وزیراعظم کا دورہ چین اور گلگت بلتستان

وزیراعظم کا دورہ چین اور گلگت بلتستان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان کا دورہ چین کے حوالے سے حکومت گلگت بلتستان حکومت کو اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے قانون ساز اسمبلی کے ممبران نے شدید خدشات کا اظہار کیا ۔ بلکل اسی طرح یہاں کے عوام کو بھی اس حوالے سے شدیدخدشات رکھتے ہیں کیونکہ پاک چین تجارت کے حوالے سے گلگت بلتستان ایک اہم حیثیت رکھتی ہے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ دورہ تجارت اور باہمی تعاون کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے جس میں چین سے گوادر تک ریلوے لائن کا پروجیکٹ اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سمیت کئی اہم منصوبہ جات شامل ہیں جسے گلگت بلتستان کی سرزمین استعمال کیلئے بغیر مکمل کرنا ناممکن ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین نے پاکستان میں بتالیس بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کے اُنیس معاہدے کئے ہیں جو کہ بغیر کسی قرضے یا ایڈ کے براہ راست پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر ہوں گے۔یہ سارے منصوبے کب مکمل ہونگے یا صرف معاہدے کی حد تک رہیں گے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں لیکن گلگت بلتستان کو اس حوالے سے نظرانداز کرنانواز لیگ کا گلگت بلتستان کے حوالے سے پالیسی کو واضح کرتی ہے ۔بدقسمتی ہے کہ جب یہاں کے عوام حقوق دینے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہی کہہ کر خاموش کرایا جاتا ہے کہ یہ خطہ چونکہ اقوام متحدہ کی قراداد کی روشنی میں متنازعہ حیثیت رکھتی ہے لہذا ہم چاہئیں تو بھی خطے کو پاکستان کے آئین حصہ نہیں بنایاجاسکتا دوسری طرف آپ اس سرزمین کو عوام کی مرضی کے بغیرتجارت کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں اگر گلگت بلتستان قانونی طور پرآپکاحصہ نہیں تو آپکو یہ حق بھی کس نے دیا کہ آپ ریاست کے عوام سے پوچھے بغیر ہماری سر زمین کو استعمال کرنے کیلئے دوسروں کے ساتھ معاہدے کریں کیا یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟۔

Sher Ali Anjum جعرافیائی پس منظر میں دیکھیں توگلگت بلتستان کا شمار پاک چین دوستی کے حوالے سے مرکزی پُل کی حیثیت رکھتے ہیں اس پُل سے گزرے بغیر دو محبوب کا ملنا دشوار لگتا ہے ایسے میں دو ملکوں کی دوستی کا دارمدار خطے کو آخر کب تک ایسے ہی لالی پاب کھلاتے رہیں گے؟۔افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف وفاق کہتے ہیں کہ ہم نے گلگت بلتستان کو مکمل خود مختاری دی ہوئی ہے انکے اندرونی معاملات میں ہم بلکل مداخلت نہیں کرتے تو کیا جواز بنتا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو چھوڑ کر آپ شہباز شریف کو اس اہم موقع پر ہمسفر بنائیں۔یہ الگ بات ہے کہ موجودہ حکومتی نظام کسی بھی طرح سے گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے یہ نظام فقط وفاقی مفادات کی تحفظ کیلئے بنایا ہوا ہے لیکن جس نظام نے پچھلے ستاسٹھ سالوں سے خطے کی مسقبل کو آپکے مفادات پر قربان کیا ہوا ہے اُنہیں ایسے موقع پر دیوار سے لگانے کا مطلب یہی ہوا کہ اس نظام کو آپ بھی محض ایک چوکیداری نظام سمجھتے ہیں جنہیں اچھے اچھے نام اور مراعات دیکر عوام پر مسلط کیا ہوا ہے ۔وزیراعظم صاحب یہ بات کہتے بھی نہیں تھکتے کہ اُنہیں عوام نے منتخب کیا ہے وہ ایک جمہوری وزیراعظم ہے اور ہر کام جمہوری انداز میں سرانجام دینے کو قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ لہذا اُنہیں یاد دالوں گا کہ ماضی میں ایک ملٹر ی ڈ یکٹیٹر نے جب چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تھا تو اُس وقت کے میر آف ہنزہ کو بطور نمائندہ گلگت بلتستان وفد میں شامل کیاتھا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے کیا غلط اور کیا اچھا کیا بات قبول کرنے کی ہے۔ لیکن محترم میاں صاحب تو پورے پاکستان کو پنجاب سمجھتے ہیں جہاں بھی جائے چھوٹے میاں کا ساتھ ہونا ضروری ہوتا ہے لہذا سوچتا ہوں کہ عمران خان درست کہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہی نظام رائج ہے جہاں خاندان اور رشتہ داروں سے بڑھ کر کسی کو اہم عہدہ رکھنے یا اہم فیصلے کرنے کا حق نہیں۔دورہ چین کے حوالے اگر آپ سمجھتے تھے کہ گلگت بلتستان میں دوسری پارٹی کا وزیراعلیٰ ہے لہذا ہم اپنے معاملات کو دوسروں سے شئیر کرنانہیں چاہتے تو جناب اپنے ہی پارٹی سے کسی کا انتخاب کرتے تاکہ عوام کو ایک تاثر ملتا ہے واقعی وفاق پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو بھی کچھ حیثیت دیتے ہیں۔ایسے میں نون لیگ گلگت بلتستان کے لیڈران کو بھی آئینہ دیکھ لینا چاہئے کہ وفاق میں اُنکی حیثیت کیا ہے، آپ لوگوں کو تو بس حسب ضرورت عوام سے نعرے لگوانے کیلئے بٹھایا ہوا ہے جہاں کہیں قیادت کی ضرورت پڑتی ہے اسلام آباد سے لوگ بھلائے جاتے ہیں ابھی گزشتہ مہینوں کی بات ہے جب صدر پاکستان نے گلگت کا دورہ کرنا تھا اور اُس حوالے سے بھی میڈیا رپورٹ کے مطابق آخری وقت تک مقامی لیڈران کو معلوم نہیں تھا کہ صدر گلگت کا دورہ کرنے والے ہیں۔یہ تو ہوئی فلم جمہوریت کی شارٹ کلپ ،ہمارا اصل موضوع دورہ چین کے حوالے سے گلگت بلتستان کو نظرانداز کرنے پر احتجاج ریکارڈ کرنا ہے کیونکہ جبر اور استحصالی اب حدیں عبور کر چکی ہیں لہذا جبر کا یہ نظام اب ختم ہونا چاہئے حالیہ معاہدوں کے حوالے سے قانون جاننے والے کہتے ہیں کہ پاکستان کا اقتصادی راہداری اور دیگر تمام منصوبوں پر گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیردستخط کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ ایک طرف آپ یہ اعلان کرچُکے ہیں کہ یہ خطہ قانونی طور پر ہمارا حصہ نہیں اور دوسری بات آپ یہاں کے عوام کا منتخب نمائندہ بھی نہیں جسے عوام نے ووٹ کے ذریعے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہو۔ یہاں کے عوام تو آج بھی معاہدہ تاشقند کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں چھبیس سو مربع میل چین کو تخفے میں دیکر کر شاہراہ قراقرم کی تعمیر عمل میں آئی تھی اب ایسا نہیں ہوگا کسی کو بھی جعرافیائی حدود کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوگی ورنہ انقلاب کے راستے یہاں کے عوام کیلئے مزید ہموار ہوسکتے ہیں۔اگر پاکستان اور چین گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہے تو دونوں ملکوں کو چاہئے کہ صرف اپنے مفادات کو دیکھنے کے بجائے گلگت بلتستان کے عوام کی ضروریات کو بھی محسوس کریں اس وقت تعلیم گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے جس کیلئے چین کو چاہئے کہ یورپی یونین کی طرح گلگت بلتستان کے طلباء کیلئے فری اسکالر شب دیں ،یہاں کے عوام آج بھی صحت کے بنیادی ضروریات سے محروم ہے جس کیلئے یہاں دیہی سطح ہسپتال بنائے جائیں ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم سے یہ خطہ آج بھی کوسوں دُور ہے لہذا یہاں جدید سائنسی تعلیم سے آراستہ یونیورسٹیاں قائم کریں، معدنیات سے مالامال یہ خطہ آج بھی گندم کی ایک بوری کیلئے اسلام آبادکی راہ تکتا ہے لہذا یہاں مقامی سطح پر سمال انڈسٹریل زون بنائے جائیں،زاعت اور ڈرائی فروٹ کے حوالے سے ایک بڑی منڈی ہونے کے باجود لاشعوری اور سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب لوگ رشوت دیکر سرکاری نوکریوں کیلئے کوشش کرتے ہیں جس کے سبب خطے کا ہر محکمہ رشوت اور کرپشن کی گھڑ بن چکی ہے لہذا زراعت کی ترقی اور ڈرائی فروٹ کو پاکستان اور چین تک رسائی کیلئے عوام کو سہولت فراہم کریں ،جس طرح پاکستان اور چین کے مفاد میں شاہراہ قراقرم تعمیر ہوئی بلکل اسی طرح جگلوٹ سے کھرمنگ ، چھوربٹ اور گلتری سڑکوں کی توسیع کرکے وسیع شاہراہ بنائیں ،غذر اور استور روڈ کی توسیع کیلئے جامع منصوبہ بندی تیار کریں تاکہ یہاں کے عوام کو بھی محسوس ہو پاکستان اور چائینہ اپنے مفادات کے علاوہ ہماری ضروریات کو سمجھتے ہیں ورنہ ایسے معاہدے ہمارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے جس میں گلگت بلتستان کو فائدہ کم اور نقصان ذیادہ ہو۔

لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس معاہدے پر نظرثانی کرکے گلگت بلتستان کے داخلی مسائل کو بھی اس اہم معاہدے میں شامل کریں کیونکہ یہاں کے عوام اب نہیں چاہتے کہ یہ خطہ دوسروں کی مفادات کیلئے قربان ہوتے رہیں اور ہم خاموش تماشائی بن کردو ملکوں کی ترقی کیلئے تالیاں بجاتے رہیں۔ اسلام آباد سرکار کوسوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ گلگت بلتستان اب وہ نہیں رہے جسے آپ نے ماضی میں ایک پٹواری کے ذریعے سازش کیا شکار بنایا تھا اب اس قوم کے جوان بیدار ہوچکے ہیں۔ اللہ ہم سب کو قومی مسائل کی حل کیلئے اجتماعی اور انفرادی طور پر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرما کر اس جنت نظیر خطے کو دشمن کے تمام سازشوں سے بچائے رکھے ۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔