ویت نام کے جنات کے ساتھ ایک مختصر ملاقات

ویت نام کے جنات کے ساتھ ایک مختصر ملاقات

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ رات گلگت شہرکے وسط میں موجودجگلوٹ آڈہ سے متصل پی ائی اے لنک روڑپرمیری ملاقات ویت نام سے سیرسپاٹے کے لئے آئے ہوئے مہمان جنات کے ایک گروہ سے ہوئی۔رسمی علیک سلیک کے بعدروڑ پر چہل قدمی کے لیے آئے ہوئے جنات میں سے ایک جن مجھ سے یوں مخاطب ہوا کہ ہم ملک ویت نام سے سیرسپاٹے کے لیے آئے ہیں۔ ہم بدھ مت کے پیروکار ہیں اور غیرمسلم ہیں اور میں ان کا سربراہ ہوں۔انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوے کہاکہ ہم یہاں انجان ہے اور ہمیں یہاں آکرمعلوم ہوا ہے کہ گلگت بلتستان بھی مختلف گروہ کے جنات کا مسکن ہے آپ ہمیں ان کے بارے میں بتائیں۔ مرتاکیانہ کرتا؟ میں نے ڈرکے مارے تھرتھراتے ہوئے دیمی لہجے میں جنات کے سربراہ سے مخاطب ہونے کی کوشش کی کہ جناب والا!مجھے یہ علم نہیں کہ جنات کے سربراہ کو کس نام سے پکارا جاتاہے ۔میں حیران تھامیرا دماغ ساتھ نہیں دے رہاتھاکہ میں جنات کے سربراہ کو کس نام سے مخاطب کروں ۔ ویسے تو مہذیب انسانی معاشرے میں اپنے سربراہان کو وزیراعلیٰ صاحب ،گورنرصاحب ،چیف سیکرٹری صاحب ،چیف انجینرصاحب ،اسی طرع وزیرتعلیم گلگت بلتستان ،وزیرخوراک گلگت بلتستان جیسے خوبصورت القابات سے پکارے جاتے ہیں ۔میں نے حسب معمول جنات کے سربراہ کے لیے جناب کا لفظ استعمال کیاجوکہ ہم گلگت بلتستان کے باسی ہر آنے والے مہمان کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔میں نے اپنے اور گلگت بلتستان کے پشتنی باشندوں کی جانب سے تمام مہمان جنات کوگلگت ٓامدپرخوش آمدید کہا۔ جنات کی برق رفتاری دیکھ لیں کہ اتنی مختصر گفتگو میں ہم چنارباغ اسمبلی حال کے سامنے والی پارک میں پہنچ گئے۔ دریں اثناء ایک جن نے ہمارے عقب سے آواز دی ’’اے خدا کے بندے! ہمیں یہاں اپنے قبیلے کے مسکن کی خوشبو آرہی ہے، کیا اچھا ہوتا اگر ہم یہاں کچھ دیر قیام کریں اور اس مہکتے ہوئے فضا میں آپکے خوش بیانی سے محضوز ہوجائے ‘‘ ۔ میں نے حامی بھر لیا اور ہم اسمبلی حال کے سامنے والی پارک میں بیٹھ گئے۔

میں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے عرض کیاجناب والامیں گلگت بلتستان کا ایک پشتنی باشندہ ہوں اس وقت گلگت بلتستان کی آبادی کم و بیش پچس لاکھ ہیں ۔ہم گلگتی بہت ہی مہمان نواز لوگ ہیں۔مہمان نوازی ہمارا مشترکہ ثقافت ورثہ ہے ۔مجھے قوی امیدہے کہ گلگت بلتستان والے آپ کی مہمان نوازی میں کوئی کثر نہیں چھوڑنگے کیونکہ ہم میں آج کل انسانی خصائل سے زیادہ جنات کے صفات پائے جاتے ہیں۔ہم بھی گلگت بلتستان کے اندار موجود انسان نماجنات کے مختلف گروہ کے ممبرہیں ۔میں نے آپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوے کہا جناب والا!یہاں کے سب سے بڑے جن کا نام فرقہ واریت ہے اور ہم میں سے تقریباّ ہر شخص اُس آدم خور جن کے پیروکار ہے ۔ اپ نے بتایا کہ اپ کا تعلق ویت نام کے غیرمسلم جماعت سے ہے۔ فر قہ و اریت نامی جن سے اپ کو کوئی خطرنہیں ۔یہاآاپ کے لیے کوئی نو گو ایریا نہیں ہے ۔ ٓاپ جہاں چاےءآاجاسکتے ہیں ۔کیونکہ اپ نہ توسنی مسلم ہے اور نہ شیعہ مسلم اس لیے آپ بے فکرہوکرجہاں چاہے جاسکتے ہو۔میں نے عرض کیا کہ یہاں کے دوسر ے بڑے جن کوکرپشن کا جن کہا جاتاہے اس جناتی گروہ میں بڑے بڑے عہدوں پربراجمان سرکاری ملازمین اور یہاں کے سیاسی لیڈران، مقامی اور غیرمقامی بلڈرزکے علاوہ چنداور لوک شامل ہیں۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ ٓاپ کے پاس قیمتی سفری اسباب موجود ہو نگے ا سلئے میراآپ کو مشہوراہ ہے کہ ٓاپ اس جناتی گروہ سے دور رہے کیونکہ اس گروہ کے جن کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیاکہ جنات کے سربراہ اور دیگرمہمان جنات پریشان دیکھ رہے تھے ۔میں نے ان کی بے چینی کی وجہ پوچھی توایک جن نے کہا یہاں کی فضاسے ایک عجیب سی بوآرہی ہے۔ میں نے کہا یہ بو بارود کی ہے اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھاکیا آپ لوگ بارود کھاتے ہو؟میں نے جواب دیانہیں ہم بارود ایک دوسرے کو کھلاتے ہیں۔ یابارود سے بغیرکسی وجہ کے ایک دوسرے کو جلاتے ہیں ۔مہمان جن ایک دم پریشان ہوا اور اپنے ساتھوں سے کہا ساتھیوں ہم غلط جگہ پرآئے ہیں ہمیں بتایا گیاتھا کہ گلگت بلتستان پریوں کا مسکن ہے ،یہاں تو ہم سے زیادہ خطرناک جنات موجودہیں اور وہ بھی آدم خور۔ہمیں فورا یہاں سے جانا ہوگا۔میں نے جنات کے سربراہ کو گلگت بلتستان میں موجود دیگرجنات جس میں رشوات ،اقراباپروری ،منشیات ،اسلحہ مافیا اور لینڈمافیاکے جنات کے حوالے سے بتانے والاتھامگرمہمان جنات کے سربراہ انتہائی سراسیماگی کی حالت میں اپنی جیب سے اپنا بلک بیری ائی سکس کاسیل فون نکالا اور گلگت کے معروف صحافی عبدالراحمان بخاری کو آلوداعی کال ملادی اور اپنے گروہ کے ساتھوں کے ساتھ غایب ہونے کا اہتمام کر ہی رہے تھے کہ بخاری صاحب کی طرف سے کال بیک ہوئی جس کے ٹیون کے شور سے میں ایک دم جاگ گیا اور جنات کو دیکھنے ادھر اُدھر نگاہ ڈالی کہ میں اپنے کمرے میں اپنے ہی بستر پہ سویا تھا اور جنات کا کہی نام ونشان تک نہیں پایا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔