گلگت بلتستان اور چترال میں گلیشیائی جھیلوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ماہرین

گلگت بلتستان اور چترال میں گلیشیائی جھیلوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ماہرین

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت(صفدر علی صفدر)ماحولیات اور قدرتی آفات پر کام کرنے والے عالمی اداروں نے کوہ ہمالیہ اور ہندوکش کے دامن میں واقع گلگت بلتستان کے مختلف وادیوں میں گلیشرز کے پگھلنے کے باعث وجود میں آنے والی 2420گلیشیائی جھیلوں میں 52کے پھٹنے کے حوالے سے سخت خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان جھیلوں کے پھٹ جانے کے نتیجے میں پھیلی جانے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی سفارش کردی ہے ۔پیر کو گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں اقوام متحدہ کے زیل یو این ڈی پی اور حکومت پاکستان کے تعاون سے بگروٹ ویلی اور چترال کے ایک گاؤں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے نمٹنے اور آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے چلنے والے منصوبے “پاکستان گلاف پراجیکٹ “کے زیر اہتمام صحافیوں کے لئے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے دوران ماہرین نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 5218گلیشرز کے پگلنے سے کل 2420گلیشیائی جھلیں وجود میں آئی ہیں ۔بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث ان میں سے 52جھلیوں کے پھٹ جانے کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں جس سے ان وادیوں میں رہنے والی آبادی کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔گلگت میں گلاف پراجیکٹ کے فیلڈ منیجر سید زائد حسین نے بتایا کہ پھٹ جانے کے حوالے سے خطرے سے دو چار 52جھیلوں کی تعداد اب تو خاص پرانی ہوچکی ہے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں آٹھ گلیشائی جھلیں بھی پھٹ چکی ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو کافی نقصان بھی ہوا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے کے خطرات کو کم کرنے کے لئے جھیلوں سے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کی ضرورت ہے اور مقامی آبادی میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔