑنے کے باوجود اسے شناخت نہیں ملتی ۔یکم نومبر کا دن اپنے اندر بہت تلخ حقائق رکھتا ہے۔ اور گلگت بلتستان کے دو ملین عوام کو یہ سو چنے اور غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔کہ آج ایکسویں صدی میں وہ کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی سیاسی اور معاشی پوزیشن کیا ہے؟ کیا وہ آزادی کے ثمرات سے مستفید ہوئے کہ نہیں ؟ کیا وہ اپنے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے قابل نہیں ؟ قوم عالمی برادری اور قابض قوتوں سے یہ سوال کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے کہ 67 سالوں کے دوران انہیں ایک بد ترین نو آباد یاتی نظام کے’’ سٹیٹس کو‘‘ کے اندر رکھنے کے کیا مقاصد ہیں؟ یکم نومبر کا دن جشن منانے کا نہیں بلکہ گزشتہ 67 سالوں میں کی گئی سنگین غلطیوں سے سبق سیکھ کر از سر نو اپنی حقیقی آزادی اور مستقبل کا تعین اور نصب العین طے کرنے کا دن ہے۔ ان 67 سالوں میں ہماری تین نسلیں گزر چکی ہیں۔اور چوتھی نسل کو یہ معلوم نہیں کہ 67 سال قبل ان کے آباؤ اجداد کے ساتھ سامراج نے کیا ڈرامہ کیا تھا؟ اور آج ان کے ساتھ کیا ڈرامہ رچا یا جا رہا ہے؟ گلگت بلتستان کی نئی نسل کو 67سالہ اسٹیٹس کو کو مد نظر رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات کے تحت حکمرانوں کی طرف سے دئے گئے پیکیجز پر غور کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ایف سی آر کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان کومختلف پیکیجزکے ذریعے چلایا جا رہا ہے حا لانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل میں پاکستان یہ اقرار کر چکا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا نظام خود چلانے کی آزادی ہے اور ہم اس میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے طیشدہ منصبوبے کے تحت مختلف ادوار میں فیکٹری کے ملازموں کی طرح پیکیجز دئیے جاتے رہے ہیں ان پیکیجز کے ذریعے اسلام آباد سر کارنے علاقے کو ابھی تک سیاسی اور معاشی ھوالے سے جمود کا شکار بنا دیا ہے ہر نیا دیا جانے والا پیکیج پہلے والے پیکیج کا تسلسل ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت اور کانا ڈویژن ان پیکیجز میں معمولی رد و بدل کر کے بین الاقوامی سطح پر یہ تا ثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی ، معاشی سیاسی اور انتظامی حقوق دیے گئے ہیں ۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہو تا جس کی زندہ مثال حکمران جماعت پی پی پی کا دیا ہوا موجود ہ اصلاحاتی پیکیج ہے۔ جس کو کسی قسم کا آئینی اور قانونی تحفظ حاصل نہیں ۔ اس پیکیج کے ڈرافٹ کا ناڈ ویژن کے سیکشن آفیسر نے تیار کر کے صدر پاکستان سے منظوری لیکر گلگت بلتستان کے لیے ایک قسم کا آئینی پیکیج قرار دیا جو کہ 21ویں صدی میں ایک جیتی جاگتی قوم کو سائنسی انداز میں بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔ امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 کے تحت (لیگل فریم ورک آرڈر ) جو نیا سیٹ اپ دیا گیا ہے اس سیٹ اپ میں انتہائی مہارت اور مستعدی سے چیف الیکشن کمشنر ، اور سپریم اپیلٹ کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جو کہ خود مختار سیٹ اپ کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ چیف الیکشن کمشنر اور سپریم کورٹ کا تصور وفاق میں ہے صوبوں میں نہیں ۔ دوسری طرف عوام کو بیو قوف بنا نے کے لیے دعویٰ کیا جارہا ہے۔ کہ گلگت بلتستان کو جو سیٹ اپ دیا گیا ہے وہ مکمل صوبائی سیٹ اپ ہے حالانکہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور جب تک مسئلہ کشمیر کا تصفیہ سامنے نہیں آتا تب تک پاکستان گلگت بلتستان کو کوئی آئینی وقانونی سیٹ اپ نہیں دے سکتا جس کا اظہار گزشتہ 67 سالوں میں بین الا قوامی سطح کے فورموں میں پاکستان خود ہی کر چکا ہے یہی وجہ ہے کہ موجود ہ سیٹ اپ نہ صوبائی سیٹ اپ اور نہ صوبائی طرز کا سیٹ اپ ہے۔اس لیے اسلام آباد سر کار اس سیٹ اپ کے تحت دیا ہوا نظام کو اسلام آباد سے ریموٹ کنٹرول کے تحت چلا رہا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ گورنر گلگت بلتستان ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ، وزراء ، ممبران اسمبلی اور ممبران کونسل چھوٹے سے چھوٹے اور معمولی سے معمولی امور کے انجام دہی کے لیے اسلام آباد سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہیں ۔ وقت انسان کی زندگی ہے اور زندگی کا نام وقت ہے۔ چھ دہائیوں سے زیادہ وقت قوم کا ضائع ہوا ہے۔ یعنی 67 سال ہم مسلسل قتل ہوتے رہے ہیں کیونکہ کوئی کسی کو قتل کرتا ہے تو وہ در اصل مقتول سے وقت چھین لیتا ہے ۔ کوئی بھی انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا میں زندہ نہیں رہتا موت یقینی ہوتی ہے۔ لیکن قاتل کو سزا ئے موت اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی (وقت ) کو چھینے کا سنگین جرم کرتا ہے۔نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے طلباء وطالبات کو دعوت فکر دیتی ہے کہ وہ آئیں یکم نومبر کے دن ہم سب اپنا محاسبہ کریں جو گزشتہ 1840-42 میں سکھوں کی طرف سے گلگت بلتستان پر قبضے کے بعد سے جن فر سودہ روایات میں جھکڑے ہوئے ہیں ۔ ان روایات اور غلط سوچ و فکر کے تحت ہم اپنی غلامی کو تسلیم کرنے سے انکار ی ہیں۔ یہی وجہ سے کہ گلگت بلتستان کے عوام 67 سال گزرنے کے با وجود خود کو ایک ماڈل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکیں جو قومیں دوسری قوموں کے عروج و زوال سے سبق نہیں سیکھتیں دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ آج گلگت بلتستان کے عوام تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پر چھوٹی غلطی سے کئی صدیوں تک سیاسی اور معاشی طورپر غلام بن سکتے ہیں ۔ کیونکہ قابض قوتیں اپنے آقا سامراج کے کہنے پر عوام کو بائینڈنگ فورس کے طور پر آگے آنے سے روک رہی ہیں جب کہ سامراج خود اس تاک میں بیٹھا ہوا ہے کہ جب بھی موقع ملے تو وہ 1947 کی طرح ایک ایسا اسٹیج تیار کرے گا جس میں یکم نومبر کی بنی ہوئی فلم کو ایکشن ری پلے کیا جائے گا۔ قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کے اس اہم خطہ کو ایک مرتبہ پھر اپنے مفادات کا اکھاڑہ بنایا جائیگا ۔ کیونکہ بدلتے ہوئے حالات کے اندر سامراج گلگت بلتستان پر نئی فلم بنا نے کے لیے سکرپٹ لکھ رہا ہے۔ خطہ کے اندر سامراج کے لیے ٹول کا کام کرنے والی قوتوں کی کمی نہیں ہے۔اس سے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے دانشوروں ، صحافیوں ، وکلاء برادری ، طلباء ، یوتھ اور سیاسی جماعیتں اس نظام کے خلاف انقلاب کے لیے خود کو تیار کریں ۔ کیونکہ 67 سالہ فر سودہ روایات کے تحت آگے بڑھنے سے اصلاح پسندی نے جنم لیا ہے۔ جس نے ہمیں بے عمل اور بے حس بنا کر اپنی حقیقی منزل سے دور کر دیا ہے۔ آج وقت ہم سے یہ تقاضا کر رہا ہے کہ پوری دنیا میں رونما ہونیوالے واقعات اور خاص طور پر سرمایہ دار انہ نظام سے بیزاری اور انسانیت کے دشمن اس نظام سے گلو خلاصی کے لیے جو تحریکیں اور جد وجہد چل رہی ہیں اس کا حصہ بنیں ۔ اور اس خطے کے مظلوم و محکوم عوام کی آزادی کے لیے ایک ایسی انقلابی منشور سامنے لائے جو دنیا کی انقلابی تحریکوں کے حصہ بن کر سر مایہ دار انہ نظام کے خاتمے کے لیے اپنی جد و جہد کا آغاز کرے تا کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے آج اور کل کو محفوظ بنا سکیں ۔ بصورت دیگر سامراج اپنے فرسودہ نسخے کے تحت فرسودہ روایات میں الجھا کر ایندھن کے طور پر استعمال کریگا۔

موجودہ نام نہاد اور اپا ہج پیکیج کے تحت قائم کر دہ نظام حکومت صرف عالمی سامراج ،ملٹی نیشنلز اور ملکی سرمایہ داروں کی مفادات کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ جبکہ یہاں کے محنت کشوں اور مظلوم عوام کے حقوق کے تحفظ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔ یہ گلگت بلتستان کے عوام کا ترجمان ہونے کے بجائے پاکستان کے بدا عنوان حکمرانوں اور ان کو تحفظ دینے والی سرمایہ دار انہ نظام کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں حقیقی قومی آزادی سامراج اور اس کی گلوبل طاقتوں اور ملٹی نیشنل اور ان کے مقامی سرمایہ دارطبقے سے آزادی حاصل کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اپنی جدوجہد کو انقلابی خطوط پرمنظم کرنا ہوگا۔ ۔ سامراج اور اس کے مقامی ایجنٹوں سے گلو خلاصی کے لیے ملک و عالمی سطح پر انقلابی قوتوں سے اپنی جد وجہد کو جوڑنی ہو گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔