میری باری۔۔۔

میری باری۔۔۔

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatایک جگہ حیران وپریشان کھڑا ہوں میرے اردگرد بے چین اور پریشان زندگی ہے۔ایک ہاؤ ہو ہے۔محروم ومقہور ہیں،بے دسست وپا ہیں بے چارے ہیں۔زبردست ہیں پھر زبردست ہیں۔ظالم ہیں۔Activeہیں تعلقات والے ہیںChannalوالے ہیں۔ایک فرش پہ بیٹھا ہر ایک کو تک رہا ہے دوسرا آیاآتے ہی دروازا کو ٹھوکر ماررہا ہے۔اندر گیا ہے کام نکال کے گیا ہے۔اس کے لئے کوئی روکاوٹ کوئی روک ٹوک کوئی دیر اندھیر کوئی پریشانی نہیں۔فرش پر بیٹھے ہوئے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔وہ قانون ،اصول،ترتیب،تمیز،تہذیب،شرافت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔انصاف اسی کانام ہے ان کے باری آنی ہے بس ان کی باری نہیں آتی میں ایک جگہ کھڑے سوچتا ہوں جی چاہتا ہے کہ میں ہر کہیں اپنی باری سے دست بردار ہوجاؤں۔بیمار ہوکے ہسپتال پہنچوں میرے جیسے اور بھی بیمار ہوں وہ اپنی باری کا انتظار کررہے ہوں ڈاکٹر صاحب سب کو چیک کرے کوئی باقی نہ رہے تب میری باری آئے۔میرے اردگرد افسردہ ،منتظر اور پژمردہ چہرے نہ ہوں۔کوئی میری طرف حسرت بھری اکھیوں سے نہ دیکھے۔ان آنکھوں میں لکھا ہوانہ ہوکہ ۔۔۔خوش قسمت ہو تیری باری آئی میں رہ گیا۔۔۔بینک جاکے قطار میں کھڑا رہوں سب کی باری آئے میں اکیلارہ جاؤں منتظر زندگیوں کا مجھ سے شکایت نہ ہو۔۔۔عدالتوں میں مجھے سب سے آخر میں انصاف ملے۔کسی کو یہ شکایت نہ ہوکہ وہ انصاف سے محروم رہا۔۔۔ٹیکسی میں میں سب سے اخیر میں بیٹھوں لیکن ڈرائیور کرایہ سب سے پہلے مجھ سے لے لے، مسجد میں سب سے پہلے میں پہنچوں مگر باہر نکلنے کی باری میری سب سے آخیر میں آئے۔محکمے میں میرے سب ساتھی اپنی تنخواہیں لے چکے ہوں میں سب سے آخیر میں لے لوں۔۔۔کسی محفل میں مجھے جگہ نہ ملے۔مجھے کرسی نہ ملے میں ایک کونے میں خالی فرش پہ بیٹھوں ،چائے کی باری بھی آخیر میں آئے اور مجھ تک پہنچتے پہنچتے چائے ختم ہوجائے۔چائے پلانے والا کہہ دے تم تک پہنچتے پہنچتے چائے ختم ہوگئی۔میری پیالی خالی رہے۔عید کے دن میں اکیلا رہ جاؤں سب نئے کپڑوں کے ساتھ ہوں میرے پرانے ہوں۔۔۔

امدادی سامان تقسیم کرنے والا میرا نام تک بھول جائے اور امدادی سامان ختم ہوں۔ملک میں ہر نئی خبر۔۔۔تبدیلی کی خبر،دھرنوں کی خبر ،قیمتوں میں اضافے یا کمی کی خبر ،جمہوریت کی خبر،عدل وانصاف کی فراوانی کی خبر،سہولیات کی فقدانی اور سہولیات کی فراوانی کی خبر،بارش،سیلاب،خشک سالی کی خبر ،لوڈشیڈنگ ،گیس کی عدم دستیابی،ٹیکسی کرایوں میں بے تحاشا اضافے کی خبر ،اغویٰ ،ڈکیٹی ،دہشت گردی کی خبر ،اچھی خبر ،بُری خبر ،جو بھی خبر ہو سب سے آخیر میں مجھ تک پہنچے۔مجھ تک پہنچتے پہنچتے اس خبر کی اہمیت ختم ہو۔رحمت کی بارشیں سب پہ برسیں اور آخری قطرہ میرے چہرے پہ گرے۔قسمت کی دیوی سب پہ مہربان ہو اور میری باری آئے تو وہ اور کسی کا ہوجائے۔جیبیں سب کی بھری ہوئی ہوں ایک میری جیب خالی ہو۔گھر سب کے ہوں ایک میرا نہ ہو۔میں تنہا مارا مارا پھروں۔۔۔مزہ آئے گا۔میں’’نیلی چھت‘‘والے سے شکایت کروں گا۔۔۔میں محروم کیوں ہوں۔۔۔’’نیلی چھت والا ہنسے گا۔۔تو محروم نہیں ہے تجھے انسانیت کی بہت بڑی دولت مل گئی ہے۔تو دوسروں کے لئے جینا سیکھ گیا ہے میں اس لئے ہنستا ہوں۔تو ایثار کا پیکر ہے خود تیرے پاس کچھ نہیں تو دوسروں کے لئے مانگتا ہے۔تو عظیم ہے میں تجھے اپنی شان کے مطابق عطاکرونگا۔مگرتھوڑی دور پیچھے جاؤ۔صرف 1400سال پیچھے جاؤ۔ان لوگوں نے صرف اپنی باری کا انتظار کیا اپنی باری سے فائدہ اٹھایا۔محمد مصطفےؐخود بھوکے رہے دوسروں کو کھیلاتے رہے۔خلیفہ اول نئے کپڑے خریدنے غلام کو ساتھ لے کے بازار گئے کپڑے خریدے مگر غلام کو عطا کیا فرمایا یہ نوجوانوں پہ سجتے ہیں۔ خلفیہ دوم نے اونٹ پر غلام کو سوار کیا اس کی باری تھی۔تیسرے خلیفہ نے ہزاروں من غلہ کا سودا مجھ سے کیا۔کوفے میں ایک گھر کے سامنے ایک بوڑھا روکھی سوکھی روٹی پانی میں بگھو کر کھارہا تھا مہمان ادھر آیا۔کھانے کا پوچھا بوڑھے نے سامنے گھر کی طرف اشارہ کیا فرمایا وہاں سے کھانا ملے گا۔مہمان گھر میں گیا کھانا لاکر سامنے رکھا گیا۔کہا باہر ایک بوڑھا سوکھی روٹی پانی میں تَر کر کے کھارہا ہے۔تھوڑا سا کھانا اس کو دے اوں۔میزبان ہنسا کہا وہ میرے ابو ہیں۔۔۔حضرت علی مرتضیٰؓ خلیفہ رسول ۔۔۔ان لوگوں نے کھبی باری کی فکر نہیں کی۔۔۔۔تیری باری آخیر میں آئے تو ٹھیک ہے تو دوسروں کے لئے جینا سیکھ گیا ہے۔تیرا یہ احساس سب سے قیمتی ہے تجھے کرسی نہ ملنا،امدادی سامان کا تجھ تک نہ پہنچنا،تجھ تک آتے آتے چائے کا ختم ہونا،قسمت کی دیوی کا روٹھ جانا اور رحمت کی بارش کے آخری قطرے کا تیرے چہرے پہ گرنا تجھے میرے قریب کردیتا ہے۔تو صاحبِ احساس ہے تو ہی محسن کہلاتا ہے اور میں محسنوں کے ساتھ ہوں۔۔۔۔دور سے ایک شرین سی آوازکانوں سے ٹکراتی ہے۔

’’درد دل‘‘ کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاقت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرہ وبیان

میں نے جھٹ سے دل پکڑلیا اور جہان کھڑا تھا وہاں پر بیٹھ گیا۔کیوں کہ ’’درد‘‘بہت شدت سے محسوس ہوا تھا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔