جنسی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کی اشکال اور غیر موثر قانون ساز

جنسی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کی اشکال اور غیر موثر قانون ساز

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ریاض جاذب

لفظ” تشدد”سے مراد جنس کی بنیاد پرروا رکھا جانے والا ایسا جبر ہے جوعمل میں لایا جائے یا جسے عمل میں لائے جانے کی دھمکی دی جائے جو عورتوں کے لیے کسی جسمانی ، جنسی ، نفسیاتی ایذا یا مصیبت یا تکلیف کا سبب بنے یا ممکنہ طور پر سبب بن سکتا ہو۔ اس کے علاوہ کسی کی نجی یا عوامی زندگی میں کی جانے والی زبردستی یا کسی پنچائت کے ذریعے کسی کو اس کی آزادی سے محروم کرنا۔

اقوام متحدہ کے “عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے اعلامیہ” کے مطابق جنس کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے تشدد کی مستند تعریف مندرجہ بالاتشریح کو ہی وضع کرتی ہے۔ اس تعریف کے مطابق ،”جنس کی بنیاد پر کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ روا رکھے جانے والے بہت سے نقصان دہ روئیے شامل ہیں۔ جیسا کہ، بیوی پر جبر، جنسی حملہ ، جہیز کی بنیاد پر قتل، ازدواجی زنابالجبر اور قصداً لڑکیوں کی ناقص پرورش، جبری عصمت فروشی، عورتوں کے نازک اعضاء کا کاٹنا اور نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد، جبری اسقاط حمل، مانع حمل اشیاء کا جبری استعمال، شیرخوار بچیوں کا قتل اور پسندیدہ صنف نہ ہونے پر حمل کا اسقاط جیسے افعال بھی عورتوں پر تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔

جنس کی بنیاد پر تشدد
جنس کی بنیاد پر کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ روا رکھے جانے والے بہت سے نقصان دے روئیے شامل ہیں۔ جیسا کہ، بیوی پر جبر، جنسی حملہ ، جہیز کی بنیاد پر قتل، ازدواجی زنابالجبر اورلڑکیوں کی قصداً ناقص پرورش، جبری عصمت فروشی، عورتوں کے نازک اعضاء کا کاٹنا اور نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد۔ جنس کی بنیاد پر تشدد کا صحت کے سنگین مسائل سے گہرا تعلق ہے جو عورتوں اوبچوں کومتاثر کر رہا ہے۔ جن میں چوٹ لگنا ، زچگی کے عمل میں بے ترتیبی ، ذہنی صحت کا انتشار، حمل کے ناموافق نتائج اور جنسی عمل کے ذریعے منتقل ہونے والے انفکشن شامل ہیں۔ تشدد عورت کی صحت کو براہٗ راست متاثر کر سکتا ہے اور مستقبل میں عورت کی خرابئی صحت کا باعث بن سکتا ہے۔

گھریلو تشدد
خاندان کے اندر، ازدواجی تعلقات میں اور دیگر قریبی رشتوں میں گھریلو زیادتی کو پرانی اور سنگین بد سلوکی کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
جس میں جذباتی طور پر ناروا رویہ رکھنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ نفسیاتی بد سلوکی ہمیشہ جسمانی استحصا ل کا باعث نہیں ہوتی تا ہم گھریلو رشتوں میں جسمانی بد سلوکی تقریباً ہمیشہ ہی ذہنی یا نفسیاتی استحصال کا باعث بھی بنتی ہے۔

نفسیاتی تشدد
دانستہ طاقت کا استعمال کرنا جس میں کسی فرد یا گروپ کو جسمانی طاقت کا استعمال کرنے [مار پیٹ] کی دھمکی دی جائے جس سے کسی خاندان
کی گھریلو زندگی ، ذریعہ معاش متاثر ہونے ، جسمانی ، ذہنی ، روحانی، اخلاقی یا معاشرتی ارتقامتاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ چاہے [طاقت کا یہ استعمال] بدکلامی کر کے کیا جائے، غنڈہ گردی ، بلوے سے یا ڈرا دھمکا کر یا دباؤ ڈال کر خوف ذدہ کر کے یا دھمکی دے کر کیا جائے۔ نفسیاتی/جذباتی تشدد میں متاثرہ شخص کو عملی طور پر ایذا ء پہنچانا یا ایذاء پہنچانے کی دھمکی دینا یا دباؤ ڈالنے کے مختلف حربوں کا استعمال کرنا شامل ہے۔
نفسیاتی/جذباتی تشدد میں مندرجہ ذیل عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں تاہم یہ تشدد انہی عوامل تک ہی محدود نہیں۔
متاثرہ شخص کو ذلیل کرنا، اسے (اپنے تابع رکھ کر)اپنی مرضی سے کچھ کرنے یا نہ کرنے کے حق سے محروم رکھنا، اس تک معلومات کی فراہمی کو روک لینا، قصداً ایسا کام کرنا جس سے متاثرہ شخص کم تری یا ندامت محسوس کرے۔ متاثرہ شخص کو خاندان کے افراد یا دوستوں سے الگ رکھنا ، متاثرہ شخص کو روپے پیسے یا دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی سے محروم رکھنا۔

جسمانی تشدد
جسمانی تشدد جسمانی طاقت کا قصداً ایسا استعمال ہے جس کے باعث (کسی کی) موت واقع ہو جائے، زخمی ہو جائے یا (اسے کوئی اور) نقصان پہنچے۔جسمانی تشدد میں مندرجہ ذیل عوامل کار فرما ہیں تاہم یہ تشدد انہی عوامل تک ہی محدود نہیں۔ خراش پہنچانا، دھکیلنا یا دھکا دینا، گرانا، پکڑنا، کاٹنا، گلہ دبانا ، جھنجھوڑنا، تھپڑ مارنا، مکا مارنا، جلانا ، ہتھیار کا استعمال کرنا طاقت ، سائز یا جسم کی مزاحمت سے پابند کرنا۔

جنسی تشدد کے درجات
جنسی تشدد کو تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے 1) کسی فرد کو اس کی مرضی کے خلاف زبردستی جنسی عمل کے لئے مجبور کرنا، چاہے یہ کاروائی تکمیل تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ 2) ایسے فرد کے ساتھ جنسی روابط قائم کرنا یا قائم کرنے کی کوشش کرنا جو اس عمل کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہو، اس کاروائی میں شمولیت سے انکار کرنے یا یہ بتانے کے قابل نہ ہو کہ اس عمل کے لئے اس کی اپنی مرضی شامل نہیں۔مثال کے طور پر کسی بیماری کی وجہ سے، معذوری یا الکوحل یا کسی ڈرگ کے اثر کی وجہ سے یا کسی خوف یا دباؤ کی وجہ سے۔ 3) آبرو ریز جنسی رابطہ
جنسی تشدد کی تشریح یوں کی جاتی ہے:
کوئی جنسی عمل ، جنسی عمل کے حصول کی کوشش، ناپسندیدہ جنسی فقرے بازی، اقدام، یا ترسیل کا عمل ،کسی فرد کی طرف سے، اس بات سے قطع نظر کہ اس کا متاثرہ شخص سے کیا رشتہ ہے، اس کی جنس کے خلاف جنسی استحصال کی ہدائیت کرنا، کسی بھی شکل میں، گھر یا کام کرنے کے مقام پر یا کسی بھی مقام و حالات میں۔
طاقت کے استعمال کے تمام درجات دست درازی/زبردستی کے زمرے میں داخل ہیں۔جسمانی طاقت کے استعمال کے علاوہ اس میں
نفسیاتی خوف پیدا کرنا، بلیک میل کرنا یا کسی قسم کی دھمکی دینا شامل ہیں۔ مثال کے طور پرجسمانی طور پر نقصان پہنچانے کی دھمکی، نوکری سے نکال دینے ، مطلوبہ نوکری پر تیعنات نہ کرنے کی دھمکی۔یہ اس صورت میں بھی واقع ہو سکتا ہے جب کہ وہ شخص جس کے پر حملہ کیا گیا ہو/جس کے خلاف جارحیت کی گئی ہو، اپنی رضا مندی ظاہر کرنے سے قاصر ہو، مثال کے طور پروہ نشہ کی حالت میں ہو، اس نے ڈرگ لے رکھی ہوں/اس کو ڈرگ دی گئی ہوں، وہ نیند کی حالت میں ہو، یا (کسی وجہ سے) ذہنی طور پر حالات کا ادراک کرنے سے قاصر ہو

عورتوں پر ہونے والا تشدد کسی بھی شکل میں ہو ناقابل برداشت ہے۔ اس کے تدارک کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار اداد کرنا ہوگا۔

اور عورتوں کے تحفظ کے ساتھ حقوق کی فراہمی کے لیے مزید قانون بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت بھی اس حوالے سے کام کررہی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سوچ بدلی گئی یا اس قانون کے مطابق ان کی تربیت کی گئی۔ کیونکہ جو بھی عورت تشدد کا شکار ہوتی ہے، اس کا سامنا سب سے پہلے پولیس سے ہوتا ہے اور ہماری پولیس کا رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔پولیس کے بعد ان کا سامنا ڈاکٹروں سے ہوتا ہے لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ ایسی خواتین کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوتا ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین کے حوالے سے قانون سازی کے باوجود خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب پہلے سے زیادہ خواتین جبر کا شکار ہو رہی ہیں اور بد قسمتی سے ان پر ہونے والے ظلم کا ذمہ دار بھی انہیں ہی ٹہرایا جاتا ہے۔ لہٰذا جب تک مظلوم عورت کو مجرم بنا کر پیش کرنے والی سوچ کا خاتمہ نہیں کریں گے،قانون سازی کے اثرات عام عورت کی زندگی میں نظر نہیں آئیں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سماجی رویے تو پوری طرح سے نظر آتے ہیں لیکن کوئی بھی شخص عورت کو بحیثیت ماں، بیوی ، بیٹی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔