دو نمبر گلگت بلتستان

دو نمبر گلگت بلتستان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شرافت علی میر

کسی زمانے میں کسی بھی چیز کے نقل کو یا کسی بھی ناقص چیز کو دو نمبر کہا جاتا تھایا پھر ایسے شخص کو جس پہ اعتبار نہیں کیا جاتا ہے جو چوری ،ڈاکہ یا کسی اور جرم میں ملوث ہوتا یا معاشرے میں جس کا کردار ٹھیک نہیں ہوتا اس شخص کو بھی دو نمبر کہا جاتا تھا۔

 لیکن اس وقت پورا گلگت بلتستان کی بازاروں اور سڑکوں پہ بلکہ ہمارے گھروں میں بھی دو نمبر کی چیزیں یا اشیاءاستعمال ہوتی ہیں۔ بلکہ ایک عام آدمی سے لے کر ہمارے حکمران اور بڑے بڑے بیورکریٹ تک سب یہی چیزیں استعمال کرتا ہے ۔

ہمارے دوکانوں اور ہوٹلوں میں  کھانے پینے کی اشیاء جیسے بسکٹ ، جوس ، مصالحہ جات، گھی ، کوکنگ آئل ، اچار، کیچپ، چاۓ کی پتی کولڈ ڈرنک، دودھ اور ایسی بے شمار چیزیں بازار میں عام اورکھلےعام بکتے ہیں جو انتہائی ناقص غیر معیاری یا پھر زائد المعیاد ہیں۔

گلگت بازار میں  پینے کا پانی آتا ہے۔اس پانی کے ساتھ ساتھ پھپھوندی بھی آتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کارگاہ نالہ کے ساتھ جو ٹینکی بنا ہے کئی سالوں سے اس کو صاف نہیں کیا ہے اور اس کے لیے کسی راکیٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف وہ ٹینکی صاف کرنا ہے جب تک وہ ٹینکی صاف نہیں کرینگے گلگت کے شہری گندے پانی پیتے رہنگے ہمارا پانی بھی دو نمبر۔۔

ہمارے بازاروں میں غیر معیاری ، زائد المعیاد اور ناقص  دوائی تو ملتی ہی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کی ہمارے اکثر ڈاکٹرز کو بھی اگر دو نمبر کہا جاۓ تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ڈاکٹر ہسپتال میں کم بیٹھتے ہیں. بیٹھتےبھی ہیں تو مریضوں کو سرسری دیکھتے ہیں  اور زیادہ وقت اپنے کلنیک کو ہی دیتے ہیں. یعنی ڈاکٹرز بھی اب کاروبار کررہے ہے ۔ یعنی دوائی کے ساتھ ساتھ ہمارے ڈاکٹرز بھی دو نمبر۔

ہمارے زیادہ تر منتخب نمائندے یا تو ٹھیکدارہیں یا کسی ٹھیکدارکے بھائی ہیں، یا پھر اسمگلر، جبکہ بہت سارے ساٹھ سال سے اوپر کے ہیں، یعنی ریٹائرڈ. اگر ان حضرات کی ترجیحات کا تجزیہ کی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹھیکیدار کو اپنے ٹھکیے کی فکر رہتی ہے اور اسمگلر کو پیسے بنانے کا جنوں. اور جو عمر رسیدہ ہیں وہ بس وقت گزارتے ہیں. ان کے لیے پروٹوکول ہی کافی ہوتا ہے ۔بعض بیوروکریٹ تو ان نمائندوں کی سنتے بھی نہیں ہیں. خود گلگت بلتستان کے گورنر صاحب نے اخبار میں بیان دیا تھا کہ انتظامیہ والے میرا حکم نہیں مانتے ہے. میں کیا کروں!۔ گلگت بلتستان میں پارٹی عہدہ رکھنے والے بعض افراد کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ  وہ اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں اور سینٹرز کو لڑکیاں سپلائی کرتے ہیں. گلگت بلتستان میں جتنے بھی پارٹیاں ہیں. ان میں دیکھا جاۓ تو پڑھے لکھے اور پروفیشنل لوگ آپ کو نہیں ملینگے۔ بلکہ ایسے شخص ملینگے جو جرائم میں ملوث ہیں، یا جن کا معاشرے میں کردار ٹھیک نہیں ہے یا مشکوک ہے اس طرح ہمارے نمائندے اور سیاسی نظام بھی دو نمبر۔۔۔

یہاں مذہب کے نام پہ سیاست کی جاتی ہے اور اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھی مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

ٹمبر مافیا کے معزز ممبران ضلع دیامر سے مسجد ، امام بارگاہ اور جماعت خانوں کے نام پہ لکڑی اسمگل کرتے ہے

ہمارے ملک میں پراجیکٹ زیادہ تر کاغذوں پہ ہوتا ہے  جو بھی پراجیکٹ بنایا جاتا ہے اس میں بڑے بڑے بیوروکریٹس ، اور حکمرانوں کا باقائدہ حصہ رکھا جاتا ہے اور بہت سارا پراجیکٹ ایسے ہیں جو صرف کاغذوں پر وجود رکھتے ہیں. ۔ایک پروجیکٹ اگر ایک ٹھیکدار 20 لاکھ میں لیتا ہے تو وہ یہی ٹھیکہ کسی دوسرے ٹھیکدار کو 18 لاکھ میں فروخت کرتا ہے اور وہ ٹھیکدارکسی چھوٹے ٹھیکدار کو وہ ٹھیکہ 12 سے15 لاکھ میں فروخت کرتا ہے. اندازہ کرو کی 20 لاکھ کا ٹھیکہ اگر 10 یا 12 لاکھ میں تیار ہوتا ہے تو اس میں ناقص مٹیریل استعمال ہوتا ہے جیسے سکندر آباد اور میون کو ملانے والا پل ابھی مکمل تعمیر بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کے کچھ حصف ٹوٹ کے دریا میں گر گیے۔ بہت سارے پروجیکٹ کئی سالوں سے نامکمل ہے ۔ ہمارے ٹھیکےکا نظام ۔ہماری تعمیرات دو نمبر۔۔

آج کے اس جدید اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اگر آپ کا کسی آفس میں کام ہے تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے لیٹر کے ساتھ ساتھ آپ کو خود بھی چلنا ہوگا اور جس جس آفس سے وہ لیٹر گزرے گا ان لوگوں کو آپ نے چاۓ پلانا ہوگا، ان کی مٹھیاں گرم کرنا ہوگا، تب ہی آپ کا کام ہوگا۔ یعنی حکومت ان سرکاری ملازمین کو تنخواہ دیتا ہے اور عوام سے کمیشن بھی لیتے ہے  یعنی ہمارے دفاتر کا نظام بھی دو نمبر۔

یہاں گورنمنٹ کے اداروں میں نوکری میرٹ کی بجائے پیسہ پہ ملتا ہے یعنی باقائدہ بولی لگتا ہے. تو اندازہ کرو  کہ ہمارے اداروں کا کیا ہوگا اس کی ایک شرمناک مثال محکمہ تعلیم میں 183 ٹیچرز پیسے دے کے بھرتی ہوگے تھے ۔جب ان کو نوٹس ملا تو ہمارے منتحب نمائندوں نے ان کو تحفظ فراہم کیا اور اب یہی لوگ ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت کرینگے۔ اس کے علاوں بیشتر اساتذہ اور پروفیسرز مختلف پرائیوٹ کالج اور ٹیوشن سنٹر میں پڑھاتے ہیں. یعنی ہماری تعلیم بھی دو نمبر۔اور سابق سیکرٹری ایجوکیشن نواز نسیم نے  5 اکتوبر 2013 کو گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 گلگت میں انکشاف کیا تھا کہ سکردو کے ایک پرائمری سکول میں 45 ٹیچرز ہے ۔یعنی گورنمنٹ سسٹم میں نوکری ملا تو بس اپنے گھر کے پاس نوکری کرو دوسرے ضلع میں جاو یا نہ جاو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے. سب چلتا ہے۔ نظام تعلیم بھی دو نمبر.

بجلی کا نظام بھی انوکھا ہے بیوروکریٹس ،اور حکمرانوں کے لیے اسپشل لائن ہے یعنی ان کے لیے 24 گھنٹے بجلی ہے باقی عوام کے گھنٹوں گھنٹوں بجلی غائب رہتا ہے۔اور عوام کے اکثریت بجلی کے بل بھی نہیں دیتے ہے میٹر ریڈر جب میٹر چیک کرنے کے لیے جاتا ہے تو لوگوں سے پیسہ لے کر ان کا بل کم کرتا ہے یعنی بجلی کا نظام اوربجلی بھی دو نمبر.

ہمارے سڑکوں پہ اس وقت جو گاڈیاں چل رہی ہیں  وہ مختلف اقسام کے ہے یعنی ان میں این۔سی ۔پی۔ اپلائڈ فار رجسٹریشن ، پی ایس وغیرہ شامل ہے ۔یعنی نان کسٹم پیڈ کے علاوہ چابی چور اور چھینے جانے والی اور چوری کی سینکڑوں گاڈیاں گلگت کی سڑکوں پہ عام چلتی ہیں. اورطرح طرح کے نمبر پیلٹ استعمال کرتے ہیں. بلکہ جس کا جو مرضی نمبر پلیٹ پہ لکھے کو ئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ہمارے منتخب نمائندوں اور بیوروکریٹس اور قانون نافذ کرنے والوں کے پاس بھی این ۔سی ۔پی یعنی دو نمبرز کی گاڈیاں ہیں. گاڑیوں کی رجسٹریشن کا نظام بھی دو نمبر.

گلگت کے بازاروں اور رہائشی علاقوں میں ڈکیتی عام ہوگئی ہے اب اگر کوئی کہے کہ ہمارے ہاں ڈکیتی ہوگئی ہے تو ان کو جواب ملتا ہے دو دن پہلے یا ہفتے پہلے ہمارے ہاں بھی ڈکیتی ہوئی تھی۔اگر ہمارے قانون نافذکرنے والے چاۓ تو ان کو پکڑنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ جگہ جگہ سی،سی۔ٹی وی کیمرے لگے ہے اور مزید کیمرے لگانے کی ضرورت ہے لیکن جو بھی چور یا ڈاکو پکڑا بھی جاۓ تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اس کو مذہب کا رنگ دیا جاتا ہے اور اس کو بچاتے ہے یوں وہ چور ڈاکوبن جاتا ہے ۔یہاں قانون اور انصاف بھی دو نمبر

گلگت بلتستان کو پاکستان کے شہروں سے ملانے والا ایک ہی شاہراہ ہے۔جس کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری ہے اس میں بھی ناقص میٹریل کا استعمال ہوا ہے جس میں دراڈیں پڑگئی ہیں اور جگہ جگہ روڑ بیٹھ گیا ہے۔انہی دراڈوں اور روڑ بیٹھنے کی وجہ سے ایکسڈنٹ بھی ہوتا ہے ۔  یعنی شاہراہ قراقرم جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس میں بھی دو نمبر کا میٹریل استعمال ہوا ہے۔

ہمارے کھانے پینے کی اشیاء ساری دو نمبر ہیں.مارکیٹ کے مارکیٹ دو نمبر اشیا سے بھرے پڑے ہیں. عجیب وغریب برانڈز گلگت بلتستان کے کونے کونے میں خریدے جاتے ہیں، بیچے جاتے ہیں. ۔

دو نمبر کی اشیاء کو اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے چائے تو بہت آسان ہے ۔کیونکہ شاہراہ قراقرم وہ واحد راستہ ہے جو گلگت بلتستان کو پاکستان کے دوسرے شہروں سے ملاتا ہے تو جو بھی اشیاء گلگت بلتستان کو ترسیل ہوتا ہے وہ اسی راستےسے ہوتا ہے. اس کو روکنا کوئی مشکل کام نہیں ہے. لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان ساری دو نمبروں میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افراد بھی کسی نہ کسی سطح پر شامل ہیں.

ہاں، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت بھی اس دو نمبرز کی مارکیٹ میں ایک چیز اصلی ملتی ہے ۔ یہاں گولی اصلی ملتی ہے. گولی، جو کسی بھی پستول یا بندوق سے نکلتی ہے تو لوگوں کی جان لیتی ہے. اے کاش کہ یہ بھی دو نمبر ملتا. کتنا اچھاہوگا کی کسی کو گولی لگ گئی ہو اور ڈاکٹرز کہے کہ اس شخص کو جو گولی لگی ہے وہ دو نمبر ہے اس لیے اس کی جان بچ گئی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔