فکرو نظر کا چراغ

فکرو نظر کا چراغ

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: الواعظ نزار فرمان علی 

حکیم الامت ،مفکر پاکستان ،ممتاز فلسفی ،دانشور و عالم ،ترجمان حقیقت اور شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال 9 نومبر 1870 ء کو سیالکوٹ کے مردم خیز شہر میں ولادت ہوئی ۔آپ کے آباؤ اجداد صدیاں قبل مشرفبہ اسلام ہو کر کشمیر سے پنجاب منتقل ہوئے ۔آپ کے والد شیخ نور محمد نہایت عباد ت گزار ،حلیم الطبع اور صوفی منش انسان تھے آپ ان پڑھ تھے مگر خود آگاہی کی نعمت سے بہر مند تھے ۔آپ کی والدہ امام بی بی زہد و تقوی ،تہجد گزار اور خدا ترس خاتون تھیں۔ والدین کی عمدہ تربیت پر ناز تھا ان کی خدمت میں کئی اشعار ھدیہ کئے

’’ تربیت سے میں تیر ی انجم کا ہم قسمت ہوا ،گھر میرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا‘‘ 

یقیناًآپ کے ماں باپ کی اعلیٰ اخلاقی و دینی خوبیوں کا حضرت علامہ کی زندگی پر گہرااثر ہوا۔ خوش قسمتی سے بچپن ہی میں شمسالعلما سید میر حسن جیسے نابغہ روزگار ،فاضل زمانہ ،مشفق مدرس سے مستفیض ہونے کا موقع ملا جو اپنے دور کے مروجہ علوم خاص طور پر اسلامی علوم و ادب ،تصوف و تاریخ اور لسانیات کے بڑے ماہر تھے ۔افکار مشرق،ایقان و عرفان اور عربی ،فارسی اور اردو ادب کا ذوق و استعداد انہی کے زیر تربیت پیدا ہوا تھا ۔

’’مجھے اقبال اس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے ۔پلے جو اس کے دامن میں وہی کچھ بن کے نکلے ‘‘ 

جب سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج لاہور آئے وہاں فلسفے کی تعلیم مشہور متشرق پروفیسر آرنلڈ سے حاصل کیا ۔ماہر استاد سے فلسفہ قدیم و جدید کی تاریخ و تصورات سے بخوبی روشناس ہوئے مختصر مدت میں توجہ ،شوق اور محنت شاقہ کی بدولت فلسفہ و دانش میں اس درجہ پختگی پیدا ہو گئی کہ خود پروفیسر آرنلڈ کو کہنا پڑا ’’اقبال جیسا شاگرد استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا سکتا ہے ‘‘ اساتذہ میں مولانا فیض الحسن ،سہارنپوری ،مولانا حسین آزاد اور مولوی محمد دین شامل ہیں ۔شعر گوئی آپ کی سرشت میں شامل تھی آپ بچپن ہی سے شعر گوئی کا ملکہ رکھتے تھے کچھ وقت ارشد گورگانی خاص طور پر داغ دہلوی کی رہنمائی میں علامہ کے کلام میں خوبصورتی و نکھار پیدا ہوئی جس کا اقرار اور تعریف یوں فرمائی

’’جناب داغ کی اقبال یہ ساری کرامت ہے۔تیرے جیسے کو کر ڈالا سخن دان اور سخن ور بھی۔ 

طبیعت میں بلا کی آمد تھی ماشاء اللہ ایک نشست میں سو دو سو اشعار لکھ جاتے تھے۔مادر وطن ہی میں اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ ایم اے کیا ،انگلستان سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی اور جرمنی سے فلسفہ اور اخلاقیات میں پی ایچ ڈی کر کے کامیابی سے وطن لوٹے ۔مختصر یہ کہ علامہ اقبال انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر بعد میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے،آپ کی بے لوث خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب مسلم لیگ کا صدر منتخب کیاگیا ،آپ نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس بمقام الہ آباد میں اپنے خطبہ صدارت میں پہلی مرتبہ پاکستان کا تصور پیش کیا ۔آپ نے تجویز دی کہ برصغیر کے جن صوبوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں ان کی حکومت قائم کی جائے۔جب آپ کے خیالات و تصورات حقیقت کا روپ دھار چکے اس وقت آپ اس فانی دنیا کو چھوڑ چکے تھے ۔یعنی مسلم لیگ نے23مارچ1940 ء کو لاہور میں ایک قرارداد منظور کی جو قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہے اس قرارداد کی منظور ی کے سات سال بعد آزاد مملکت وجود میں آگیا ۔آ پ کی ، ہمہ گیراورپر حکمت شاعری کے مختلف ادوار بیان کئے گئے ہیں جو ہر ایک پر روشن ہیں۔حضرت علامہ اقبال کیغزل گوئی کا آغاز وطن پرستی سے شروع ہو کر ملی غزل گوئی پر تمام ہوا کیونکہ وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ انسانیت کے مصائب و آلام کا علاج وطنیت میں نہیں بلکہ ملت کے تصور میں ہے ۔

’’ایک ہو ں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے۔نیل کے ساحل سے لیکر تابہ خاک کاشغر‘‘ 

آپ کی تعلیمات میں پیش کئے گئے متعددنظریات تصورات میں سے چند ایک کے متعلق مختصراً بیان کیا جا تا ہے۔

1۔فلسفہ خودی۔ یہ تصور خودبینی یا خود پرستی کا نام نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خودی کی اصلاح و تربیت کے ذریعے خود آگاہی و خودشناسی کا حصول ہے جس کیلئے آہ سحر گاہی وتذکیہ اخلاق و نفس کا جہاد اکبر نا گزیر ہو تا ہے ۔

’’خودی کیا ہے راز درون حیات۔خودی کیا ہے بیداری کائنات‘‘

’’میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے ۔خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘

2۔نظریہ عمل۔ یہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں جہد مسلسل اور سعی پیہم بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے ۔وہ سکوت و جمود کو بقاء حیات انسانی کیلئے موت قرار دیتے ہیں۔ آپ جذبہ عمل کی توانائی کو آفاق و انفس کی تسخیر ،علم و دانش کی تحقیق اور تہذیب و تمدن کی اساس قرار دیتے ہیں ۔قرآنی تعلیمات کے مطابق جب تک کوئی قوم اپنی حالت آپ بدلنے کے لیے آمادہ و کو شاں نہیں ہو تی اس وقت تک خدا بھی راضی و مدد گار نہیں ہو تا ۔

’’بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا۔روشن شرر تیشہ سے ہے خانہ فرہاد۔

3۔فلسفہ عشق۔ علامہ اقبال نے جذبہ عشق کومجازی معنوں میں استعمال نہیں کیا بلکہ انسانیت کے جوہر کو پہچاننے اور اوج کمال کی ذریعہ قرار دیا ۔وہ عقل کے مخالف تو نہیں مگر عشق کے بغیر اسے خام و نا تمام سمجھتے ہیں ۔گو کہ عقل علم و دانش کا منبع ہے تسخیر خودی و خدائی میں بہت حد تک معاون ہو سکتی ہے لیکن حقائق عالیہ تک رسائی اس کے بس کی بات نہیں آپ فرماتے ہیں کتابیں چاٹ چاٹ کر آدمی کتابی کیڑا تو بن جا تا ہے مگر اس کا علم حقیقت کی چاشنی اور معرفت کی روشنی سے دور رہتا ہے ۔لہذا عقل انسانی کو عشق حقیقی کے آگ میں شک و حیلہ گری کی کثافت جلا کر اصل حیات اور اسرار شہنشاہی کا سراغ پا لے ۔

’’جب عشق سیکھاتاہے آداب خود آگاہی۔کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

4۔مرد مومن۔ حضرت علامہ کا پختہ یقین ہے کہ مومن کی زندگی کا محور و مرکز کلمہ شہادت ہے ۔قرب خداوندی پانے کیلئے عشق مصطفی ؐ اور کلام خدا کو رہنما بنائیں آپ فرماتے ہیں اگر تو سچا عاشق ہے تو حضورؐ کی اتباع سے اپنے ظاہر و باطن کو مستحکم کر تا کہ خدا تیری محبت کے دام میں گرفتار ہو جائے ۔بلاشبہ اسی یقین محکم ،اطاعت و بندگی ،ضبط نفس ،رزق حلال اور حسن عمل کے ذریعے نیابت الہیٰ اور اخلاق اللہ کا مظہر بن جا جاتا ہے ۔(آمین یا رب العا لمین)

’’کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیر ے ہیں‘‘

’’کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا ۔نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔