شرفو جوان ہو گیا مگر کمبخت۔۔

شرفو جوان ہو گیا مگر کمبخت۔۔

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Sher Ali Anjum ایک لکڑہارا تھا وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور اسے فروخت کرکے خاندان کی کفالت کرتا تھا اُسکا ایک بیٹا شرافت جسے ماں باپ پیار سے اُسے شرفو کے نام سے پُکارتے تھے۔اکلوتا ہونے کی وجہ سے والدین بڑا لاڈ پیار دیتا اُسے کسی بھی قسم کا کام کرنے نہیں دیا جاتا ،بس اسکول جانا اور واپسی میں ماں کے ہاتھ سے کھانا کھا کر کھیل کود ہی اُس کا مشغلہ تھا۔باپ دن بھر لکڑیوں کا کام کرکے تھک ہارکے جب گھر پونچتے تو شرفو کے شرارتوں کی کہانیاں سُن کر بڑا خوش ہوتا بیٹے کی محبت میں مخبوط والدین نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ اُنکے اوپر بیٹے کی بہتر تربیت کے حوالے سے بھی کچھ معاشرتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے والدین کی اس عامیانہ سوچ کی وجہ سے محنت مشقت اورمعاشرتی ذمہ داریوں کی باتوں کو شرفو عار سمجھتے تھے۔ایک وقت ایسا آیا کہ شرفو جوان ہوگیا رسمی طور پر کچھ تعلیمی اسناد بھی حاصل کر لئے، جیسے ہمارے ہاں اسکولوں میں بدنامی سے بچنے کیلئے سب بچوں کو پاس کرتے ہیں، ایسے ہی شرفوکے ساتھ بھی ہوا ۔جس تیزی سے شرفو عالم شباب کی طرف قدم رکھ رہا تھا ایسے ہی رفتار سے لکڑہارا بڑھاپے کی طرف بڑھ رہا تھا یوں ایک دن صبح دسترخوان پر باپ بے بڑے ہی شفیق انداز میں شرفو کی اماں سے کہنے لگے زنژوس (جو اُسکی بیوی کا نام تھا) میں بہت خوش ہوں کہ میرا بیٹا جوان ہو گیا اب میں چاہ رہا ہوں میرا یہ بیٹا گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں کیونکہ اب مجھ میں ہمت نہیں کہ مزید جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر فروخت کروں،شرفو کی اماں کا بھی یہی خیال تھا لیکن شرفو والدین کی بات سُن کر قہقہے لگا رہے تھے والدین نے سبب پوچھا تو کہنے لگے ابو یہ کام نہ تو میں نے کیا نہ آپ نے سکھایا اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں بھی آپ کی طرح روزانہ جنگل جاکر لکڑیاں کاٹوں ، اور نہ ہی میں نے تعلیم پر کوئی دلچسپی دی ہے کہ میں قابلیت کی بنیاد پر کچھ روزگار حاصل کرسکوں اور نہ ہی میں نے دنیا کو دیکھ کر خود سے کچھ سیکھنے کی کوشش ہے ۔

بس یہ سُننا تھا والدین سکتے میں آگئے اور اپنے اوپر ماتم کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اولاد کو جسمانی لحاظ سے تو بڑا کر دیا لیکن اس کے اندر احساس ذمہ داری نہیں ڈالی یہی وجہ ہے کہ آج یہ دن دیکھنا پڑا، دونوں کے منہ سے بے ساختہ دعا نکلی، اے خدا تو ہمیں اتنا عقل کیوں نہیں دیا کہ ہم اس کمبخت شرفو کی معاشرتی تربیت بھی کرسکتے، اب ہم ضعیف ہو گئے ہیں مگر کمبخت شرفو نالائق غیر ذمہ دار ہو گیا ہے۔ قارئین کچھ ایسے ہی صورت حال ہمارے خطے کا ہے ہمارے بڑوں نے نئی نسل کی سیاسی پرورش کی نہ ہی سماجی حوالے سے لوگوں کو شعور دینے کیلئے کوئی کارنامہ انجام دیا ہمارے تعلیمی اداروں میں وہی تاریخ اور کتاب پڑھاتے رہے جو پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی طرف سے چھپ کر آتا تھااسی طرح سیاست دانوں نے نئی نسل جدید دنیا سے متصل ہونے کیلئے شعور اور اگاہی پیدا کرنے کے بجائے صرف انکے مفاد کی باتیں بتا کر عرصہ دراز تک عوام کو گمراہ کئے رکھا ،صحافتی حوالے سے بات کریں تو میڈیا کا یہاں کوئی وجود ہی نہیں تھا جو لوگ ریڈیو پاکستان پر سرکاری خبریں پڑھتے تھے وہی صحافت کا علمبردار سمجھا جاتا تھا ، اسی طرح وفاقی پولٹیکل ایجنٹس کو ہمارے عوام رہنما مانتے تھے اسی نظام نے جب آگے جاکر کونسل کی شکل اختیار کی تواُس میں شامل عوامی فنڈز کی بندر بانٹ کرنے والے ہمارے خطے کے سیاست دان کہلانے لگے۔

تاریخ گلگت بلتستان حالانکہ ماضی بعید اور قریب میں وسیع اور روشن تاریخ رکھتے ہیں لیکن تقسیم برصغیر کے بعد جس طرح اس خطے میں جعرافیائی تبدیلی آئی ان میں انقلاب گلگت بلتستان بھی نمایاں حیثیت رکھتے تھے لیکن اُس وقت بھی ذہنی پستی کا یہ عالم تھا کہ لوگ حکمران بننے کے بجائے اسلام آباد سرکارکی منشی بننے پر راضی ہو گئے جبھی تو انقلاب گلگت بلتستان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔آج بھی جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں وہی سازشی ٹولہ سرگرم ہوکر حقوق کی جنگ سے دور رکھنے کیلئے عوام کے اندر بدگمانیاں پیدا کرتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کوآئینی حیثیت مل گئی تویہ خطہ اسماعیلی ریاست بن سکتاہے تو کبھی کہتے ہیں کہ کچھ لوگ آئینی حقوق کی آڑ میں گلگت بلتستان کو چھوٹا ایران بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اسی طرح یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ خطے کو طالبان اسٹیٹ بنانے کیلئے غیر ملکی قوتیں کام کر رہی ہے۔

یہ سب کیوں ہوا اور کس کی ہمت ہوئی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اٹھاسٹھ سالہ یہ ضعیف گلگت بلتستان جس نے کئی سپوت پیدا کئے جو آج سیاست اور سماج میں بڑے نام رکھتے ہیں لیکن ضعیفی کے اس عالم میں ان لوگوں نے اسے کاندھا دیکر اسکی شناخت کو بحال کرنے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے دنیائے خودی میں گم ہوگیا،جبھی تو دھرتی ماں پُکار پُکار کر کہہ رہی ہے شرفو جوان ہوگیا مگر کمبخت نالائق اورغیر ذمہ دار ہوگئے۔مزید حال غم سنائیں تو یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں ہمیں دوسروں کی تاریخ پڑھا کر آج نئی نسل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر ہم ہیں کون ؟ ہماری شناخت کیا ہے؟ ہماری منزل کیا ہوگی؟۔اب اگر موجودہ پرنٹ میڈیا کی بات کریں تو جب خطے میں ایک درجن سے زائد اخبارات کی اجراء شروع ہوئی تو ہم سب خوش ہوئے کہ اب تو میڈیا کی طاقت سے ہم اپنی آواز ایوان اقتدار تک پونچائیں گے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ دو ہزار نو تک سر زمین بے آئین کا نعرہ لگاتے تھے آج دوسروں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں تو کوئی اشتہار کی حصول کیلئے اپنے ہی لوگوں سے قرطاس و قلم چھینے کی باتیں کرتے ہیں۔سمجھ نہیں آرہا کہ اس کمبخت شرفو کو کیا ہوگیاجو دنیا کے انقلابی تحریکوں سے کچھ سیکھنے کے بجائے غلامی کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں بیوقوفی کا یہ عالم ہے کہ کمبخت کوشش کرتے ہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے بجایا جائے مگر وہی ہاتھ پلٹ کر اپنے چہرے پر لگتا ہے تو یہ سوچ کر خاموش ہوجاتا ہے کہ اپنا ہی ہاتھ ہے کوئی بات نہیں۔

جی اپنے ہی لوگوں نے آج گلگت بلتستان کی تاریخ کوعلاقائی تعصب، مذہبی تفرقہ بازی، ذاتی عناد اور مفاد اور ذہنی پستگی کے سبب مسخ کر کے رکھ دیا جس کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ کوئی نہ کوئی منہ اُٹھا کے اس جنت نظیر خطے پر دعویٰ کرنے چلے آتے ہیں۔ کبھی چین پاکستان کا حصہ ہونے کا تصورکرتے ہیں تو کبھی ہندوستان اپنا حصہ مانتے ہیں ،تو کبھی کشمیر، تو کبھی پاکستان، یہ سب شرفو کی نا لائقی کے سبب ہے کیونکہ کمبخت کوگھر کی فکر نہیں البتہ باہر کی باتیں بڑی کرتے ہیں ۔ اس کمبخت نے انقلاب گلگت بلتستان کو اپنی انکھوں سے دیکھ کر بھی اگلی نسل تک منتقل کرنے کیلئے کردار ادا نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ آج تاریک منزل کو دیکھ کر ہم سب پریشان ہیں کیونکہ ہمیں نہ پاکستان مکمل طور پر قبول کرنے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی جموں کشمیر کا حصہ ہونے کے دعویدار لوگ شراکت اقدار کیلئیراضی ہے ۔آخر کب تک؟؟ غور فکر کرنے کی ضرورت ہے ہمارا مسلہ یہ نہیں کہ کس کا مسجد یا جماعت خانہ کتنا بڑا ہے بلکہ قومی شناخت کا حصول ہماری اولین ضرورت ہے ہمارا مسلہ یہ بھی نہیں کہ پاکستان کیلئے لڑ کر شہید ہونے والے جوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے بلکہ ہمیں اُس شہید کے خون کے عوض شناخت کی ضرورت ہے۔لہذا خطے کی جعرافیائی اہمیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک منظم اندازسے تمام فریقین کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرانے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے مراعات یافتہ حکمران، فضلہ خور میڈیا اور سول سوسائٹی میں موجود نام نہاد لوگ ہمیشہ کی طرح مستقبل میں بھی گلگت بلتستان کی اٹھائیس ہزاز مربع میل رقبے کوسات ہزار مربع میل کی جولی میں ہدیہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔اللہ ہم سب کوقومی حقوق کیلئے ملکر جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔