ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان کے تعاون سے آرسی ڈی پی کے زیراہتمام مختلف امورپر چارروزہ ورکشاپ اختتام پذیر

ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان کے تعاون سے آرسی ڈی پی کے زیراہتمام مختلف امورپر چارروزہ ورکشاپ اختتام پذیر

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر)ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان کی مالی تعاو ن سے آرسی ڈی پی رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام چترال کے زیراہتمام کمیونٹی ایکشن فارپیس اینڈڈویلپمنٹ(سی اے پی ڈی)کے تحت چارروزہ ورکشاپ اختتام پذیرہوئی جس میں چمرکن،جغور،فیض آباد ہون،اوچست اورمختوم آبادکے ایلڈرزاوریوتھ تنظیموں کے ممبرز،پارٹنرارگنائزیشن کے اسٹاف اورآرسی ڈی پی کے افس اسٹاف کثیرتعدادمیں شرکت کی۔ورکشاپ میں حکومتی اداروں سے مل کرسوشل سروس کوبہتربنانا،عوام دوست پالیسیوں میں تبدیلی لانا،معمولی تنارعات اپس میں مل کرختم کرنااورخواتین کے حقوق کے بارے میں لیکچردیتے ہوئے آرسی ڈی پی چترال کے کواڈرنیٹیرانجینئرتیمورشاہ اورسوشل آرگنائزعبدالنادر خان نے کہاکہ ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے ضرورت زندگی میں بہتری آجائیں،ہمیں کوشش کرکے اپنے تنظیمات کومضبوط اورفعال بناناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ اگرادارے مضبوط نہ ہوسکے جہالت،غربت،کرپشن ،فرقہ واریت ،دہشت گردی،بھتہ /رشوت خوری ،اقرباپروری ،کام چوری عام ہوگی۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارے بعدآزاد ہونے والے بیشترقریبی ممالک ہیلتھ ،ایجوکیشن اورٹیکنالوجی میں ہم سے کئی گناآگے نکل چکے ہیں ۔اس لئے ہرپاکستانی ملک کودرپیش مسائل اورنچھلی سطح کے الجھے ہوئے معاملات سے خاصاپریشان ہے ۔انجینئر تیمورشاہ نے کہاکہ چترال کودرپیش مسائل حل کرنے کے لئے ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان ایلڈرزاورنوجوانوں سے ملکر ان جیلنجزسے نمٹنے اورکام کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہمارے ادارے کامقصدچترال کے ترقی کے ساتھ ساتھ امن کوبھی بر قراررکھناہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومتی اداروں اورعوام کے درمیان فاصلے کوختم کرکے عوام کواپنے حقوق حاصل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔اگرحکومتی اداروں سے مل کرسوشل سروس میں اتفاق اوراتحاد سے کام کیاجائے توہمارے علاقے کے مسائل کے ساتھ ساتھ پسماندگی اورغربت کابھی خاتمہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ اسلام میں مردوں کے برابرخواتین کوبھی حقوق حاصل ہے ہمارے معاشرے میں علاقائی روایت کومدنظررکھتے ہوئے خواتین کوبنیادی حقوق سے محروم کیاجاتاہے اگران کوبرابری کاحقوق دیاجائے تومعاشرے میں بے روزگاری اورپسماندگی کامکمل خاتمہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ اکثرعلاقوں میں معمولی تنازعات کورنگ دے کرترقی کی راہ سے دورہوجاتے ہیں اپس میں مل بیٹھ کرمعمولی تنازعات ختم کرکے ترقیاتی کاموں میں اتفاق اوراتحاد سے حصہ لیناچاہیے جس سے ہمارے آنے والے نسل فائدہ حاصل کرسکے۔انہوں نے تمام تنظیمات کے عہداداروں اورممبران پرزور دیاکہ سب مل کرایک لائحہ عمل کے تحت پلان بناکر اپنے علاقے کی ترقی کے لئے محنت کریں اوراپس میں اتفاق کریں توامن بھی قائم رہے گا اورچترال بھی مالا مال ہوجائے گا۔ اس موقع پر شرکاء ورکشاپ کی نمائندگی کرتے ہوئے صدردہی تنظیم مختوم آبادقادرامان ،صدر دہی تنظیم فیض آباد ہون تحصیلدار نواز رفعی ،کاشف جغور،صدردہی تنظیم چمرکن ذاکر اوردیگرمقریرین نے ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان اورآرسی ڈی پی چترال کاتہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ان اداروں نے ہمارے سوچ میں تبدیلی لاکر معاشرے کوبہتربنانے میں اہم کرداراداکیاہے ۔اور ہمیں ایک پلیٹ فارم میں جمع کرکے اتفاق اوراتحاد کادرس دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگاہی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں میں بھی بے شمار خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اوربے روزگاری کی خاتمے معاشی حالات بہتربنانے کے لئے بھی ضروریات ایشیاء فراہم کررہے ہیں تاکہ ہنرمندافراد ان سے فائد ہ حاصل کرکے اپنی معاشی حالت بہتر بنائیں۔اخرمیں انہوں نے اپنے تحفظات کے ساتھ ساتھ ساؤتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان اورآرسی ڈی پی کے پالیسیس کواپناکر اپنے تنظیمات کومضبوط کرنے کی عہد کی۔

re

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔