فکرِ فردا …… تاریخِ چترال کے پوشیدہ اوراق

فکرِ فردا …… تاریخِ چترال کے پوشیدہ اوراق

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کریم اللہ

زمانہ قدیم سے برصغیر میں تاریخ نویسی کا المیہ یہ رہا کہ حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سائنسی اصولوں پر قلم کاری کی بجائے تاریخ کو بحیثیت مضمون نظریاتی مخالفین کو کچلنے جبکہ ہم نظریہ لوگوں کو مابعد الصبعیاتی انداز سے دیوتا بنا کر پیش کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست ہے کہ تاریخ کسی معاشرے کا مکمل عکس ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تاریخ بادشاہوں کی ثناخوانی اور جھوٹے حوالوں سے مزین ہے یہی قصہ ہندوکش اور ہندوراج کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع خطہ چترال پر بھی صادق آتا ہے زمانہ قدیم کو چھوڑئیے زمانہ حال میں بھی تاریخ پر یا تو تحقیق نہ ہونے کے برابر ہوئی اگر چھوٹی موٹی تحقیقات ہوئی تو بھی بدقسمتی سے وہ ماخذات او ر تاریخی تصانیف سرے سے ناپید ہے چترال کے کسی بھی بڑے تعلیمی درسگاہ اور لائبریز میں تاریخ چترال کی کتابین موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ نئی نسل اپنی تاریخ سے ناواقف اندھیرے راستوں میں بھٹک رہے ہیں لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ تاریخ کے اوراق پر پڑی اس گرد کو ہٹا کر اصل حقائق ان کے سامنے لائے تاریخِ چترال پر روشنی ڈالتے ہوئے نامور مورخ پروفیسر رخمت کریم بیگ اپنی کتاب ’محاصرہ چترال کی کہانی رابرٹ سن کی زبانی‘ میں رقم طراز ہے ’’چترال کی پرانی تاریخ دلچسپ تو بہت ہے مگر قتل وغارت اور خون آلود بھی بہت ہے اس میں خاندانی جھگڑے ،باپ کے ہاتھ بیٹے کا قتل ،بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل ہر طرف خونریزی تھی اور فراخدلی سخاوت اچھے تعلقات نام کی کوئی چیز نہیں تھی غداری سازش وغیرہ ان کی سیاست کی گھتی میں پڑی تھی اور دنیا کے اس حصے میں بھی دوسری ریاستوں کی طرح جتنا کوئی بدمعاش ہوتا اتنا ہی کامیاب سمجھا جاتا تھا‘‘۔(محاصرہ چترال کی کہانی رابرٹ سن کی زبانی صفحہ نمبر 23)

کریم اللہ

کریم اللہ

چترال کی موجود ہ تاریخ میں شاہ امان الملک کو بڑا مہتر (لوٹ متار) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے شاہ امان الملک 1857کو ریاستِ چترال کا حکمران بنا ’’1857میں تخت چترال پر جو شخص جلوہ افروز ہوا وہ کئی لحاظ سے نمایاں شخصیت کا مالک تھا وہ بہت نامور شخص تھا مگر اس وقت ان کے پاؤں اسی خون میں پھسل رہے تھے جو انہوں نے بہایا تھا ان کا نام امان الملک تھا جو کہ چترا ل کی تاریخ میں عظیم مہتر (لوٹ متار) کے نام سے مشہور ہے وہ ایک بہت مضبوط جسم ،ہیبت ناک خدوخال اور تیز زبان کا مالک تھا مستقبل کے کئی عزائم اس کے ذہن میں جاگزین تھے ان کے سامنے کا میدان بھی نشیب وفراز سے پر تھا‘‘۔’’جب وہ پیداہواتو زرین چترال کے مہترکا منجھلا بیٹا تھا مگر جب وہ 1892ء میں داغی اجل کو لبیک کہہ رہاتھا تو اس وقت وہ اس پورے وسیع پہاڑی خطے کا حکمران تھا جو سلسلہ ہندوکش میں مشرق میں گلگت سے لیکر مغرب میں کافرستان (بشگال) اور وادی کنڑ کے اسمار تک پھیلا ہوا تھا او ر اسکے علاوہ بھی اسکا سایہ آس پاس داریل ،تانگیر اور کافرستان پر چھایہ ہواتھا ‘‘(محاصرہ چترال صفحہ 24)۔ شاہ امان الملک کے دورِ حکومت میں ریاستِ چترال کی سرحدین پھیلتی گئی ساتھ ہی ساتھ اسی دور کے ظلم و بربریت اور رعایا سے انسانیت سوز سلوک کی داستانین بھی تاریخ کے اوراق کا سیاہ دھبہ بن چکے ہیں بردہ فروشی جیسے مکروہ عزائم اس دور میں عروج کو پہنچی چترال کی خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں جلال آباد،کابل اور پشاور کے بازاروں میں فروخت ہونے لگی یہی بردہ فروشی ریاستی ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ تھا الجرنن ڈیورنڈ کے مطابق ’’ایک اچھے قدوقامت کے مالک مرد کی قیمت 100 روپے خوبصورت خدوخال کے لڑکی کی قیمت 200 سے 250 اور عام لڑکے اور لڑکیاں80روپے تک فروخت ہوتی تھی (The Making of Frontiers by Algernan Durand pg 51,52)

بالاآخر 1892ء کو اپنی تمام تر جاہ وجلال کے ساتھ شاہ امان الملک ابدی نیند سو گئے تو اس عظیم والشان سلطنت کی بھاگ ڈور سنبھالنے کے لئے مہتر کے بیٹو، بھائیوں اور خاندان کے دوسرے افراد کے درمیان خون ریز جنگیں شروع ہوئی جس کی وجہ سے ملک شدید طوائف الملوکی کا شکارہوگئی یہ خانہ جنگی 1892ء سے لیکر1895ء تک جاری رہا اس دوران تختِ چترال پر قبضے اور حکمرانی کے نشے میں پانچ حکمران قتل ہوئے 1895ء کو انگریزوں کے کئی ماہ کی کوششوں اور ڈپلومیسی کے نتیجے میں چترال میں اس وقت امن بحال ہوئی جب انگریزوں نے 14 سالہ شجاع الملک کو چترال کی حکمرانی تفویض کر دی اگرچہ امان الملک کی وفات اور انگریزوں کی آمد کے بعد چترال میں بردہ فروشی اور غلاموں کے تجارت وغیرہ ختم ہوگئی تھی البتہ اسکے بعد چترال کی تاریخ کا ایک اور خون آشام دور شروع ہوا1895ء کو مہتر کی کم سنی کا بہانہ بنا کر انگریزوں نے مستوج، غزر یاسین تاحد پونیال کے علاقے جو کہ ریاست چترال کا حصہ تھے کو علیٰحدہ کر دیا اور یوں یہ پہلا موقع تھا جب ہندوکش اور قراقرام کے پہاڑی سلسلوں میں موجود تمدن وثقافت کے سینے میں چھری گھونپ دی گئی اسکے بعد علیٰحدگی اور دوریوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ہنوذ جاری ہے اگر چہ اعلیٰحضرت سرشجاع الملک کی کوششوں سے 3جو ن1914ء میں مستوج کو دوبارہ ریاست چترال میں ضم کر دیا گیا البتہ غذر اوریاسین کو علیٰحدہ ہی رکھا گیا۔

بغاوت مستوج 1917ء

چونکہ امان الملک کا دور ظلم وبربریت سے لبریز تھا لیکن یہ ظلم مذہبی ومسلکی تعصب کی بنیاد پر نہیں تھا مدتوں سے ریاست چترال کے اندر سنی اور اسماعیلی مل جل کر پر امن اور بھائی چارگی سے زندگی گزار رہے تھے البتہ سرشجاع الملک نے چترال میں مذہبی ومسلکی تعصب اور نفرتوں کی بنیاد رکھنے والا پہلا ریاستی حکمران ہے 1914ء میں مستوج کو دوبارہ ریاستِ چترال کے ساتھ الحاق ہوا چونکہ اس علاقے میں اسماعیلیوں کی اکثریت تھی لہذا تعصب کی بنیاد پر مہتر چترال نے یہاں کے عوام پر ناجائز ٹیکس (عشر) عائد کر دیا جس کے نتیجے میں علاقے کے عوام میں حکمرانوں کے خلاف نفرت کا عنصر پھیلنا شروع ہوا’’ شجاع الملک کے زیرِ سایہ ریاست نے اپنے تاریخ کے مذہبی رواداری سے انحراف کی پالیسی پر گامزن ہوگئے مہتر شجاع الملک اور ان کے اسماعیلی رعایا کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوگئی جب ان پر ناجائز ٹیکس (عشر)عائد کر دیا 1917میں ضلع مستوج میں ریاستی انتظامیہ کے عائد کردہ ان ٹیکسز کے خلاف اسماعیلیوں نے مزاحمت کی یہ مزاحمت انتہائی غیر فطری اور تواقعات کے بالکل برعکس تھا ‘‘(A Study of Statecrafts by Pro Rehmat Karim Baig pg 88)۔ اس بغاوت کی قیادت مستوج چوئنچ کے رہائشی سید پیر بلبل شاہ کر رہے تھے بلبل شاہ ایک نامور اسماعیلی راہنما تھے لیکن بدقسمتی سے ریاستی جبر کا جواب انہوں نے مذہبی بغاوت کی صورت میں دینے کی کوشش کی یا اسی تحریک کو بدنام کرکے ناکامی سے دوچار کرنے کے لئے ریاستی حکمرانوں نے اسے مذہبی رنگ دے کر بلبل شاہ کو ایک متعصب اور نفرت انگیز راہنما کے طورپر پیش کی جسکی وجہ سے اس کی شہرت داغدار ہوگئی چونکہ اس تحریک کی کامیابی کے ویسے بھی چانسز بہت کم تھے کیونکہ جس علاقے کے باشندے آج کے سائنسی دور میں بھی اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کو شجر ممنوعہ گردانتے ہوان سے 100سال قبل کٹور خاندان کی جبر کے خلاف منظم انقلابی کوشش کی توقع احمقانہ سوچ کے مترادف ہے سو اس بغاوت کو ناکام ہونا تھا ناکام ہوگیا جسکی پاداش میں پیر بلبل شاہ کو خاندان سمیت بدخشان میں جلاوطن کر دیا گیا جبکہ اسماعیلیوں کے گرد مزید گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا 1924میں مہتر شجاع الملک حج سے واپسی کے بعد بڑے زور وشور سے اسماعیلیوں کو ان کے آبائی مذہب سے نکال کر سنی اسلام میں داخل کرنے کے لئے سخت گیر اقدامات اور ظلم وستم کا سلسلہ شروع کیا یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا بالاآخر 1926ء میں انگریزوں کی مداخلت کے بعد مہتر چترال کا اسماعیلیوں پر تشدد کا سلسلہ ختم ہوا ۔

13اکتوبر1936کو سرشجاع الملک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ان کی جگہ ان کا بڑا بیٹا سرمحمد ناصر الملک 14اکتوبر1936ء کو مہترِ چترال کی کرسی پر براجمان ہوئے بعض روایات کے مطابق مہترناصر الملک چترال کی شاہی تاریخ کا سب سے تعمیری حکمران گزرا ہے حقائق سے پردہ پوشی ہمارے رگ رگ میں رچ بس گئی ہے اسے چترال کا سر سید بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ایک آدھ سکول قائم کئے تھے یہ روایت زبان زدِ عام ہے کہ یہی سرسید موجودہ سنٹینیل ماڈل سکول کی بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ میں اپنے پاؤ ں میں کلہاڑی مار دیا‘‘ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ 1940ء کو جب اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہائی نس سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کی ڈائمنڈ جوبلی منائی گئی تو اس موقع پر جمع ہونے والے سارے رقم کو بمبئی ،حیدرآباد ،ہنزہ،غذر،چترال اور بدخشان وغیرہ کے پسماندہ لوگوں بالخصوص اسماعیلیوں کی تعلیمی ترقی کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا اسی دور میں ڈائمنڈ جوبلی یا ڈی جے سکول سسٹم بھی مختلف علاقوں میں قائم ہوئے جنہوں نے حیدر آباد، بمبئی،ہنزہ،غذر اور بدخشان کے اسماعیلیوں اوردوسرے کمیونٹی کے لوگوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں کلیدی کردار اداکیا لیکن چترال کے سرسید نے ان ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ عملاََ اسے اسٹبلش ہونے ہی نہیں دیا یہی نہیں سر شجاع الملک کی حکمرانی اسماعیلی کمیونٹی کے لئے تاریخ کا بدترین دور تھا اسماعیلیوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں ناصر الملک اپنے والد شجاع الملک سے دو قدم آگے بڑھے بزورِ طاقت ان کو مذہب سے ہٹاکر سنی مذہب میں داخل کرنے کی مومنٹ شروع ہوگئی ’’دوسری مرتبہ 1936ء کو مہتر ناصر الملک نے اقتدار میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں سنی اسلام کو اسماعیلیوں پر imposeکرنے کا سلسلہ شروع کیا اس مرتبہ مہتر نے ان (اسماعیلیوں) سے جائیداد اور مراغات واپس لے لئے جبکہ اسی ہی دوران convertہونے والوں کو جائیداد، مراغات، پیسے ،کپڑے اور گھوڑوں وغیرہ سے نوازا گیا اس وقت بعض افراد(اسماعیلیوں) نے کوئی مزاحمت نہ کی جبکہ اسماعیلیوں کی اکثریت نے حکمرانوں کے اس طرزِ عمل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنا گھر بار ،جائیداد چھوڑ کر چترا ل سے باہر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ان میں سے بعض بمبئی جہاں ان کے روحانی پیشوا سرسلطان محمد شاہ آغاخان سوئم رہائش پزیر تھے کی جانب چلے گئے بعض مشرقی ترکستان کے علاقے کاشغر،افعانستان کے صوبہ بدخشان کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اسکے علاوہ چترال کے اندر ہی بڑی مقدار میں اسماعیلیوں کے خلاف سماجی بائیکاٹ کیا گیا کئی کئی ماہ تک اس کمیونٹی کو انتہائی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے جیسے روڈ اورپانی کے چینلز تک رسائی سے محروم رکھا گیا،(Study of Statecraft pg 88)۔

کٹور حکمران اور الحاق پاکستان :

سات سال تک ریاست چترال کی حکمرانی کے بعد بالاآخر 29جولائی 1943ء کو مہتر محمد ناصر الملک انتقال کر گئے تو ان کی جگہ ہزہائی نس محمد مظفر الملک تخت نشین ہوئے چونکہ اس دور میں ہندوستان میں آزادی کی تحریکیں زور وشور سے جاری تھی جنکے اثرات چترال پر بھی محسوس ہونے لگے ریاستی حکمرانوں نے اس تبدیلی کو بھانپ گئے یہی وجہ ہے کہ مظفر الملک صاحب نے بھی پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا قائد اعظم کے پاکستان فنڈ میں 40 ہزار روپے کی خطیر رقم بھی جمع کی گئی آج بھی چترال کے عوام اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ چترال پہلاریاست تھا جنہوں نے اسلام کے نام پر پاکستان کی حمایت کی تھی لیکن اس فیصلے کے پسِ پردہ محرکات آج تک اہالیان چترال کی نظروں سے اوجھل ہے درحقیقت مہتر چترال نے پاکستان کی حمایت کر کے اپنے مفادات کی تحفظ کا بندوبست کیا تھا کیونکہ جب پاکستان بننے کے بعد1948ء کو علاقے میں آزادی کی تحریک چلی تو عوام کے اس جمہوری جدوجہد کو کچلنے میں ریاستی حکمرانوں کے ساتھ چترال میں موجود پاکستانی نمائندے نے بھی اہم کردار اداکیا ہے ’’مئی 1948 ء میں اس ہنگامے (چترال میں عوامی شورش پہلے سے جاری تھی)نے جلوس کی شکل اختیار کی عوام دروش،ایون سے چترال آئے اور مظاہرے کئے اورسرکاری حکام کے پاس اپنے مطالبات پیش کئے وزیر اعظم ریاست نے مظاہرین سے ملکر انہیں یقین دلایا کہ تمہاری شکایت رفع کی جائیگی پھر ان کے مطالبات کے بعض حصوں کی معافی کا اعلان بھی کرادیاگیا مگر یہ سیاسی تحریک بدستور جاری رہی پولیٹکل ایجنٹ ملاکنڈ ماہ مئی 1948ء میں خود چترال آئے اورحالات کا معائینہ کرنے کے بعد ہرہائی نس کے چند اہلکاروں کو بھی جنکو عوام ناپسند کرتے تھے برطرف کرادیا اور ساتھ ہی حکومت کے خلاف تحریک کے بانیوں سے مولوی نورشاہدین ومولوی محمد عقیل کو گرفتار کرکے چترال سے دور سرحدوں میں بھیج دیا گیا اسی طرح سیاسی تحریک علامتی طورپر دب گئی مگر ان کے رفقا کی ریشہ دوانیان بدستور جاری رہی‘‘)مرزا محمد غفران نئی تاریخ چترال صفحہ نمبر 241)

’’17 ستمبر 1949ء میں چترال کے پولوگراؤنڈ (جنالی) میں انکا (مسلم لیگیوں کا) ایک بہت بڑا جلسہ ہوا اور اسمیں انہوں نے ریاست میں مکمل ذمہ دار حکومت اور دیگر سوشل وزرعی اصلاحات کا مطالبہ کیا اس موقع پر پیر احسن الدین پولیٹیکل ایجنٹ چترال اور سیف الرحمٰن بھی تشریف لائے ہزہائی نس نے ان کی آواز پر اعلان کیا کہ اگر آپ لو گ ریاست میں اسلامی حکومت شریعت کی بنیادوں پر چاہتے ہیں تو میں تسلیم کرتاہوں کہ ریاست میں شریعت اسلامی جو پہلے سے نافذ تھی وہ بدستور قائم رہے گی اور مکمل طورپر نافذ رہے گا ذمہ دار حکومت کا مسئلہ ریاست کی موجودہ حالت میں نیا سوال ہے جنکے متعلق میں حکومت پاکستان سے مشورہ کئے بغیر اعلان نہیں کر سکتا لوگ اس اعلان سے مطمئن نہ ہوئے اور عام شور مچانے لگے اس پر پولیٹیکل ایجنٹ نے ان کی آواز کو بہودگی سے تشبہہ دی او رہزہائی نس کو ساتھ لیکر وہاں سے واپس چلے گئے ‘‘(غفران، تاریخ چترال 249)

یہ وہی تاریخی حقائق ہے جو کہ کٹور حکمرانوں نے اپنی ظالمانہ حکمرانی کو مزید طول دینے ،حکومت پاکستان سے مراعات حاصل کرنے اور ریاستی جائیداد جو کہ سرکاری ملکیت ہوتی ہے پر قبضہ جمانے کے لئے رچائی اور اس نام نہاد غیر مشروط پاکستان کی حمایت کو تسلیم کرنے کاخمیازہ آج تک عوام بھگت رہے ہیں ڈوگرہ حکمران نے کشمیر کو جس انداز سے عوام کی مرضی کے خلاف بھارت کے ہاتھوں فروخت کیا تھا ٹھیک اسی طرح چترال کے شاہی حکمرانوں نے 14860 مربع کلومیٹر خطے کو بمعہ چالیس ہزار روپے کے پاکستان کی جھولی میں ڈال کر اپنی حکمرانی ،مراعات اور ریاستی جائیداد پر قبضے کی سند بھی حاصل کی یہ وہ بدنام زمانہ معاہدہ تھا جسکے بعد عوام دہری غلامی وپسماندگی کا شکار ہوگئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author