صرف” تین اموات

صرف” تین اموات

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
فرض کیجئے ایک ہی دن بلاوال زرداری اور مریم نواز(خدانخواستہ) کسی حادثے کا شکار ہوجائیں تو ملک کی صورت حال کیا ہوگی؟ بہت ہی اسان جواب ہے۔ ملک کا نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ کئی مہینوں تک کاروبار زندگی مفلوج ہوجائیگی اور دونوں پارٹیاں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کئی دنوں تک سوگ منائیں گی۔ ملک بھر میں گاڑیاں جلادی جائینگی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائیگا ، بینک لوٹ لئے جائنگے اور فاتحہ خوانی کی “پارٹیاں” منائی جائنگی۔ 2007 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک کی صورت حال اس کی واضع مثال ہے۔
ali pic

علی احمد جان

دوسرا منظر دیکھئے۔ صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں چند ماہ قبل خشک سالی اور خوراک کی عدم دستیابی کے سبب سینکڑوں بچے جان بحق ہوگئےاور ہزاروں مویشی مر گئے۔ کچھ دنوں تک اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر خبریں آتی رہی اور پھرہم سب بھول گئے۔ اب دوبارہ وہی صورت حال درپیش ہے۔ بھوک کی وجہ سے بچے بلک بلک کر مر رہے ہیں اور سندھ کے وزیر اعلی یہ کہتے ہوئے بھی نہیں شرمائے کہ “تھر میں بچے بھوک سے نہیں بلکہ غربت کی وجہ سے مر رہے ہیں۔” کل پھر دو بچے جان بحق ہوگئے جس کے بارے وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 600 بچوں کی روزانہ اموات ہوتی ہے لیکن تھر میں 2 بچوں کی ہلاکتوں پر شور شرابہ کیا جارہا ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر سندھ کا سب سے زیادہ پسماندہ ضلع ہے جہاں حکومت ریلیف کا کام بخوبی انجام دے رہی ہے اور پہلے مرحلے میں ضلع میں میٹھے پانی کے لئے آر او ز پلانٹ لگائے گئے ہیں، اگر تھرپارکر میں بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔

بے حسی اور بے شرمی کی انتہا دیکھئے کہ عوام کا منتخب بندہ عوام کے بارے میں کہتا ہے کہ  “بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی”۔ ملک کے عوام آخر شرجیل میمن سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ “برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر” کے مصداق غریب ہی اس کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اگران بچوں میں شرجیل میمن کا بیٹایابیٹی بھی شامل ہوتی تو کیا وہ اس قسم کی باتیں کرتے یا سننے کی سکت رکھتے؟؟  کاش شرجیل میمن صاحب سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹوکے خاندان کے بھی “صرف” چار افراد مختلف ادوار میں جان بحق ہوگئے تھے ان چار اموات کا تذکرہ اب تلک کیوں کیا جارہا ہےِ ؟ وہ بھی تو “صرف” چار تھے۔
ان کا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کے مصداق جنگل کا قانون ہے۔ مجھے ان لوگوں پر بہت زیادہ ترس آرہاہے کہ ان تمام مناظر کو دیکھنے کے باوجود ان پارٹیوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ انھیں ان انکھوں سے محروم کردیا جاتا ہے جو اپنے جیسے عام آدمی کے مسائل دیکھ سکیں۔ ان کے پاس وہ کان بھی نہیں ہوتے جو مظلوم کی چیخیں سن سکیں اور نہ ہی وہ زبان ہوتی ہے جو ظلم کے خلاف بول سکے۔ وہی “رہنما” ان کارکنوں کی نظروں پر پٹیاں باندھکران کے ہاتھوں میں ایک مخصوص جھنڈا تھمادیتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں۔
 اس موقعے کے مناسبت سے دو سال پہلی لکھی نظم “کارکن” شدت سے یاد آرہی ہے۔
کارکن
چند افراد مر گئے تھے
واویلا کیوںکر مچاتے ہو
!ارے اخبار والو
تم پہ لاکھوں بار لعنت ہو
 کہ تم یہ کیوں نہیں لکھتے
ہمارے “رہنما” بالکل سلامت ہیں
خبر یہ بھی لگادو
مرنے والوں کو جلد پیسہ ملے گا
علی احمد جان
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔