مکتوبِ چترال: پرائمری اساتذہ کے مسائل

مکتوبِ چترال: پرائمری اساتذہ کے مسائل

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بشیر حسین آزاد

APTA Halaf Baldari

آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (APTA)چترال کے نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری کامرس کالج چترال کے ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت اپٹا خیبر پختونخواہ کے صوبائی صدر ملک خالد خان نے کی جبکہ مہمان خصوصی سابق صوبائی وزیر وممبر صوبائی اسمبلی سلیم خان تھے۔حلف برداری کی تقریب میں الف اعلان کے کوارڈینیٹر عمر اورکزئی بھی موجود تھے۔اساتذہ کی بڑی تعداد اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ایم ۔پی۔اے سلیم خان نے اپٹا چترال کے نومنتخب ضلعی وتحصیل سطح پر صدور اور ممبران سے حلف لیا۔حلف برداری کے بعد نو منتخب ضلعی صدر محمد اشرف نے اس تقریب میں شرکت کرنے کیلئے چترال آنے پر صوبائی صدر ملک خالد خان اورا لف اعلان کے کوارڈینیٹر عمر اورکزئی اور دیگر مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پرائمری سکولوں کے اساتذہ انتہائی مسائل کے باوجود چترال کے اُن علاقوں میں جہاں فوج کا سپاہی بھی ڈیوٹی ادا نہیں کرسکتا انتہائی جانفشانی سے اپنی فرائض منصبی نبھاہ رہے ہیں۔اور ملک وقوم کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کررہے ہیں۔اشرف خان نے کہا کہ پرائمری سکولوں کی کارکردگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کمروں اور اساتذہ کی کمی ہے۔اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی معیار کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ پرائمری سکولوں میں ہرکلاس کے لئے ایک علیحدہ کمرہ اور اُستاد مقرر کیاجائے تاکہ بنیادی سطح پر تعلیمی عمل کو مضبوط بنایا جاسکے۔نو منتخب صدر نے پرائمری سکولوں میں گریڈ 14,15اور12کی بنیاد پر تفریق کو مسترد کیا اور کہا کہ اس تفریق کی وجہ سے اساتذہ کو دور دراز علاقوں میں تبادلہ کیاگیا ہے جس کی وجہ سے سکولوں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔اُنہوں نے صوبائی حکومت سے اس تفریق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔نومنتخب ضلعی صدر نےIMUکے مردانہ مانیٹرز کو زنانہ سکولوں میں اور زنانہ مانیٹرز کو مردانہ سکولوں کے دورے کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ چترال کے مخصوص معاشرتی اور سماجی تناظر میں مردانہ اور زنانہ سکولوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مانیٹرز مقرر کئے جائیں۔تقریب سے الف اعلان کے کوارڈینیٹر عمر اورکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013کے سروے کے مطابق چترال ملک کے146اضلاع میں گیارھویں نمبر اور کے پی کے کے25اضلاع میں دوسرے نمبر پر تھا لیکن الف اعلان کے 2014کے سروے کے مطابق اب ملک بھر میں47ویں اور صوبے میں چھٹے نمبر پر ہے۔اُنہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس وقت ضلع چترال کے شہری علاقوں کے10فیصد بچیاں اور دیہاتی علاقوں کے27فیصد بچیاں سکولوں سے باہر ہیں جو کہ باعث تشویش ہے۔عمر اورکزئی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دیہاتی علاقوں کے20%اور شہری علاقوں کے43%بچیوں نے کبھی بھی سکولوں کی شکل نہیں دیکھی ہے۔الف اعلان کے کوارڈینیٹر نے مزید کہا کہ ضلع چترال میں ہر34بچوں اور بچیوں کے لئے ایک ٹیچر30فیصد پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچرموجود ہے۔حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ایم پی اے سلیم خان نے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب کابینہ ممبران کو مبارکباد دی اور اپٹا کے صوبائی صدر ملک خالد خان اور الف اعلان کے ٹیم کو چترال آمد پر شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ حالیہ مراعات اور ترقیوں کے نتیجے میں اُن کی زمہ داریوں میں اضافہ ہو اہے اسلئے وہ فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے ایمانداری اور اخلاص کا مظاہرہ کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ برادری میں چند عناصر کی وجہ سے صوبائی حکومت کو IMUبنانے کی ضرورت پیش آئی جس کی وجہ سے اساتذہ برادری نالاں ہے۔سلیم خان نے کہا کہ اُن کی دور حکومت میں اساتذہ برادری کو بڑے مراعات ملے جس کی وجہ سے آج پرائمری سکولوں کے اساتذہ 15اور14سکیل پر کام کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ میں نے اساتذہ کے حق میں ہمیشہ اسمبلی میں آوازاُٹھایا ہے۔اور آئندہ بھی اُٹھاتے رہنگے۔مہمان خصوصی نے تقریب میں موجود تمام اساتذہ کو یقین دلایا کہ ضلع چترال کے مخصوص جغرافیائی حالات کے تناظر میں اساتذہ کی ترقی وتبادلوں کے حوالے سے پالیسی میں نرمی لانے کے حوالے سے وہ ہر فورم پر آواز اُٹھائینگے۔اور ضلع چترال کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق فائر ووڈ الاونس میں اضافہ کے لئے بھی کوشش کرینگے۔تقریب سے صدر محفل اپٹا کے صوبائی صدر ملک خالد خان نے اساتذہ کو پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عنقریب پرائمری سکول اساتذہ تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر اپنے ہی سکولوں میں گریڈ 16پر مقررہوں گے اور وہ اساتذہ برادری کی خدمت میں دن رات صرف کریں گے۔اُنہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ مراعات یافتہ طبقہ بننے کے بعد عوامی نظروں میں سرکاری اداروں کا امیج بہتر بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔۔انہوں نے چترال آمد کے موقع پر پرتپاک خیر مقدم کرنے پرچترالی اساتذہ کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بالخصوص چترال کے اساتذہ کی ہر فورم پر خدمت کریں گے۔آخر میں ایک قرارداد کے ذریعے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرزنانہ کی طرف سے حالیہ تبادلوں کو مسترد کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ان تبادلوں کو منسوخ کریں ۔تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔