ہماری خوشی کے لمحات

ہماری خوشی کے لمحات

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خوشی ایک فطری عمل ہے۔یہ وقت ‘حالات‘ نفسیات‘ جغرافیہ اور روحانی کیفیات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ خوشی ’ہے‘ اور’ ہونا چاہئے ‘کے درمیان کا ایک لمحہ ہے جس سے انسان خوش رہتا ہے اور چند لمحے بعد خوشی کی کیفیت دکھ بھی ہوسکتی ہے۔ چندنامورشخصیات نے خوشی کو یوں بیان کیا ہے؛”Folks are usually about as happy as they make their minds up to be.” Abraham Lincoln.”Happiness in intelligent people is the rarest thing I know.” Ernest Hemingway. “Happiness is not something readymade. It comes from your own actions.” Dalai Lama XIV. “You can’t be happy unless you\’re unhappy sometimes”.” Lauren Oliver, Delirium۔

Jan Muhammadہرشخص زندگی میں خوش رہنا چاہتا ہے اور وہ اس کی تلاش میں ہرحدتک جانے کوتیاربھی نظر آتاہے لیکن گردش ولیل ونہاراُن کی کاوشوں کو کبھی کامیابی سے ہمکناراور کبھی ناکامیوں کی نذرکردیتی ہیں۔ کچھ لوگ ہمت ہارتے نہیں اور کچھ تھکے ہارے دوسروں کی کامیابیوں پر حسرتیں کرتے اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی دکھ اور خوشیوں سے بھری ایک داستان کا نام ہے۔ کچھ لوگوں کی داستان رنگین ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں۔ حالات جوبھی ہوں خوشی کی جستجوہر ایک کی رہتی ہے۔ ماضی کی خوشیوں کی فہرست موجودہ خوشیوں کی لسٹ سے بلکل الگ نظر آتی ہے۔ گزرے زمانے میں اکثروالدین اپنے بچوں کی گھریلوں کام کاج میں ہاتھ بٹانے سے خوش ہوتے تھے آج تعلیم اوران کی ملازمتوں سے خوش ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں کھیتوں میں کام‘ پہاڑ سے لکڑی‘ مال مویشی‘ چکی پیسنا اور لڑاکو ہونا خو شی کی بات تھی لیکن آج منظر کچھ اور ہے یہی کام کرنے والے کم توجہ حاصل کرپاتے ہیں۔

آج کی عموماََخوشی یہ ہوگی کہ بچہ ایک سال میں ہی سکول جائے اور وہاں صحیح کارکردگی دیکھائے۔ پہلے پہل زیادہ بچے خوشی کی علامت تھے۔ چھوٹی عمر میں شادی کو خوش قسمتی سمجھاجاتاتھا اور جلدزچگی (ابتدائی سالوں میں)سے لوگ خوش ہوتے تھے آج منظر کچھ اور ہے۔ پہلے زمانے میں بچے اپنی کلاس میں پاس ہوجانے سے ماں باپ خوش ہوتے تھے آج فوراََ پوچھتے ہیں کہ ’’خالہ یاہمسایہ ‘‘کے بچے کے کتنے نمبر ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے بچوں سے مقابلے کی سوچ میں ہوتے ہیں۔ گھر میں بہن بھائی بھی ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کی رجحا ن میں نظر آتے ہیں۔ دوست و احباب کی نظریں بھی مقابلے کی حدیں پارکرچکی ہیں۔ مقابلے کا یہ رجحان لوگوں کی خوشیاں چھین چکا ہے۔ ماضی میں لوگ اپنی ملازمت سے خوش ہوتے تھے آج لوگ ہردن اپنی نوکری کا مقابلہ خالہ‘ چچا اور ماموں کے بیٹے کے ساتھ نتھی کرتے ہیں۔ کسی خوشی کے موقع پر تحائف یا کسی اور چیز سے خوش ہوتے تھے آج سوال پوچھتے ہیں کہ فلاں کے تحائف سے یہ کتنے قیمتی ہیں۔ اگر قیمتی ہیں تو ٹھیک ورنہ خوشی کے اثرات بہت کم نظر آنے لگتے ہیں ۔ ہر میدان میں مقابلہ انسانوں کی زندگی کو اجیرن بنا چکا ہے۔ کمائی اور روزگار کو لوگ آج اپنی حدود سے نکل کر دوسروں کی عینک سے دیکھنے لگے ہیں۔ اس دوڑ میں افراد سے لیکر بڑے بڑے ممالک بھی شامل ہوچکے ہیں۔ آج کل تو مذہب والے بھی مذہبی رسومات اور عبادات محض اس لئے کرنے لگے ہیں کہ ’’وہ‘‘ بھی کرتے ہیں۔ مذہبی خوشیاں ’’خوشی‘‘ کم دیکھاوا زیادہ نظر آتی ہیں۔ اجتماعات میں دکھاوا اور مقابلہ ہونے لگا ہے کبھی یہ چیزیں روحانی سکون اور سکھ کے لئے ہوتی تھی آج ان میں شرکت صرف اس لئے ہوتی ہے ’’وہ‘‘ یا ’’خالہ‘‘ کا بیٹایا بیٹی بھی اُس میں شامل ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفیل میں دکھاوے کی عبادت کو پسند نہیں فرماکر اُسے دھوکہ قرار دیا ہے۔ میڈیا شو اور اخبار کی خبر بنانے کی دوڑ نے لوگوں سے ان کی سماجی خوشی بھی چھین لی ہے۔ آج ہمارے لیڈر بھی محض اپنی تقریر لکھ کے اس لئے کرتے ہیں تاکہ اگلے دن اخبار میں ’’خبر‘‘ لگے اور میڈیا پر چرچے ہو۔ میڈیا ٹاک شوز میں لوگ دکھاوے اور سیاق وسباق سے دور نظر آتے ہیں جبکہ وہ اپنے اصل میں تو کچھ اور ہوتے ہیں۔ دکھاوے کی یہ خوشیاں انسان کی اصل کو نقصان پہنچا چکی ہیں۔ ذاتی گھر‘ کار‘ موبائل‘ لیب ٹاپ‘ پوشاک اور ضرورت کی چیزیں تب اچھی ہوتی ہیں جب وہ دوسروں سے بہتر ہونگے بصورت دیگر ان کے ’’ہونے‘‘ کی کوئی خوشی نہیں۔ زندگی کے اور بہت پہلو بدل چکے ہیں۔ آج پاکستان میں اگر بجلی‘ پانی‘ گیس آٹا‘ تنخوا وغیرہ آئے تو لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح پانی‘ تیل کی قیمتیں‘ گیس‘ یوٹلیٹی سٹور پر چند روپے کم دینا ہماری خوشی بن چکی ہیں۔ ماضی میں مہمان کو خوشی کی علامت سمجھاجاتا تھا آج مہمان کی آمد مصیبت سے کم نہیں۔ کسی کی خوشی میں شرکت کے لئے لوگ انتظار میں ہوتے تھے آج موبائل ’آف‘ رکھتے ہیں۔ ہم گزشتہ چند سالوں میں ترقی کم ترقی کی نقل بہت کرچکے ہیں۔ یورپ صدیوں بعد جس مقام پر ہے ہم کچھ کئے بغیر ہی اُسی مقام کا ’’حقدار‘‘ ٹھیرے ہیں۔ہماری نئی نسل کھیت میں جائے بغیر ’میعاری‘روٹی مانگتی ہے۔ ہم نے دوسری دنیا کے لوگوں کی محنت اورجستجو کی نقل کم جبکہ اُن کی معیار زندگی کو اپنا میعار ٹھیرایا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بہت محنتی اورشریف تھے آج ہم نے اپنی اس شناخت کو ترک کردی ہے۔ ہماری خوشی کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ ہم اپنی ماضی سے بہت بہتر بن چکے ہیں۔ ہماری زندگی میں انقلاب آیا ہے۔ ہمارے بچے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکے ہیں۔ کوئی یونیورسٹی ہماری موجودگی سے خالی نہیں۔ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ہر میدان میں قدم جماچکے ہیں۔ گلگت بلتستان ایک طرف سادگی اور امن کا گہوارہ ہے دوسری طرف چند خامیاں بھی پیدا ہوچکی ہیں۔ ان حالات میں ہمارے والدین اپنی زندگی اور اگلی نسل کی زندگی کا تقابلی جائزہ بھی لینے لگے ہیں۔ کچھ والدین محو حیرت ہیں‘ کچھ خوش اور کچھ ناخوش نظر آتے ہیں۔ خوشی کے اس رجحان میں کوئی حتمی رائے نہیں۔

ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی‘ یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے زمانے کے حالات کا شکر کریں مقابلہ اس حدتک کریں کہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچے بلکہ وہ بھی آپ کی طرح زندگی کا لطف اُٹھائے۔ دوسروں کی ٹانگیں کھینچ کر اپنی جیت پر خوش ہونا کم ضرفی میں شامل ہے۔ دین اسلام کے تعلیمات میں خوشی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان روحانی مسرت اور سکون محسوس کرتا ہے۔ یہ ایک روحانی کیفیت ہے جو نیک اعمال کی روشنی میں رونماہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کے صلے میں جنت کی خوشی اور جزا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ کسی کی خوشی کا سبب بننایا کسی کی خوشی مین شرکت کرنا دین اسلام کی تعلیمات میں نیک اعمال میں شامل ہیں۔شیخ سعدی کہتے ہیں کہ ’کسی کو اچھے عمل سے دلی خوشی دیناہزارسجدے کرنے سے بہتر ہے‘۔ سیدقطب فرماتے ہیں؛میں اپنی زندگی کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ خوشی کی انتہا تب ممکن ہے جب ہم دوسروں کی خوشی کا سبب بنے‘‘۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ’’ خوش باش لوگ وہ ہیں جو اللہ کی محبت میں بہت مضبوط ہیں‘‘۔آج دنیا میں خوشی کا حصول ممکن نہیں تو اس کے راستے میں بھوک‘ پیاس‘ غربت‘ جہالت‘ بیماریاں‘ بے روزگاری‘ اچھے رویوں کی کمی‘ بے رحم سماج‘ بے ذوق لوگ‘ نااہل حکومت‘ وسائل کی کمی اور بے شمار جزوی مسائل درپیش ہیں۔ وسائل والے لوگ بھی دور جدید میں خوشی کی نعمت سے دور ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے؛

گمنام زندگی تھی تو کتنا سکون تھا
شہرت ملی تو نیند بھی اپنی نہیں رہی

اللہ تعالی ہم سب کو خوشی کے لمحات نصیب کریں اور ان میں دوسروں کو بھی شریک کرنے کی توفیق دیں ۔خوشی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے کبھی اس بارے میں سوچاہے؟ ہم اپنی خوشی کی خاطر کتنے لوگوں کی خوشیاں چھین لیتے ہیں۔بقول شاعر

غم مجھے دیتے ہو اروں کی خوشی کے واسطے
کیوں برُے بنتے ہوتم ناحق کسی کے واسطے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔