چترال: ڈسٹرکٹ ڈیڈکشن اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، سرکاری اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

چترال: ڈسٹرکٹ ڈیڈکشن اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، سرکاری اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

unnamed

چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ڈیڈکشن اکاؤنٹس کمیٹی کا اہم اجلاس رکن صوبائی اسمبلی اور چئیرمین ڈیڈکشن کمیٹی سلیم خان کی زیر صدار ت ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں تمام سرکاری محکموں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایم پی اے سلیم خان نے محکمہ تعلیم، سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ، صحت، میونسپل ، آبپاشی اور دیگر محکموں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے ہم بڑی مشکل سے فنڈ لاتے ہیں جو یہاں آکر یا تو کمیشن کا شکا ر ہوجاتا ہے یا اس فنڈ سے صحیح کام نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم محتلف مقامات پر نئے سکول تعمیر کروانا چاہتے ہیں یا پہلے سے موجود سکولوں میں نئے کلاس روم بنانا چاہتے ہیں مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے بروقت Feasibility رپورٹ ان کو موصول نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے محکمہ صحت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف چترال ہسپتال میں بلکہ دیگر علاقوں کے محتلف ہسپتالوں میں عوام کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رورل ہیلتھ سنٹر وریجن میں ایکسرے مشین کئی سالوں سے خراب پڑا ہے اور نان کسٹم پیڈ ایمبولینس خریدا گیا ہے جو قانونی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں لاکھوں روپے کی ڈیزل جنریٹر پچھلے حکومت میں لایا گیا تھا مگر ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا گیا ہے جو ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائی پاس روڈ پچھلے پانچ سالوں سے التوا کا شکار ہے اور ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا جبکہ تارکول کا کام بھی اس موسم میں نہیں کرنا چاہئے۔ پبلک ہیلتھ انجنرنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چترال میں پبلک ہیلتھ انجنرینگ کے کوئی بھی آبنوشی کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولین واٹر سپلائی سکیم پر کروڑوں روپے لاگت آئی مگر پائپ لاین نہایت حطرناک طریقے سے لایا گیا ہے جو کسی بھی وقت سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوکر کروڑوں روپے ڈوب سکتا ہے۔ آیون، ارندو، بونی، پرواک میں بھی پینے کی پانی کی منصوبے ابھی تک ناکام نظر آتے ہیں۔

انہوں نے میونسپل انتظامیہ اور سی اینڈ ڈبلیو کے ترقیاتی کاموں میں کمیشن لینے پر نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔زنانہ سکولوں کا حالت بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھی اور استانیوں کی غیر حاظریوں کی بہت شکایت آرہی ہے۔

انہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو متبہ کیا کہ جتنے بھی ترقیاتی منصوبے ادھورے پڑے ہیں انہیں جلد از جلد مکمل کرے ورنہ انہیں مجبوراً کچھ اور سوچنا پڑے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔