تنقید برائے تنقید

تنقید برائے تنقید

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

علاقائی سطح سے لے کر ملکی سطح تک تمام معاشرہ ایک عجیب ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اس کے اثرات ناکامی،محرومی اور پستی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے جدید دور میں آج ہم ترقی یافتہ زندگی کی سہولتوں سے مستفید ہونے کے باوجود ذہنی طور پر بلوغت سے دور نظر آتے ہیں ہر آدمی دوسرے آدمی کی ہر اچھی منصوبہ بندی ، ہر اچھا خیال اور نظریہ کی تنقید کررہا ہوتا ہے ۔ ہر لیڈر دوسرے لیڈر کی تنقید ، اسکے اقدامات پر تنقید ،اسکے خیالات پر تنقید گویا ہر جگہ اور ہر وقت ہر پیشہ کے لوگوں کے آپس میں ہوتا رہتا ہے۔کوئی بھی قدم یا منصوبہ بندی میں چاہے آپ کے مخالف نے ہی بنایا ہو، اس کے مثبت پہلوکو کھبی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پر فیکشن خدا کے ذات کے علاوہ کسی میں بھی نہیں۔ انسانی اقدامات میں غلطیاں ہو سکتی ہے ایسا بھی ممکن نہیں کہ کوئی بھی پلان یا ایجاد سرے سے ہی غلط یا معاشرے کے لیے نقصاندہ ہو۔ ان جیسے اقدامات یا ایجادات کو موثر اور معاشرے کے لیے فائدہ مند بنانے کے لیے ان کی مدد کرنی پڑتی ہے ۔

تحریر : حسن میر

تحریر : حسن میر

یہ تنقید اکثردوسرے کے وقار، بڑھتی ہوئی شہرت کو نقصان پہنچانے اور اس کو گرانے کے نیت سے ہوتا ہے۔مختصرََ اہم اس کی وجہ حسد کہہ سکتے ہیں علاقے کے سیاسی یا سماجی رہنما خودیا سرکاری یا کسی این جی او کی مددسے کسی نئے اسکیم یا پراجیکٹ لے کر آتے ہیں مگر اکثر اوقات انکے مخالفین انکو نقصان پہنچانے کے لیے تنقید برائے تنقید کی وجہ سے پورا معاشرہ اس پراجیکٹ سے جو اس معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا تھا اس سے علاقائی و سماجی ترقی میں اضافہ ممکن تھا ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں،۔علاقائی اور معاشرتی معاملات میں ذاتی فائدہ یا نقصان کی نسبت قومی اور علاقائی مفاد کو مد نظر رکھناچاہیے ایک اچھے لیڈر کی خوبی بھی یہی ہے کہ وہ ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیں چا ہے وہ لیڈر صاحب اقتدار ہو یا حزب اختلاف۔۔ تنقید برائے تنقید سے کامیابی نہیں ملتی تنقید برائے اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارا رجحان ایسا بنا ہوا ہے کہ ہمیں ہر اقدام کا منفی پہلو جلدی نظر آتا ہے ۔ یہاں مجھے ایک مفکر کا اس پہلو کو سمجھانے کا طریقہ یاد آرہا ہے جب اس نے ایک سفید کاغذ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے اسٹوڈنٹس سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کیا نظر آ رہا ہے تو جواب ملا ۔ سفید کاغذ ۔ مفکر نے پن سے کاغذ پر نشان لگا یااور سوال دھرایا تو جواب ملا ایک سیا ہی کا دھبہ ۔ تو مفکر کہنے لگے بد بختو اتنابڑاکاغذ نظر نہیں آ رہا صرف سیاہی کا دھبہ ہی کیوں۔ ہمارا بھی یہی رجحان ہے کہ کسی اقدام کے مثبت پہلووٗ ں کو نظر انداز کر ایک منفی پہلو کی وجہ سے تنقید کر کے ناکام بنا دیتے ہیں اور فائدہ حاصل نہیں کر سکتے ، بعض اوقات کچھ اقدامات میں اگر ہم کسی سے رہنمائی بھی لیتے ہیں ۔ اور اس قدم یا منصوبے میں اگر ناکام ہوجاتے ہیں تو اس کام کے بگڑنے کا اصل سبب جانے بغیر اپنی غلطی دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں اگر ایسا بھی ممکن نہ رہا تو یہ کہہ کر جان چھڑالیتے ہیں کہ قسمت میں ایساہی لکھا تھا سووہ ہو گیا۔ ایسی فرسودہ روایات اور رویوں کی حوصلہ شکنی نہ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم سائنسی اور جدید ٹیکنالوجی اور مغربی ممالک پر سخت تنقید کرتے ہیں جیسے بچے پڑھنے کے بجائے سارا دن ویلنگ جیسی خطرناک سرگرمیوں میں ملوث ہویا ساری رات نائٹ پیکیجز پر دوستوں سے گپ شپ کر کے وقت ضائع کرتا ہو، تو قصوروار اپنی ادھوری شخصیت جس کی وجہ سے اسکی تربیت میں کمی رہ گئی اس کو نہیں دیکھتیں بلکہ سارا ملبہ مغربی ماحول پر تنقید کر کے نکالتے ہیں بیشتر اس کے کہ ہم یہ سوچھیں کہ خامی ہم ھی میں موجود ہیاورقصوروار ہم مغربی تہذیب و تمدن کو ٹھہراتے ہیں کہ انٹرنٹ اور موبائل نے بچے بگاڈ کر رکھ دےءں۔ بے شک یہ ایجادات مغرب کی مرہون منت ہیں مگر مغرب والے آکر تو نہیں سکھائے گے کہ اس کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں استعمال نہ کریں ۔ یہ تو آپ کے اپنے بس میں ہے کہ آپ ان سہولتوں کا مثبت یا منفی انداز میں استعمال کرتے ہوں ۔اسکے علاوہ بھی کھانے انگریزوں کے کھاتے ہیں جییز ٹی شرٹس پہنتے ہیں انہی کا میوزک سنتے ہیں اور فلمیں دیکھتے ہیں اس کے باوجود اُن پر تنقید کرنے سے نہیں رکتے ، کسی کو اگر مغرب یا مغربی ماحول یا کوئی اور چیز پسند نہیں تو اسے چاہیے کہ اس کو نہ اپنائے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں چھپی کمی اور کوتاہیوں کا احتساب کرے دوسروں پر خواہ مخواہ

تنقید کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بہتر بنائے اور اپنی روایات کا احترام کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ رویوں کو اپنائیں ۔ دوسروں پر تنقید کرنا دراصل حقیقت سے منہ موڈنا اور خود ٖفریبی کے مترادف ہے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے یہ تبھی ممکن ہے جب ہر شخص اپنااحتساب خود کرے، ورنہ ہم غلط روایات کو خود پر اس حد تک حاوی کر لیں گے کہ سسٹم کے ساتھ خودبھی مفلوج ہو کر معذوروں جیسی زندگی گزاریں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔