کاش وزیراعلیٰ و گورنر مقبول عام ہوجاتے …

کاش وزیراعلیٰ و گورنر مقبول عام ہوجاتے …

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیراعلیٰ اور گورنر مقبول عام اور مملکت پاکستان کے وفادار ہوئے تو عوام کا سامنا کرینگے اور حکمت عملی کے ذریعے عوام کی صلاحیتوں اور جذبوں کو منفی سے نکال کر افرادی قوت اور قدرتی وسائل سے استفادہ کے لئے متحرک کرنے کی صورت میں یہاں کے لوگ ماضی کی طرح اناج، سبزی، پھل، انڈے، گوشت، مصالحہ جات، دودھ، انچار، جام اور جوس کے خودکفیل ہوسکتے ہیں۔ نتیجے میں خودساختہ مہنگائی اور بے روزگاری پر باآسانی قابو پایاجاسکتا ہے یہاں کے لوگ فطری صلح جو امن پسند اور محبت کش ہیں تب تو ماضی میں اناج، پھل سبزی، دودھ وغیرہ کے خودکفیل تھے۔ خود محنت کرکے دیسی خوراک کھانے کے ناطے اوسط عمریں سوسال ہوتی تھی۔

1976ء میں قائد گلگت جوہر علی خان نے حق حکمرانی کا مطالبہ کیاشاہی گرونڈ میں عوام سے قرارداد لی تو مقامی بیوروکریسی اور پالتو ایجنٹوں کے ذریعے محدود پیمانے پر لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا تھی کہ 1989میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس کے اثرات روکنے کے لئے گلگت میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے اور فرقوں کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے منافقت، جہالت اور بزدلی کاسبق دلاکر ان کے جذبوں اور صلاحیتوں کومنفی سرگرمیوں میں ضائع کراتے رہے مذاہب کے نام پر بے فیض اور بے روح رویات میں مصروف کیاگیا گویا روحانی اورجسمانی خوراک بمثل بازی کھلانے کے باعث روحانی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا رہے۔اوسط عمریں 60سال تک گرگئی حق پرست تنظیموں کی دباؤ سے پیپلزپارٹی نے پیکیج دیاتو سیاسی حضرات پیکیج میں پیک ہوئے لیکن مچور نہ ہونے کے باعث عوام کوپیکیج دیکر پیک نہ کرسکے۔ مختصر پانچ سال تک سیاسی عمل چلا اور عوامی ایکشن کمیٹی بنی عوام کو شعور دیاہے اب نگران وزیراعلیٰ اور گورنر عوام کے ہمدرد نیک نیت قسم کے نصیب ہوئے تو وہ عوامی جلسہ بلاکر زیل کی تکنیکی پیکیج دیکر عوام کو پیک کرسکتے ہیں اور یہ سمجھاسکتے ہیں کہ کب تک گندم دودھ انڈا، سبزی، نسوار، گوشت کے لئے لوگوں پر بوجھ بنیں دنیا کادستور ہے جوچیزیں خودپیدا نہیں کرسکتے دیگر علاقوں اور ملکوں سے لاکر ضرورت پوری کرنا چاہئے۔ جو چیزیں محنت کرکے خود پیدا کئے جاسکتے ہیں کام چوری اور لاپرواہی سے لوگوں پر بوجھ بننا خود ساختہ مہنگائی اور بے روزگاری میں مبتلا ہوجاناخودی کے خلاف ہے۔ آئیں ہم اپنی صلاحیتوں اور جذبوں کو پیداوار بڑھاؤ میں لگائیں ایک سرسری انداز کے مطابق روزانہ دس لاکھ کادودھ، پندرہ لاکھ کا گندم، دس لاکھ کا گوشت، دس لاکھ کے انڈے، پانچ لاکھ کی سبزی، دس لاکھ کا چرس اور سالانہ ایک کروڑ کا جام، جوس،انچار کے لئے پنجاب سرحد کے بھائیوں پر بوجھ بنے ہیں۔ اگرہم اپنی صلاحیتوں اورجذبوں کو پیداوار بڑھانے کے لئے منظم اور متحرک کریں تو باآسانی خودکفیل بن سکتے ہیں۔ ماضی میں لایوسٹاک، فرشیرز اور زراعت کے محکمے میں اس طرح کے ماہرین نہیں تھے.

ابھی ہمارے ماہرین نے ترقیاتی ممالک چینا، جاپان وغیرہ میں جاکر تربیت لے چکے ہیں۔ اس ضمن میں میں نے بطور دماغ کازکواۃ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کے لئے تکنیکی پیکیج مرتب کرکے علماء دانشور اور حکام سے تائید بھی لیاہے جو کہ بالکل کم خرچ بالانشین ہے۔ علمدرآمد کی صورت میں حکومت کو سالانہ دو ارب اور عوام کو دس ارب کافائدہ ہوسکتاہے جو کہ ذیل ہے۔ہراحاطے میں لائیوسٹاک کے ذریعے جرسی بیل اور فرانسیسی بیڑو کااہتمام کراتے نتیجے میں محکمہ کو کراس کاپیسہ ہوتا اور عوام کو دس سیر دودھ دینے والی گائے اور دو سیر دودھ دینے والی بیڑو پیداہوجاتے۔تمام سرکاری پارکوں کی فضا پر انگورنظرآتی سرکار کو کروڑوں کازرمبادلہ ملتاجس کے لئے سرکاری مالیوں سے کام لیناہے ماحول اوراوزون کو بچانے کے عوض گلگت بلتستان کی حکومت کو عالمی تنظیمیں اربوں کافنڈ دے دیتے۔ محکمہ زراعت کے پاس زمین اور عملہ موجود ہیں ہرضلع میں پانچ لاکھ بیج اور قلم لگاتے جو کہ سرکار کو صرف پانچ روپے میں پودے تیارہوتے عوام کو 60 روپے میں فروخت کرنے سے اربوں کامحکمہ کو فائدہ ہوتا اور عوام کو60 روپے کاپودہ دس ہزار کا بن جاتا۔ محکمہ لائیوسٹاک کے پاس عملہ اور مشین موجود ہیں سالانہ دولاکھ انڈوں سے چوزے تیارکرکے عوام کو پچاس روپے فی چوزہ دیتے تو چالیس روپے سرکار کو بچت ہوجاتا اور عوام کو چارسو کی مرغی بن جاتا۔ محکمہ فشریز سالانہ پانچ ہزار من مچھلی کاپیداوار دے سکتی ہے جو کہ بطور کوٹہ ہرگاؤں کے لوگوں کو دوسو روپیہ فی کلوپہنچانے کی صورت میں سرکار کواربوں کافائدہ اور عوام کو سالانہ ایک دفعہ مچھلی کاگوشت نصیب ہوتا جو کہ بیماریوں کاتدارک کاباعث بن جاتا۔ حراموش بونجی اور دیامرکے بہت سے علاقے گرم ہیں تین فصلی کارواج دیکر ٹھنڈے علاقوں کے لئے تازہ سبزیاں نصیب ہوجاتے۔ مانسہرہ اور پنجاب کی سبزی گلگت بلتستان پہنچانے تک اولاًمرجھاتی ہے اور مہنگی ہوتی ہے ٹرک میں گلگت بلتستان پہنچانے تک بیرل تیل جل جاتاہے ماحول آلودہ اور اوزون کونقصان پہنچ جاتاہے۔ کم خرچہ پر گرین ہاؤس کارواج دیکر موسم سرما میں بھی تازہ مرچ اور دیگر سبزیاں اپنے صحن میں اگانے کارواج دے سکتے ہیں۔

ہراموش، چلاس، بونجی اور نوپورہ بسین میں لاکھوں انجیرکے درخت موجود ہیں پیوند کاری کراتے جو کہ سکھاکر کروڑوں کازرمبادلہ حاصل ہوتا۔ جس کے پاس صرف مکان ہے چھت میں بذریعہ کیاری نماگملہ کے ذریعے ٹماٹر خربوزہ، کھیرا، مرچ کارواج دیتے۔ بنجرزمینوں کو آبادکرانے کے لئے جدید طریقے متعارف کراکے اناج کے لحاظ سے خودکفیل ہونے کے لئے جدوجہد کرتے۔ استور اور دیگر علاقوں کی فضا، گولڈن سیب اور ناشپاتی کے لئے انتہائی موزوں ہیں وہاں بے پھل بید لگائے ہیں بید کی جگہ گولڈن سیب لگانے کارواج دے۔ بید کے پتوں میں وٹامن نہیں ہوتا سیب کے پتوں سے دودھ بھی اضافہ اورٹرکوں کے حساب سے گولڈن سیب کا زرمبادلہ ہوتا۔ ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں روزانہ دس لاکھ کے منشیات استعمال کئے جاتے ہیں نوجوان نسل کو ذہنی وجسمانی مشقت نہ ملنے کے باعث چرس اور دیگر منشیات کاسہارا لیتے ہیں عوامی جلسہ بلا کر منشیات کے منفی اثرات اور احساس زیاں اجاگر کرتے منشیات فروشوں کو متبادل کاروبار دیتے اس وقت منشیات کے عادی نوجوانوں کے والدین پریشان ہیں وزیراعلیٰ پریشانی دورکرنے کے باعث ہوتے۔ تجارتی نظام کو ہراحاطے میں ڈیلرشپ کی حکمت عملی دیکر خود ساختہ مہنگائی اور بے روزگاری پرقابوپاتے۔ ہرگھر میں دس سیر دودھ دینے والی گائے کم ازکم بارہ مرغی اور چھت اور گلی میں انگور، گملوں میں پھولوں کے بجائے جدید پھول نما سبزیاں کاشت کی رواج دینے کی صورت میں خودساختہ بے روزگاری اورمہنگائی پرقابوہونے کے ساتھ حلال ذریعے سے گزارہ ہونے کی صورت میں کرپشن کابھی تدارک ہوسکتاہے۔ عوام سے امن کی ضمانت لینے کی صورت میں قیام امن کے حوالے سے فورس پر ہونے والے اخراجات عوام کی ترقی کے لئے بچت ہونگے۔ گناہ بے گناہ قیدوبند بیٹوں کو بھی راضی نامے اور(این آر او) کے ذریعے چھڑاکر پیداوار بڑھاؤ کے لئے کام لے سکتے ہیں۔امن کی صورت میں چار ہزار پولیس فورس، سونی کوٹ ،خومر کے عوام اور میونسپل کی افرادی قوت سے دادی جواری کے بنائے ہوئے کوہلوں کی صفائی کراتے۔ اس وقت پانی دریا برد ہوتاہے سونی کوٹ کے لوگ پانی کے لئے ترستے ہیں۔ زرعی زمین بنجر ہوتی جارہی ہے دریا سے لفٹ لگائے جاتے ہیں بجلی کے بحران کے باعث بنے ہیں۔ ایک دفعہ کوہلوں کی بل صفائی کے بعدمیونسپل کو چارٹریکٹر اور ٹنکی کے ذریعے ہسپتال اور دیگرکوہلوں کے متصل گھروں کی سیفٹی ٹنکوں سے ملوہ بسین، دنیور اور سکوار میں پہنچاکر کھاد کی صورت دیکر زمیندار فی ٹریکٹر ایک ہزارروپے فروخت کرنے کی صورت میں اناج میں اضافہ ہوسکتاہے۔ گلگت بلتستان کی حکومت پاکستان کے چارصوبوں اور آزادکشمیر کے لئے قابل تقلید بن جائے جو کہ بالکل آسان ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔