چترال: تکنیکی اور فنی تعلیم وقت کی اہم ضرورت: مشاورتی اجلاس

چترال: تکنیکی اور فنی تعلیم وقت کی اہم ضرورت: مشاورتی اجلاس

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) موجودہ دور میں تکنیکی اور فنی تعلیم کو فروغ دینا اہم ضرورت ہے تاکہ معاشر ے میں لوگوں کو ہنر مند بنا کر اپنے پائوں پر کھڑ ا کیا جا سکے۔ تکنیکی اور فنی تعلیم کو فروغ دینے کے حوالے سے چترال میں مقامی غیر سرکاری ادارے انٹگریٹڈ رورل اپلفٹ پروگرام (IRUP)کے آفس میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جسمیں ادارے کے بورڈ ممبران، مقامی صحافی ، سول سو سائٹی کے نمائندوں اور علماء کرام نے شرکت کی۔


خوش قسمتی سے اب حکومت پاکستان کے ایک ذیلی ادارہ TUSDEC نے چترال میں تکنیکی اور فنی تعلیم کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں شروع کرنیکا فیصلہ کر لیا ہے اور IRUPٹسڈک کے ساتھ ملکر اس سلسلے میں کام کریگی


مشاورتی اجلاس چترال میں تکنیکی اور فنی تعلیم کے شعبے کو ترقی دینے کے حوالے سے ایک قابل عمل پروگرام ترتیب دینے کے حوالے سے بلائی گئی تھی۔ اس موقع پر مشاورتی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے مقامی ادارے IRUPکے فوکل پرسن کمال عبدالجمیل نے شرکاء کو تکنیکی اور فنی تعلیم کی اہمیت اور چترال میں اسکی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے چترال میں اس حوالے سے کام کرنیوالے بڑے اداروں بالخصوص اے کے آر ایس پی اور ایس آر ایس پی کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے بتا یا کہ خوش قسمتی سے اب حکومت پاکستان کے ایک ذیلی ادارہ TUSDEC نے چترال میں تکنیکی اور فنی تعلیم کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں شروع کرنیکا فیصلہ کر لیا ہے اور IRUPٹسڈک کے ساتھ ملکر اس سلسلے میں کام کریگی۔

مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے چترال میں تکنیکی اور فنی تعلیم کو کامیابی کیساتھ چلانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ اس سلسلے میں فیصلہ کر لیا گیا کہ ضلعی حکومت کی سرپرستی میں چترال میں کام کرنے والے اداروں اور تکنیکی ادارو ں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے جو کہ اس پسماندہ ضلع میں اس شعبے میں کام کر سکے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد ضلعی انتظامیہ کیساتھ میٹنگ منعقد کرکے اس حوالے سے کام کو تیز کیا جائیگا۔

اجلاس میں شرکاء نے چترال میں سرگرمیاں شروع کرنے پر ٹسڈکTUSDECکا شکریہ ادا کیا۔ مشاورتی اجلاس میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ تربیت فراہم کرنیوالے ادارے صرف بڑے قصبوں پر توجہ نہ دے بلکہ ایسے علاقوں میں بھی تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے جہاں مواقع کم ہوں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔