حسینیت اور یزیدیت

حسینیت اور یزیدیت

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

qدس محرم الحرام سن61ہجری کا وہ خون آشام واقعہ جسے سن کر اور پڑھکر انسانیت کانپ جاتی ہے تاریخ میں حق وباطل کے ایک بڑے معرکے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ اسی روز یزید نے ظلم کی وہ انتہا کر دی جسکی نظیر تاریخ میں خال ملتی ہے دس دن سے بھوکے پیاسے اہلِ بیت کو کربلا کے میدان میں ابدی نیند سلادی اور بعض کو قید ی بنالیا گیا دس محرم تاریخ میں اسلئے امر نہیں ہوا کہ نواسہء رسول ،فرزند علی ،جگرِ فاطمہ حضرت امام حسینؑ اور اس کے خاندان کو شہید کر دیا گیا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امام حسین کے بڑے بھائی امام حسن ؑ کو بھی تو زہر دے کر شہید کر دیا گیا تھا خارجین کے ہاتھوں اسکا والد حضرت مولا مرتضیٰ علیؑ بھی شہید ہوگئے تھے، ہاں امام حسینؑ تاریخ میں اسلئے زندہ ہوگئے کہ میدانِ کربلا میں ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ یزید نے وہ سلوک کیا کہ اس سے دیکھ کر اس سے آگے اور پیچھے رونما ہونے والے تمام مظالم محض تماشا لگنے لگے، خاندانِ رسول نے 72افراد کو کربلا کے میدان میں پیاسا رکھنا اور اسی پیاس کے عالم میں طاقت کے غرور اور اقتدار کے ہوس میں دھت یزید نے ایک ایک کر کے انہیں شہید کر دیا جنمیں سے خواتین اور بچے سب بلبلا کر اور پیاس کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جامِ شہادت نوش کررہے ہیں، تاریخِ عالم میں اس قسم کی ظلم اور جبر وبربریت کی مثالین بہت کم ملتی ہے امام حسین شہادت پاکر تاریخ کا روشن باب بن گئے ۔جسے عقیدے اور نظریے سے ہٹ کر ساری انسانیت سلام پیش کرنے پر فخر محسوس کر تی ہے ایک ہندوشاعر کے الفاظ سے اس کر اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

’’اس قدر رویا میں سن کے داستانِ کربلا میں تو ہندو ہی رہا، آنکھین حسینی ہوگئی ‘‘۔

امام حسین کی شہادت وقتی طورپر تو یزید کی کامیابی تھی لیکن شہید ہونے کے باؤجود نواسہء رسول نے اپنے پیچھے ایک تصور ، ایک نظریہ اور عقیدہ چھوڑا ۔یہ کہ ظلم اور ظالم کے خلاف جہا د کا تصور ،جبر کو روکنے کا تصور اور ظلم کا شکار انسانوں سے ہمدردی اور وقت کے ہر ظالم ، ہر فرغون ،ہر یزید کے خلاف سینہ سپر ہونے کا تصور۔اسی لئے حسینیت ظلم کے خلاف جہاد کا نام ہے جبکہ یزیدیت اس ظلم کو کہتے ہیں جوبنی نوغِ انسان پر رنگ ونسل، عقیدہ ،مذہب ومسلک اور امیر وغریب کے نام پر تسلط ہے ۔مگر آفسو س کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں دیگر اصطلاحات اور استعارات کی مانند حسینیت بھی سیاسی مقاصد اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کررہے ہیں، درجن بھر نام نہاد انقلابی خود کو حسینیت اور مخالفین کو یزید کا خطاب دیکر خوشی محسوس کرتے ہیں تو طاہر القادری اور ان کے پیروکار وں کے نزدیک وہ حسینیت کے لشکر کا ہر اول دستہ ہے باقی یزیدکے سپاہی ۔یہی حال باقی سیاسی ومذہبی گروہوں کی بھی ہے ان میں وہ سیاسی جماعتین اور ان کے کارکن بھی شامل ہے جو نظریاتی مخالفین سے جینے کا حق بھی چھن کر انہیں قتل کرنے کو جہاد سمجھتی ہے کیونکہ ان کے بقول وہ حسینیت کا پرچار کررہے ہیں ان میں سے وہ گروہ بھی شامل ہے جو کہ پچاس ہزار سے زائد بے گناہ ومعصوم پاکستانیوں کے قاتل طالبان کی خونریزیوں کی مذمت تو دورکی بات ،الٹا ان کے لئے مذہبی جواز فراہم کر تے ہوئے انہیں نجات دہندہ قراردیتے ہیں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ طالبان بھی تو اسلامی نفاذ چاہتے ہیں۔ ان کی مثال بھی اردو کے اس مشہور زمانہ شعر کی مانند ہے کہ ’’عجب تیری سیاست عجیب تیرا نظام یزید سے بھی مراسم ، حسین ؑ کو بھی سلام ‘ ‘

ان دہشت گردوں کے لیڈروں کی ہلاکت پر یوں افسردہ اوران کی انکھین اشک بار ہے جیسے یہ ان کے خاندان کا کوئی فرد ہو۔بیت اللہ محسود ، حکیم اللہ محسود اور شیخ اسامہ کی ہلاکت پر ان کے جذبات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا لیکن پھر بھی وہ خود کو حسینیت کے لشکر میں شامل جہادی جبکہ نظریاتی مخالفین کو اہلِ بیت کے لئے پینے کے پانی سے بھی محروم رکھنے والے یزید کے ساتھیوں سے بھی بدتر مخلوق گردانتے ہیں ۔سوشل میڈیا سے لیکر عام بحث مباحثوں میں اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ کسطرح یہ خود ساختہ حسینیت کے پیروکار اپنی سیاسی ونظریاتی مقاصد کیلئے مخالفین کو ذدوکوب کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،یہ بھی حقیقت ہے کہ ان گروہوں کو نہ تو خاندانِ علی ؑ اور امام حسین ؑ سے کبھی دلی محبت رہی اور نہ ہی کبھی ان کے نظریات کو تسلیم کیا ہاں البتہ جہاں ذاتی مقاصدکا حصول ہے وہاں ان عظیم ہستیوں کے نام کو رگڑنا عین عبادت سمجھتے ہیں البتہ تقدس کی چادر اوڑھ کر جس منافقت کا مظاہر کر رہے ہیں اس کی مثال بھی بہت کم ملتی ہے ۔ حرفِ آخر یہ کہ دراصل محرم الحرام اور حسینیت کا فلسفہ یہ ہے کہ معاشرے میں ہر دوسرے انسان کوجینے کا حق دے دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کے بجائے اپنی اصلاح کرے دوسروں کو ان کے عقائد ، نظریات او ر انہیں اپنی انداز سے جینے کا حق دینا ہی اصل انسانیت ہے بجائے اس کے پل پل دوسروں کو اندھ درگو کرنے اور مخالف فرقہ ونظریات کے لوگوں کے قتل کو عین عبادت سمجھنے والے دراصل یزیدیت سے بھی بدتریں فعل کے مرتکب ہورہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔