ایک مخلص طبیب

ایک مخلص طبیب

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر

طب ایک مقدس شعبہ ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے اس پیشے کو تجارت بنایا ہے ۔

لیکن آج کے اس دور میں ایک طبیب ایسا بھی تھا جس سے اس شعبے کوعبادت سمجھ کر لوگوں کی خدمت کی اور آخری سانس تک اپنا فرض نبھایا۔اور پھر اس امانت کو اپنے پوتے کے سپرد کرکے اس دارفانی سے کوچ کرگۓ۔

وادی گوجال کے گاؤں گلمت سے تعلق رکھنے والے ظفر اللہ بیگ جن کے دادا مرحوم خیر اللہ بیگ اور ان کے والد  مرحوم عطااللہ بیگ ہڑی و جوڈ کے ماہر تھے اور پھر انھوں نے یہ ہنر امانت سمجھ کر اپنے بیٹے ظفر اللہ بیگ کے سپرد کیا تھا ۔

مرحوم ظفر اللہ بیگ کی ایک یاد گار تصویر (بشکریہ. بیگ پامیری)

مرحوم ظفر اللہ بیگ کی ایک یاد گار تصویر (بشکریہ. بیگ پامیری)

ظفر اللہ بیگ پولو کے کھلاڈی بھی تھے اور گاؤں یرزریچ کے نمبردار بھی تھے لیکن ان کی اصل پہچان ایک طبیب کی تھی جو بلا معاوضہ فی سبیل اللہ لوگوں کا علاج کرتے تھے  اور اپنے پیشے میں وہ کمال کا مہارت رکھتے تھے۔اور ان کے ہاتھ میں خدا نے شفا بھی دی تھی جس سے ہزاروں لوگوں کا علاج ممکن ہوا ۔ 21دسمبر کو ان کی طبعت خراب ہوئی تو ہنگامی توڑ پر انہیں گلگت لے جائیگا جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گۓ۔ان کی عمر 86 سال تھی ۔

گوجال چونکہ ایک پہاڈی علاقہ ہے اور یہاں اکثر حادثات ہوتے رہتے ہے ایسے میں شاہد ہی کوئی ایسا شخص ہو جو ان کے پاس علاج کے لیے نہیں آیا ہوگا یا اس نے جس کا علاج نہیں کیا ہوگا۔

گلگت بلتستان کے علاوہ چترال ،مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے لوگ ان کے پاس علاج کے لے آتے تھے `دوران علاج ان کی خاطر تواضع بھی کیاجاتا تھا اور اکثر جو دور سے آتے تھے ان کے لیے اپنے گھر میں  قیام کا بھی بندوبست کیاگیا تھا ۔

بہت سے لوگوں کو معذوو ہونے سے بچایا گیا۔اور بہت سے ایسے لوگوں کا علاج کیا جو ہسپتال سے مایوس ہوکر نکلے تھے کہ شائد اب وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگۓ۔

میں خود ان کے پاس علاج کے لیے گیا ہوں  انہوں نے میرے پاوں اور انگلی کا روایتی طریقے سے علاج کیا تھا آج تک میرے پاوں اور انگلی بالکل ٹھیک ہے ۔ اس کے علاوہ میرا ایک دوست جوسیڑھی سے گر گیا تھا ان کے بازو ٹوٹ گیا تھا وہ گلگت گیا ایک مہینہ تک ڈاکٹرز نے ان کا علاج کیا اور ان کو بتا یا گیا کہ اب ان کے بازو مکمل سیدھا نہیں سکے گا اور یہ ٹیڑھا ہی رہا گآ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔وہ مایوس ہوکر واپس لوٹا ایک دن ان کا ملاقات ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوا جس کا علاج مرحوم ظفر نے کیا تھا اس نے ان کو مشورہ دیا کہ اس کا علاج ظفر مرحوم کے پاس ہے وہ ان کے پاس گیا اور اس نے دوبارہ اس کے بازو کو توڈ کر دوبارہ جوڈا اور ان کے بازو نہ صرف سیدھا ہوگیا بلکہ وہ اس سے کام بھی کرتاہے.

ایسے بہت سارے مریض ہیں جن کو ڈاکٹرز نے معذور قرار دیا تھا لیکن مرحوم نے ان کو معذور ہونے سے بچایا۔جس طرح کراچی میں ڈاکٹر محمد علی شاہ مرحوم ہڈی و جوڈ میں مہارت رکھتا تھا اور مشہور تھا اسی طرح گوجال کا محمد علی شاہ مرحوم ظفراللہ بیگ تھا  اس کے علاوہ ایک اور چیز ان دونوں میں مشترک تھی کہ دونوں کو کھیل سے بہت زیادہ دلچسپی تھی ڈاکٹر محمد علی شاہ کو کرکٹ بہت پسند تھا اور مرحوم ظفر کو پولو پسند تھا بلکہ کھیلتا بھی تھا۔ لیکن ان دونوں میں ایک فرق یہ تھا کہ ڈاکٹر محمد علی شاہ مریضوں سے فیس لیتا تھا اور ظفر اللہ بیگ فی سبیل اللہ یہ کام کرتا تھا۔

ہسپتال اور کلینک کی طرح مرحوم ظفر کا کوئی اوقات کار نہیں تھا مریض کسی بھی وقت ان کے گھر آتے تھے اور اپنا علاج کرکے چلے جاتے تھے۔ دوردراز سے آنے والے مریض صبح سویرے پبلک ٹرانسپورٹ کے زریع ان کے گھر پہنچ جاتے تھے اور وہ عبادت سمجھ کر ان کا علاج کرتا تھا۔ جب بھی جس وقت بھی ان کو اطلاع ملی کی کوئی مریض آیا ہے تو اپنے ذاتی کام اور گھر کے کام کاج اور شادی بیاہ کی تقریب کو ادھورہ چھوڈ کر بلکہ پس پشت ڈال کر اس نے لوگوں کے علاج کو ترجیع دیا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ  خدا نے ان کے خدمت کے عوض ان کے بچوں کو اچھے رتبے سے نوازا ہیں۔

1995 سے لے کر ٢٠٠٩ تک ان کے بچوں نے ان مریضوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا ہے جنہوں نے مرحوم ظفر اللہ بیگ کے ہاتھوں شفاحاصل کیا. اس سے پہلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور ان پندرہ سالوں میں ان کے  ریکارڈ کے مطابق تقریبا  40000 ہزار لوگوں کا علاج کیا گیا ہے. ان میں سے زیادہ تر افراد ان کے گھر آکر علاج کروا چکے ہیں، جبکہ بہت ساروں کو راہ چلتے علاج مہیاکیا گیا ہے اور ان لوگوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے  جو ان کے پاس کراچی، اسلام آباد، گلگت، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں علاج کی غرض سے آتے رہے.

22دسمبر کو جب مرحوم کا جنازہ اٹھا توسخت سرد موسم میں  ہزاروں  کی تعداد میں لوگوں نے  ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔اور بہت سے آنکھ اشکبار تھے اور اس ہاتھ سے ان کے جنازے کو کاندھے دے ریے تھے جس کا مرحوم نے علاج کیا تھا یا اس پاوں پہ کھڑے تھے جس کا مرحوم نے علاج کیا تھا۔۔آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی خدمات کو برسوں یاد رکھا جاۓگا۔

 مرحوم نے اس امانت کو اپنے حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے اپنے پوتے معزاللہ بیگ کو یہ ہنر سکھایا جو بخوبی یہ کام کررہا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔