چھوٹی چھوٹی باتیں

چھوٹی چھوٹی باتیں

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatبڑے بڑے لوگ بڑی بڑی باتیں لکھتے ہیں ۔سیاست پہ،حکمرانوں پہ،پالیسیوں پہ،محکموں پہ،حالات پہ، نظریات پہ، ملکوں پہ، مستقبل پہ، خطاوں پہ، مشوروں پہ، کاروبار پہ، تعمیرو تخریب پہ۔۔۔۔پڑھنے والے بڑے لوگ یہ سب کچھ پڑھتے ہیں۔

ہم چھوٹے لوگ چھوٹی چھوٹی باتیں لکھتے ہیں۔۔۔پھولوں کانٹوں پہ ،چرندوں پرندوں پہ، دریاوں آبشاروں پہ،آنسووں مسکراہٹوں پہ ،چہروں رخساروں پہ،الفاط آواز پہ، احساس اظہار پہ، تعریفوں تضحیکوں پہ، ماوں بیٹیوں پہ،بہنوں بھائیوں پہ ،رشتوں ناتوں پہ، غموں خوشیوں پہ، ادبار افلاس پہ، سورج چاند پہ، روشنی اندھیرے پہ، دن رات پہ، صبح شام پہ، لہروں کناروں پہ، آہوں سسکیوں پہ، پانی آگ پہ۔۔۔۔ہمارے پاس دھڑکنوں کی زبان ہے۔ جب دل دھڑکتا ہے تو یہ دھڑکن الفاظ بن جاتی ہیں۔الفاظ قلم کی امانت ہیں۔یہ لکھاری سے قاری تک کا راستہ ہیں۔ہم گھر آنگن لکھیں گے تو گھر کے اندر زندگی کو بھی لکھیں گے۔ہمیں شاہراہوں اور محلات سے زیادہ گلی کوچوں سے پیار ہے۔

ہمیں چمکتی گاڑیوں سے زیادہ پُرانی ٹیکسی میں ایک دوسرے کو دھکہ دے کے بیٹھنے سے پیار ہے، کرایے پہ لڑنے سے پیار ہے۔ ہم بھوک اور پیاس سے لطف اندوزہوتے ہیں۔ ہمارا دسترخوان صرف دال روٹی سے سجتا ہے تو شکرادا کرتے ہیں۔ ہم اٹھلاکے چلتے ہیں۔ ٹیک لگاکے بیٹھتے ہیں۔

سرہلا ہلاکے بات نہیں کرتے، اَن جان بن کے پوچھتے نہیں، بہرے بن کے سنتے نہیں، وعدہ کرکے بھولتے نہیں، دکھ دے کر خوش نہیں ہوتے۔

ہمارے جوتے پھٹتے ہیں تو گانٹھ لیتے ہیں۔ کپڑے پھٹ جائیں تب نیاکپڑا خریدنے کی فکر ہوتی ہے۔ہم دکانوں میں چیزوں کی قیمتیں پوچھا کرتے ہیں۔اکثر جیب کے اوپر ہاتھ رکھے بغیر کچھ خریدنے نکلتے نہیں۔ ہمیں انصاف کی تلاش رہتی ہے کیونکہ ہم ظلم نہیں کرسکتے اور نہ ہی ظلم سہ سکتے ہیں۔ہم نے بہت ساری دعائیں اور التجائیں یاد کررکھی ہیں۔ ہم دعا دینے میں بخل نہیں کرتے اور التجا کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ہم خوشی سے مرتے ہیں کیونکہ ہم مرمر کے جیتے ہیں۔ہم کسی دفتر میں داخل ہونے کے آداب سے ناواقف ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں باہر اپنی باری کا انتظار رہتا ہے۔ہم افسر کا موڈ نہیں سمجھ سکتے صرف یہ پتہ ہے کہ افسر کا غصہ خطرناک ہوتا ہے۔

ہمیں دن راتوں کے شمار کا پتہ نہیں ہوتا۔ہم سورج کو بھی ’’دھوپ‘‘کہتے ہیں۔نسیم سحر کو بھی ’’ہوا‘‘کہتے ہیں۔کیونکہ ہم جھلتی دھوپ میں یاتو کھیت کھیلیانوں میں ہوتے ہیں یا کارخانوں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ہم پسینہ پونجھتے ہیں اور دھوپ کو ملامت کرتے ہیں۔ ہمیں جگنوئوں اور پروانوں سے پیار ہے۔اندھیری رات میں باہر جگنو دیکھ کر آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں اور اندر موم بتی کے لو میں پروانوں کو گرتے دیکھ کر دل دھڑکتاہے۔ہم نے بجلی کے فائدے نہیں بحران کا بہت سنا ہے، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں تو کرایے کم ہوتے ہیں۔ہم ایک دوسرے کو خوشخبری سناتے ہیں۔ کرایے کم ہونے سے بیشتر تیل کی قیمتیں پھر بڑھتی ہیں ۔ہمیں کافی افسوس ہوتا ہے۔ہمیں پتہ نہیں کہ تیل کی قیمتوں کا کرایے سے کیا تعلق ہے۔ملک خدادادپر کوئی آفت آجاے تو بڑے لوگ تبصرہ کرتے ہیں ہم آنسو بہاتے ہیں۔

کوئی بہادر سپاہی سرفروشی کی داستان رقم کرتا ہے تو بڑے یہ اس کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں، ہم دل پکڑکے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے آنسو ہمارے بہت کام آتے ہیں۔ بڑے دل شاید دھڑکتے کم ہیں ہمارے یہ چھوٹے دل دھڑکتے بہت ہیں۔۔۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لکھتے ہوئے عجیب لگتا ہے کہ یہ زندگی اتنی عجوبہ کیوں ہے۔اس ’’زندگی‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں۔اس کے حسِین لمحات کوکوئی شمار نہیں کرتا۔ سب بیداری میں خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں جس سے اس کی رعنائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔لیکن جہاں زندگی عذاب میں ہو وہاں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔اگر کوئی حسین لمحہ گذرے تو یادگار بن جاتا ہے۔اس کو بچپن ،لڑکپن،جوانی،بڑھاپا،تندرستی،بیماری اور امیری غریبی وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔شکر،صبر وغیرہ کی تلقین کی جاتی ہے اور ان کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔۔۔
بس میری دھڑکنیں تیز ہونے لگی ہیں اللہ میری پاک سرزمین کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔