سالگرہ مبارک

سالگرہ مبارک

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

darbaar2008

الواعظ نزار فرمان علی

شکرَن للہ ولحمد اللہ،آج روئے زمیں پر پھیلے کروڑوں اسماعیلی مسلمانان عالم اپنے پیارےمولا سرکار نور مولانا شاہ کریم الحسینی کا 78واں سالگرہ مبارک منا رہے ہیں۔بلاشبہ یہ ایک انتہائی متبر ک اور بے انتہا مسرت و شادمانی کا دن ہے اور کیوں نہ ہو ہمارے پیارے مولاسرکارنورمولا نا شاہ کریم الحیسنی حاضر امام بروز اتوار  28رمضان المبارک   1355بمطابق 13 دسمبر 1936ء میں شہر جنیوا میں ولادت پائی۔ آپ کے والد پر نس سلمان خان اور والدہ ماجدہ پرنسس تاج الدولہ جبکہ آپکی دادی جان لیڈی علی شاہ نے آپ کا نام کریم رکھا ۔یقینا آپ اسم بامسمیٰ ہیں۔

سرسطان محمد شاہ آغا خان نے اپنے چشم و چراغ کی بطور خاص اخلاقی ،روحانی و عرفانی پرداخت فرمائی۔ عقیدت و احترام اور عشق و محبت سے سرشار مرید اس یوم الفضل کو گھروں یا مختلف مقامات کی بجائے نہایت سادگی و تواضع کے ساتھ جماعت خانوں میں اجتماعی طور پر مناتے ہیں اور حاضر امام کی قیادت و رہنمائی کی لازوال دولت عطا کرنے پر خداوندذولجلال کا بے حد شکرانہ ادا کرتا ہیں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اس عزم و ارادے کا اعادہ کرتے ہیں کہ دین اسلام کی آفاقی تعلیمات پر آل بنی واولاد علی کے موروثی و نص صریح کے ذریعے نامزد اونچانسویں امام شاہ کریم الحسینی کی تازہ ہدایت کے مطابق اپنی دینی و دنیوی فرائض کو بطریق احسن انجام دیتے ہوئے ملک ، ملت و انسانیت کی بلا امتیاز مثالی خدمات آخری سانس تک انجام دیتے رہیں گی۔ انشاء اللہ عظیم مسلم رہنما آغا خان سوئم کی زیر سر پرستی قران و حدیث ، قدیم مسلم علوم، عربی ، فارسی ، اُردو ویورپی زبانوں پر دسترس حاصل کرینگے۔

حاضر امام اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت، بنی کریم کی سنت ، قران حکیم و ائمہ اطہار کی تابندہ روایات کی روشنی میں اپنے مریدوں کیلئے رہبر کامل ، امت کیلئے متحرک لیڈر اور دکھی انسانیت کیلئے عظیم مسیحا کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی کماحقہ انجام دے رہے ہیں( سبحان اللہ)۔ دنیا کے 70ممالک میں آباد قریباً 20ملین اسماعیلی مسلمان جو مربوط و مضبوط ادارہ جاتی و انتظامی ڈھانچے کے تحت جغرافیائی سرحدات سے بالا تر اسلامی اخوت و بھائی چا رگی کی روح سے شرشار امن، ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر تیزی سے گامزن ہیں یہ کلیدی تنظیمات جن کا کام امام اور مرید وں کے درمیان رابطہ قائم رکھنا ہے تاکہ مریدوں کی مادی و روحانی نشونما میں کوئی خلا پیدا نہ ہو، دوسرا کسی بھی قسم کے افواہوں ، غلط فہمیوں اور بے یقینی صورت حال سے محفوظ رکھا جائے۔ اس ادارہ جاتی چینل کے وساطت سے مریدوں کی تعلیم و تربیت بہتر ین و موثر طور پر انجام پاتی ہے۔ ان جماعتی اداروں کو ایک باضابط آئین بنام دستور شیعہ امامی مسلمان کی اخلاقی حدود میں متحرک رکھا جاتا ہے اس آئین کے ایک ایک حرف کو حاضر امام نے دنیا بھر کے نامدار ادارے کے لیڈروں کی موجودگی میں تشکیل و تکیمل فرمایا جو درحقیقت اسلامی آئیڈیلز، عبادات، اخلاقیات و معلامات کی حسین تصویر ہے جو مرید کی ذاتی ، جماعتی و ملی زندگی میں فرائض و ذمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ اس آئین کی تمام شقوں کا اطلاق دنیا بھر کے مریدوں ، اداروں او لیڈران پر یکساں طور پر نافذ ہوتاہے۔ جس کے مطابق کوئی بھی فرد اسلام کے بنیادی ماخذات ، شخصیات مسالک کے حوالے سے ذاتی تعبیرات کی قطعناً ممانعت ہے۔ وہ کسی مرید، ملت کے فرد یا کسی بھی غیر مسلم کو لعن طعن خارج و داخل از اسلام وغیرہ کسی بھی قسم کی ہتک آمیز انسانی دل آزاری پر مبنی عمل و اقدام کی کوئی گنجائش نہیں ایسی صورت میں سخت تادبی کارووائی کی ہدایت ہے۔

انسانی فلاح و بہود کے راستے پر گامزن علاقائی وبین الاقوامی اداروں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک اپنے ویژن ،مشن اور دوررس ثمرات کے اعتبار سے نمایان و مقدم نظر آتا ہے جس کا منشور دنیا کے ہر معاشرے کے تمام افراد کی مذہبی ، قومی ،خاندانی قید سے بالا تر ہوکر جہالت ، بیماری ، بھوک اور محرومی سے نجات دلانے کیلئے مسلسل کوشان رہناہے۔ حالات جیسے بھی ہوں پذیرائی ملے یا مزاحمت کا سامنا ہو اپنے کام کو عبادت سمجھ کر خلق خدا کے کام آنا بنیادی چیز ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ AKDNکے ۰۸ سے ۰۹ فیصد ادارے غیر منافع بخش مفاد عامہ کے اداروں پر مشتمل ہیں جبکہ دیگر معاشی و صنعتی ترقی سے وابستہ شعبے اسلامی منافع کی روح کے مطابق حاصل کردہ فوائد کو غیر منافع بخش انسانی بہبود کے اداروں پر صرف کیا جاتاہے۔ اور یہی بات آپ کے انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قائم کردہ اداروں کی خاصیت ہے کہ جب کوئی ادراہ وجود میں لاتے ہیں تو پھر لاکھ نقصانات اور مجبوریوں کے باوجود ان کوختم نہیں کرتے بلکہ اپنی جیب سے بھی فراہم کر کے کارخیر کے عمل کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔

آپ کی اُمت اور انسانیت کیلئے ایسی ان گنت بیمثال خدمات کے اعتراف میں ممتاز عالمی مذہبی و سیاسی لیڈرز ، بین الااقومی تنظیموں و انجمون کے اعلی عہدیداروں ،تعلیمی و سماجی فورمز کے نگرانوں، میڈیا و سول سوسائٹی کی نمایاں شخصیات نے متعدد اعزازات ، القابات و خطابات سے نوازا۔ کسی نے آپ کو احترام انسانیت و انسان دوستی کا مثالی نمونہ قرار دیا تو کوئی آپ کو امن کا داعی و عظیم فلاح کا ر کہنے لگا۔ کسی نے جمہوریت کا حامی اور جنگ و جدل کا سخت حریف کی صدا لگائی تو کوئی عہدسا ز مذہبی رہنما ، صاحب نظردانشور و مخلص مصلح قرار دیتا ہے۔ کوئی حقوق انسانی کا علمبردار و مشرق و مغرب کے مابین فاصلوں کو مٹانے والا پل کہتا ہے۔ گو یا آپ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔

مولا نا حاضر امام کو آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تحط دنیا کے غریب ترین ممالک میں امدادی کا ر ہائے نمایاں سر انجام دینے پر ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ڈائی کوا ڈیگا برائیذ دیا گیا تھا یہ بین الاقوامی اعزاز جرمن میں دیا گیا ایسی بیسوں مثالیں قارئین کے علم میں ہونگی۔

کنیڈا کے وزیرا عظم سٹیفن ہارپر نے اسماعیلی سینٹر،آغا خان میوزیم اور ان سے منسلک پارک کی تقریب سنگ بنیاد کے موقع پر8مئی 2010کو ٹورنٹو میں آپ کی خدمت میں شاندار ریمارکس دئیے۔ہز ہائنس اہل کنیڈا کے پاس ایسے کوئی مناسب تعریفی الفاظ نہیں ہیں جو آپ کیلئے اور آپ کے اداروں کے پوری دنیا میں تکثیریت کا فروغ،امن اور ترقی کے کاموں کی ستائش کیلئے بیان کئے جا سکیں۔آپ بہتر دنیا کی امنگوں کو حقیقی معنوں میں فیض بخشتے ہیں ۔آپ انسانیت ،تکثیریت اور برداشت کی اخلاقیات کے روشن چراغ ہیں۔آپ پورے ایشیاء اور افریقہ میں انسانی فلاح وبہبود اور ترقی کے منصوبوں میں فعال طور پر مصروف کار ہیں،عزت مآب ہز ہائنس ہمارے گھر اور ہماری مادری سرزمین پر آپ کو خوش آمدید،یہ اب اور ہمیشہ کیلئے آپ کا اپنا گھر ہے۔ ہز ہائنس کو کینیڈا کی اعزازی شہریت کا فیاضانہ تحفہ پیش کیا گیا۔

نامور کالم نویس جاوید چوہدری 26نومبر 2014کے کالم سچ کا سفر میں لکھتے ہیں۔ اسماعیلیوں کی تین نشانیاں ہیں علم دوستی ،بزنس اور خیراتی ادارے،آپ کیلئے شائد یہ انکشاف ہو مصر کے دارلحکومت قاہرہ کی بنیاد بھی اسماعیلیوں نے رکھی تھی اور جامع الازہر بھی انہوں نے بنائی تھی۔جاوید چوہدری مزید لکھتے ہیں کہ اسماعیلیوں کے چودھویں امام المعز نے الازہر مسجد اور دنیا کی پہلی اسلامی یونیورسٹی جامع الازہر کی بنیاد رکھی۔

آپ کے جد امجد نے اپنے دور میں اسلامی معاشرے میں قدامت پسند اور ترقی پسند گروہوں کے مابین مخفی تصادم کو تشویشناک قرار دیا تھا ۔ جس کی بنیادی وجہ علماء کو ایک خط پر اور سائنس دانوں کو دوسرے خطوط پر تعلیم دینے کے رحجانات کو خطرناک قرار دیا جس کے نتیجے میں امت کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی جا رہی تھی جس کا حل حاضر امام نے دونوں قسم کے رجحانات رکھنے والون کو ایک ہی پلیٹ فارم پر تربیت دی جائی۔ جہاں دونوں ایک دوسرے کو سمجھ کر پورے معاشرے کیلئے معاون و مدد گار بن سکیں۔

1نومبر 1985کو آغا خان یونیورسٹی اینڈ ہسپتال کراچی کے افتتاح کے موقع پر اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے حاضر امام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا “ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان ایک بہت ہی پرکشش پھول کی مانند ہیں جس میں بہت زیادہ خوشبو ہے اور اس خوشبو کو حاصل کرنے کیلئے کئی شہد کی مکھیاں ان کے گرد منڈلا رہی ہیں۔

بلا شبہ حاضر امام نے مسلم دنیا کی تعلیمی،فنی و تکنیکی ضروریات کی تکمیل ،مغربی تعلیمی اداروں کے مقابلے میں ایسے اعلیٰ معیاری یونیورسٹی کے قیام پر زور دیا جو نئے حالات و رجحانات کے موافق تحقیق و جستجو کو فروغ دیں۔یہاں پر بننے والے اکیڈمیز اور جامعات کا نصاب مغرب زدہ نہ ہو بلکہ ایسا منفرد نصاب وضع کیا جائے جو قوانین فطرت اور مسلم روایات کے عین مطابق ہوں۔جس کے فارغ التحصیل افراد مختلف میدانوں میں ماہرین و مفکرین جونالج کنزیومنرز کی بجائے نالج پروڈیوسرز بن جائیں۔امام خواہش رکھتے ہیں کہ ماضی کے عظیم مفکرین و دانشوروں جیسے ابن سینا، ابن رشد،جابربن حیان، فارابی، الکندی، البیرونی،ناصر خسرہ، اور ابن خلدون کے علمی میراث کو نئی صدی کی اعلیٰ اور جدید نہج تک پہنچائے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیک وقت سائنسی و دینیاتی علوم میں ماہر اور دنیا کے لئے لازول خدمات انجام دی جس پر اہل مغرب کو بھی فخر ہے۔ اسی طرح دینی ودنیاوی زندگیوں میں توازن و ہم آہنگی اور گہر ی تسخیر ہی میں مسلمانوں کی کامیابی کا رازپوشیدہ ہیں۔

میں اپنے مضمون کا اختتام دنیائے اسلام کا خاموش شہزادہ کے مصنف سید آصف جعفری کے ان الفاظ کے ساتھ کرتا ہوں “ہز ہائنس نے دنیا کے جس ملک اور جہاں بھی خطاب فرمایا وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہےوہ اسلامی ثقافت و تہذیب ،مسلمانوں کی یگا نگت ،ترقی اور نئے علوم کے حصول پر زور دیتے رہے،ان کے خطبات بذات خود علم کے شہ پارے ہیں انہوں نے جہاں کہیں بھی کوئی بھی خطبہ دیا عالم اسلام کی فلاح واتحاد کی بات کی،کوئی فلاحی ادارہ بنایا تو تمام مسلمانوں کا حق تسلیم کیا،اور تجارت کے راستے دیکھائے تو کہی فرقہ کا تعصب نہ ابھرا،ان کی گفتگو میں جو سلاست ہے وہی ان کی سچائی کی علامت اور شہادت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔